چند بڑی طاقتیں احساس دلانا چاہتی ہیں کہ عام انسانوں کی محنت اور کوشش انہی کی طرح حقیر ہیں۔ انہیں اندیشہ لگا رہتا ہے کہ اگر پیاسے انسان کو آبیاژوں سے بہلایا نہ گیا تو پیاس کی شدت صبرو تحمل کا بند توڑ سکتی ہے اور اگر بند ٹوٹا تو ان کے پاؤں کے نیچے سے پانی کھسک سکتا ہے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے شاعر،ناقد اورمعروف فکشن نویس غضنفر کو۔
عمر قید کی سزا کاٹ رہےانسانی حقوق کے کارکن جی این سائی بابا کی نظموں اور خطوط کے مجموعے کے اجرا کے موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے جی این سائی بابا کی فوراً رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، موجودہ حکومت سوچتی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو ‘اربن نکسل’، ‘دیش دروہی’، ‘دہشت گرد’ قرار دے کراور انہیں جیل میں ڈال کر کامیاب ہو سکتی ہے۔
شدت پسندوں کی مخالفت کے بعد اپنی موت کا اعلان کرنے والے تمل ادیب اور شاعر موروگن کا نیا شعری مجموعہ’بزدل کے نغمے’شائع ہوچکا ہے۔ نئی دہلی :اپنے ناول کے خلاف شدت پسندوں کے شورشرابے اور مخالفت کے بعد 2015میں اپنی موت اور تخلیقی کام سے دستبردار ہونے […]