الکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے احکامات کی تعداد ایک سال میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ 2023 میں اوسطاً 6,000 احکامات تھے جو بڑھ کر 2025 میں 24,300 تک پہنچ گئے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ احکامات وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے۔
مرکزی حکومت سوشل میڈیا پر مواد بلاک کرنے کے اختیار کو آئی ٹی وزارت سے آگے بڑھا کر دیگر وزارتوں کو دینے پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ تبدیلی کے تحت داخلہ، دفاع سمیت کئی وزارتیں براہ راست احکامات جاری کر سکیں گی۔ حکومت اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیے گئے گمراہ کن مواد سے نمٹنے کے ایک اقدام کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔