Rafah crossing

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح رہداری

یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔

استنبول میں غزہ عالمی ٹریبونل کی سماعت

مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔

غزہ جغرافیہ نہیں، ایک چیخ ہے

رفح کراسنگ سے ایک رپورٹ: غزہ اب صرف جنگ کا نہیں بلکہ بھوک کو ہتھیار بنانے کا معاملہ ہے۔ رفح کے گیٹ پر کھڑی خوراک انسانیت کے مردہ ضمیر پر نوحہ پڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس بھوک کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔