ایک بڑا سوال یہ ہے کہ سویلین حقوق کی طویل لڑائیوں کے دوران عوام کی جو بے پایاں وفاداری اور عقیدت آق پارٹی کو حاصل ہوئی تھی، اس عظیم سیاسی ورثے کو ایردوان کے بعد کون سنبھالے گا؟وہ کون سا ایسا رہنما ہو گا جو بیک وقت اناطولیہ کے ایک چھوٹے دکاندار، استنبول کے جدید کاروباری بلڈر، بحیرہ اسود کے مذہبی قدامت پسند اور وسطی اناطولیہ کے سخت گیر قوم پرست ووٹر کے دل کو چھو سکے اور ان سب کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد رکھ سکے گا؟
اردوان نے اپنے سیاسی حریف اور استنبول کے میئر اکرم امام اولو کو گرفتار کر کے اندرونِ ملک اپنی مقبولیت کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ بظاہر یہ قدم ان کے اقتدار کے لیے فوری خطرہ نہیں، مگر عام ترک شہری کے لیے یہ ‘حد سے تجاوز’ کا اشارہ بن چکا ہے۔ ان کی گرفتاری نے گزشتہ دس برسوں میں حکومت مخالف سب سے بڑے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک امام اولو کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تقریباً ایک ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ان انتخابات کے نتائج نے ترکیہ کے مستقبل کی ممکنہ سمت کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ یہ انتخابات اقتصادی پالیسی میں تبدیلی اور عالمی سطح پر ترکیہ کے ایک نئے کردار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کا بیانیہ صرف قیادت میں تبدیلی سے متعلق نہیں ہے۔ یہ ملک کے سیاسی اور سماجی تانے بانے میں ایک گہری تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔