سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔