پہلگام حملے کو ایک مہینہ گزر چکا ہے، لیکن این آئی اے کو ابھی تک کوئی ٹھوس سراغ نہیں ملا ہے۔ تفتیشی ایجنسی گواہوں سے پوچھ گچھ اور تکنیکی نگرانی کر رہی ہے۔ پانچ دہشت گردوں پر شبہ ہے، جن میں سے تین پاکستانی ہو سکتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ تھری ڈی میپنگ بھی کی گئی ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کی حکمت عملی آرمی چیف، وزیر اعظم، خفیہ ایجنسی، اور خزانہ اور خارجہ کی وزارتیں طے کر رہی ہیں۔ حتمی فیصلوں میں کس کا کیا اور کتنا کردار ہوگا، تفصیل سے ملاحظہ کریں۔
کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری ٹی آر ایف (دی ریزسٹنس فرنٹ) نے قبول کی ہے، جو لشکر طیبہ کا ایک حصہ ہے۔ یہ تنظیم کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد بنائی گئی تھی اور اس کے بعد سے یہ غیر مقامی لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حکومت نے 2023 میں اس پر پابندی لگا دی تھی۔
تینوں افراد کو دی ریزسٹنس فرنٹ کے لیے کام کرنے کے الزام میں پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔گزشتہ دنوں صوبے میں شہریوں پر ہوئے حملوں کی ذمہ داری لینے والے دی ریزسٹنس فرنٹ کو لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم مانا جاتا ہے۔پولیس کے ڈوزیئر میں تینوں پر جدید کمیونی کیشن تکنیک کا استعمال کرنے کی بات کہی گئی ہے، حالانکہ ایک کے رشتہ دار نے بتایا کہ تینوں ان پڑھ ہیں اور انہوں نے کبھی اسمارٹ فون تک استعمال نہیں کیا ہے۔