npa

رگھو رام راجن نے پی ایم او کو دی تھی این پی اے سے جڑے گھوٹالےبازوں کی فہرست، لیکن نہیں ہوئی کارروائی

پارلیامنٹ کی Estimates Committee کو بھیجے خط میں آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ان طریقوں کے بارے میں بتایا ہے جن کے ذریعے بےایمان بزنس گھرانوں کو حکومت اور بینکنگ نظام سے گھوٹالہ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی۔

ریزرو بینک کے ذریعے این پی اے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کرنے پر پارلیامانی کمیٹی نے اٹھائے سوال

سینئر کانگریسی رہنما ایم ویرپا موئلی کی قیادت والی فنانس پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اس رپورٹ کو منظور کرلیا ہے ۔ اس کو پارلیامنٹ کے ونٹر سیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

پنجاب نیشنل بینک: جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والے بڑے قرض داروں کا بقایا 15490 کروڑ روپے پہنچا

یہ وہ لوگ ہیں جن پر بینک کے  25 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کے قرض بقایا ہیں اوراہل ہونے کے باوجود انھوں نے یہ بقایا ادا نہیں کیا ہے۔ نئی دہلی: پنجاب نیشنل بینک (پی این بی )کے جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والے (ول […]

رویش کا بلاگ: بینکوں کا این پی اے 1 لاکھ 40 ہزار کروڑ بڑھا، بینکر اور دیہی ڈاک ملازمین ہڑتال پر

چھوٹے فنانس بینک کا این پی اے بھی6-5 فیصد بڑھ گیا ہے۔ نوٹ بندی کے پہلے یہ ایک فیصد تھا۔ اس رپورٹ میں آہستہ سے نوٹ بندی اور قرض معافی کو وجہ بتایا گیا ہے۔ بڑے بینک ہوں یا چھوٹے بینک سب کے سب ڈوب رہے ہیں۔

رویش کا بلاگ : پیٹرول کی بڑھتی قیمت پر میڈیا چپ ہے، بولے‌گا تو گودی سے اتار‌کر سڑک پر پھینک دیا جائےگا…

پیٹرول کی قیمت ریکارڈ سطح پر ہے، پھر بھی آپ میڈیا میں اس کی خبروں کو دیکھئے تو لگے‌گا کہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ یہی دام اگر حکومت ایک روپیہ سستاکر دے تو گودی میڈیا پہلے صفحے پر چھاپے‌گا۔

کسانوں کے مقابلے بڑے کاروباریوں پر نوگنا زیادہ این پی اے : آر ٹی آئی

آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری کے مطابق، کسانوں کا این پی اے 66176 کروڑ ہے، تو صنعتوں کا این پی اے 567148 کروڑ روپے ہے۔  کل این پی اے میں نجی بینکوں کے مقابلے سرکاری بینکوں کا این پی اے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ نئی دہلی […]

نفع کارپوریٹ کا، نقصان ٹیکس دہندگان کا

مرکزی حکومت کے 1.35 لاکھ کروڑ قیمت کے سرکاری بانڈوں کی شکل میں بینکوں کو اضافی سرمایہ دینے کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ٹیکس دہندگان  کے پیسوں سے بینکوں اور بقائےدار کارپوریٹ گروپوں کو بچایا جا رہا ہے۔ 1.35 لاکھ کروڑ قیمت کے سرکاری بانڈوں کی شکل […]

نئے ہندوستان کے نئے وعدے اور معاشی بحران

2019 کے انتخابات سے 18 مہینے پہلے، ہندوستان کی سیاسی معیشت پوری طرح سے لڑکھڑائی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، لیکن نریندر مودی کے ذریعے مسلسل 2022 تک پورے کئے جانے والے ناممکن وعدوں کی جھڑی لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اقتصادی بحران  کی خبروں نے اچانک بی […]