معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔
مذہب، رنگ ونسل اور خون کے سوداگر زندگی کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ اس نئے نظام میں اُن تہذیبی قدروں کے لیے جگہ نہیں ہے، جن کے سائے میں امن وعافیت کے خواب پلتے تھے، جن کی روشنی میں آرزو اور جستجو کے معرکے سَر ہوتے تھے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے ممتاز شاعرہ ملکہ نسیم کو۔
میں اپنے عہد کے مسائل سے آنکھیں ملاکر بات کرتا ہوں۔ ان مسائل میں محبت بھی ہے اور نفرت بھی۔ مجھے یقین ہے کہ نفرت کا انجام محبت ہوگا۔ ہاں، موجودہ سیاست میں سچ بولنے والوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر مثبت سروکاروں کو رسوا کیا جارہا ہے۔ بھیڑ کسی کو بھی اپنا نوالہ بنالیتی ہے۔ اقلیت ہونا جیسے گالی ہو۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے نئی نسل کے شاعر اور تخلیق کار معید رشیدی کو۔
غور طلب ہے کہ کانگریس کے ایک مقامی رہنما نے پلواما کے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تاریخی اقبال میدان میں 23 اور 24 فروری کی درمیانی رات ایک مشاعرے کا انعقاد کیا تھا۔
لوگ کہتے ہیں جب سامعین،عمران کو سننا چاہتے ہیں تو وہ کیوں نہ دیر تک اپناکلام سنائے۔ بات تو ٹھیک ہے پرہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ مشاعرہ کسی شاعر کا ذاتی اسٹیج نہیں ہوتا،مشاعرے کی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک مشاعرہ ہوا۔ […]