Peace over violence

اتراکھنڈ: ’محمد دیپک‘ کے مسلمان بزرگ کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد کئی لوگوں نے چھوڑا ان کا جم

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوا وادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

فرقہ وارانہ منافرت سے تباہ حال ملک میں دیپک کی جرأت خوش خبری کی طرح ہے

آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔