شام: بشارالاسد کے زوال کا ایک سال
بشارالاسد کے زوال کے ایک سال بعد، دنیا کے میڈیا آوٹ لیٹ ’نئے شام’ کے بارے میں مختلف اور متضاد سرخیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ رات کہاں گزاری جائے۔
بشارالاسد کے زوال کے ایک سال بعد، دنیا کے میڈیا آوٹ لیٹ ’نئے شام’ کے بارے میں مختلف اور متضاد سرخیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ رات کہاں گزاری جائے۔
جھڑپوں کے بعد شام کے دیگر علاقوں جوابی احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں، جو حکومت کے سابق عہدیداروں کو سزا دینے اور عام معافی کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اگرچہ اوجلان کا جنگ بندی کا اعلان ایک بڑا قدم ہے، مگر اس راہ میں کئی رکاوٹیں باقی ہیں۔ قندیل پہاڑوں میں پی کے کے، کے کئی عسکری کمانڈر تحریک کے مکمل خاتمے پر آمادہ نہیں ہو سکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ کچھ علیحدگی پسند دھڑے بدستور سرگرم رہیں گے۔ اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی واقعی ایک نئے دور کا آغاز کرے گی یا پھر ماضی کی ناکام کوششوں کی طرح کسی نئی شورش کو جنم دے گی۔
بشار الاسد کے سقوط کے بعد اسرائیل شام پر لگاتار بمباری کرکے اس کی دفاعی تنصبات کو ختم کرکے ایک طرف اس کو اس حد تک غیر محفوظ بنانا چاہتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی ہمت نہ کرے اور دوسری طرف کرد علاقہ اے اے این ای ایس کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے۔ یعنی کرد علاقوں کی خود مختاری کا دفاع اسرائیل نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔
اسد کا زوال صرف ایک حکومت کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ شام کی تاریخ میں ایک ایسا انقلاب ہے، جس کی باز گشت مستقبل میں دور تک سنائی دے گی۔