اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔
پیش نظر کتاب کی مصنف نیرجا چودھری کا نام صف اول کے ان صحافیوں میں لیا جاتا ہے، جو سیاسی نبض پرکھنا جانتے ہیں اور ان کی رپورٹس، تجزیوں کے بین السطور میں سیاست کے اونٹ کی کروٹ کا اندازہ ہوتا رہتاہے۔ 491 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں انہوں نے اندرا گاندھی سے لے کر منموہن سنگھ کے ادوار اور ان کے کام کرنے کے اسٹائل کا احاطہ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے مودی کو کیوں نظر انداز کیا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے ارد گرد کے افراد نے ان سے تعاون کرنے سے گریز کیا اور وہ فی الحال آن ریکارڈ نہیں آنا چاہتے۔
ہندوستان کی عوام نے دلائی لاما سے محبت کی اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا؛ بدلے میں یہی انہوں نے ہندوستانی عوام کو لوٹایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی حالیہ حکومتوں نے، چین کے خوف سے انہیں لے کر محتاط رویہ اپنایا۔ جبکہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔