دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں۔ سوموارکو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنےاعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوار ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، وہیں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
سپریم کورٹ نے سوموار کو دہلی فسادات کے نام نہاد ‘سازش’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر شنوائی 31 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔عدالت نے ضمانت کی ان درخواستوں کا جواب نہ دینے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی ہے۔
سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر اور شفا الرحمان کی درخواست ضمانت پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ ملزمین کے وکیلوں نے بتایا کہ وہ پانچ سال سے جیل میں ہیں اور ہم نے دیوالی سے قبل سماعت کی اپیل کی ہے۔
سپریم کورٹ نے دہلی فسادات سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ اور شفا الرحمان کی درخواست ضمانت پر سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔اس سے قبل 12 ستمبر کو اسی عدالت نے فائل دیر سے ملنے کا حوالہ دیتے ہوئےشنوائی ملتوی کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو فروری 2020 میں ہوئے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق یو اے پی اے معاملے میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔ بنچ نے کہا کہ انہیں کیس کی فائلیں رات 2.30 بجے ملی تھیں اور وہ انہیں دیکھ نہیں سکے۔
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات 2020 کے مبینہ ‘لارجر کانسپیریسی’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور سات دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ملزمین کو جنوری-ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔