سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ ان عرضیوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے ہوئے کیا، جن میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ دلیل کہ ہیٹ اسپیچ کا دائرہ قانون سازی کے لحاظ سے خالی ہے، گمراہ کن ہے۔ موجودہ فوجداری قانون کا ڈھانچہ، جس میں تعزیرات ہند اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات شامل ہیں، ان سرگرمیوں سے مؤثر طور پر نمٹتا ہے۔
ہریانہ کے امبالا شہر میں منعقد پروگرام کی ایک مبینہ ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ہے، جس میں سدرشن نیوز کے چف ایڈیٹرسریش چوہانکے، ایم ایل اے اسیم گوئل اور دیگر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ہم ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا حلف لیتے ہیں۔ ان لوگوں نے اس کے لیے ضرورت پڑنے پر ‘قربانی دینے یا لینے’ کی بات بھی کہی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آئے ویڈیو میں سدرشن ٹی وی کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے 19 دسمبر کو دہلی میں ہندو یووا واہنی کے ایک پروگرام میں یہ حلف دلاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
راجستھان آدی واسی مینا سیوا سنگھ کے رکن گریراج مینا کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 23 جولائی کی شام سدرشن ٹی وی کے مدیرسریش چوہانکے نے انہیں اور پوری آدی واسی کمیونٹی کو گالی دی۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ فرہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کے لیےانتشار اور فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔