southern states

سرکاری دعووں کی تفتیش: ’ناری وندن‘ یا 2029 کے لیے نشستیں طے کرنے کی کوشش؟

دس سال پہلے کی نوٹ بندی کی طرح اچانک لیا جارہا حد بندی کا فیصلہ ہندوستان کے بڑے حصوں کو سیاسی طور پر کمزور کر دے گا، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے  پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جو معیشت کے مرکز، روزگار فراہم کرنے والے اور سماجی ترقی کی نمایاں مثال رہے ہیں۔

تمل ناڈو: سی ایم اسٹالن نے حد بندی بل کی کاپی جلائی، کالا جھنڈا لہرا کر کیا صوبے میں تحریک کا آغاز

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے  ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش  کرے گی۔

کیا مودی جنوبی ہندوستان کو فتح کر پائیں گے؟

جنوبی ہندوستان کو فتح کرنے کے لیے ان دنوں مودی مسلسل ان صوبوں کے دورے کر رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ صرف شمالی ہندوستان کا لیڈر ہونے کا دھبہ مٹا کر ملک گیر لیڈر کے بطور اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنوبی ہندوستان کو فتح کیے بغیر وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی وراثت کو تاریخ کے صفحات سے مٹا نہیں سکتے ہیں یا اپنے آپ کو نہرو ثانی کے بطور پیش نہیں کرسکتے ہیں۔

جنوبی ریاستیں مرکزی حکومت پر ٹیکس منتقلی میں کم حصے داری کا الزام کیوں لگا رہی ہیں؟

حالیہ جی ایس ٹی تنازعہ نے سینٹرلائزیشن اور علاقائی خود مختاری کے مابین نازک توازن کو اجاگر کر دیا ہے۔ کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو کے سیاسی جماعتوں کے رہنما ٹیکس کی منتقلی میں جنوبی ریاستوں کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مرکز پر ریاستوں کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہے۔