Union Government

طلبہ تحریک: وزیراعظم نے پھر وہی وعدہ دہرایا، جو تین برس میں چار بار کر چکے ہیں

گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

نصیرالدین شاہ نے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کی، ویڈیو انسٹاگرام سے ہٹائے جانے کے بعد بحال

ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔

دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات، سی جے پی کے ترجمان نے وہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک ہونے کا دعویٰ کیا

سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

راہل گاندھی سمیت وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے رہنما جبراً  ہٹائے گئے

وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا  استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔

وزیر تعلیم کے خلاف اروناچل سے گوا تک نوجوانوں کا غصہ، ملک گیر احتجاج کی جھلکیاں

دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاج کی طرز پر سوموار کو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں کے شدید غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹہ نگر سے لے کر بہار کی راجدھانی پٹنہ تک طلبہ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین پر ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔

جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج جاری، راہل گاندھی بولے – لوک سبھا اسپیکر سے کی طلبہ کے مسائل پر بحث کی مانگ

جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔

مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق درخواست پر ہائی کورٹ نے کہا – ہمیں اس میں مت گھسیٹو

سوموار کو سنسد مارچ کے دوران مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے ایک درخواست کو شنوائی کے لیےلسٹ کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا، ’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘

دہلی: ٹیلی کام کمپنیوں نے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے احکامات کی تصدیق کی، حکومت اب تک خاموش

حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔

’یہ جم غفیر اور طلبہ کا غصہ حکومت کی بے حسی کا نتیجہ ہے‘

گراؤنڈ رپورٹ: دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بیچ پارلیامنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھلے ہی  کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن کم از کم جوابدہی تو طے ہوگی۔ ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔

سی جے پی تحریک: پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر

نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سی جے پی تحریک: جنتر منتر کے آس پاس جمع ہوئے 50 ہزار لوگ، آئیسا کے طلبہ نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کی

سی جے پی کی جانب سے پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے درمیان جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں، کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ  اسٹوڈنٹ لیڈرنے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہیں، مانسون اجلاس کی شروعات کرتے ہوئےوزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاجی مظاہرے  کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

سونم وانگچک کا بھوک ہڑتال جاری، حکام سے کہا – جنتر منتر واپس جانا چاہتے ہیں

سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے  دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘

مودی حکومت کا آمرانہ رویہ: سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا

سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

سپریم کورٹ نے دہرایا – ایس آئی آر سے نام ہٹنے پر شہریت نہیں جائےگی؛ البتہ دیگر شہری حقوق کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔

بھوک ہڑتال کے 21 ویں دن سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال لے کر پہنچی پولیس، دیپکے نے شروع کی ہڑتال

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے  غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے  کا اعلان کیا ہے۔

سونم وانگچک سے ماہرین تعلیم اور فنکاروں کی اپیل: ’بھوک ہڑتال ختم کریں، ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے‘

ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

جموں: عدالت نے ’قابل اعتراض‘ کتابوں کی تقسیم کے معاملے میں تین ناشروں کو 10دن کی حراست میں بھیجا

جموں و کشمیر میں ’قابل اعتراض‘ مواد پر مشتمل کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے معاملے میں کاؤنٹر انٹلی جنس یونٹ نے تین ناشروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ’سمگر شکشا ابھیان‘کے تحت تقسیم کی گئی ان کتابوں میں ’غیرمناسب مواد‘ شامل تھا۔

ایس آئی آر الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں،’مشتبہ شہریت‘ کی بنیاد پر ہٹائے گئے ووٹر کی نشاندہی کریں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے قانونی جواز کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔

ایل پی جی قیمتوں میں اضافہ پر اپوزیشن کا احتجاج، کہا – حکومت جنگ کے بہانے دام بڑھا رہی ہے

ملک کی  اپوزیشن جماعتوں نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

تمل ناڈو: سی ایم اسٹالن نے حد بندی بل کی کاپی جلائی، کالا جھنڈا لہرا کر کیا صوبے میں تحریک کا آغاز

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے  ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش  کرے گی۔

مرکزی حکومت اب بھی کمپنیوں سے زیادہ عام آدمی سے ٹیکس وصول کر رہی ہے

حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس) کی حصہ داری 21 فیصد ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 1231,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی آمدنی کا تخمینہ 1466,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

کشمیر ’خاموش اور اُداس‘ ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’

دہلی پولیس کی شرط – منریگا کے خاتمے کے خلاف احتجاج کی اجازت کے لیے 10 دن پہلے بتائیں

دہلی پولیس نے دہلی میں کہیں بھی، یہاں تک کہ مقررہ احتجاجی مقام جنتر منتر پر بھی منریگا کو ختم کرنے کے پارلیامنٹ کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ نریگا سنگھرش مورچہ نے بتایا کہ پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے 10 دن قبل درخواست کی شرط عائد کی ہے۔

ارندھتی رائے کی کتاب کے سرورق پر تنازعہ، کیرالہ ہائی کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کیا

کیرالہ ہائی کورٹ نے ارندھتی رائے کے خلاف ان کی نئی کتاب’مدر میری کمز ٹو می‘کے سرورق پر سگریٹ نوشی کی تصویر کشی پر دائر کی گئی پی آئی ایل پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار کا استدلال ہے کہ یہ سی او ٹی پی اےقانون کی خلاف ورزی ہے اور تمباکو نوشی کا بالواسطہ اشتہار ہے۔ تاہم، کتاب کے بیک کورپر سگریٹ نوشی سے متعلق ڈسکلیمر موجود ہے۔

کشمیر: آئینی حیثیت کے خاتمے کے پانچ سالوں پر ہندوستان کی مقتدر شخصیات کی رپورٹ

ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔

’امن‘ کے 6 برس، لیکن جہلم کی فریاد کون سنے گا؟

ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔

بہار انتخابات پر نظر- مرکز کی ذات پر مبنی مردم شماری کو منظوری، لیکن ڈیڈ لائن طے نہیں

بہار انتخابات سے پہلے مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ 2024 کی انتخابی مہم میں بی جے پی کے اس موقف کے بالکل برعکس ہے، جب اس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا تھا جس سے سماج تقسیم ہو گا۔ تاہم، حکومت نے مردم شماری یا متعلقہ ذات پر مبنی  مردم شماری کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی ہے۔

این ایف ایس اے کے تحت 79 لاکھ مستفیدین کو اب تک مفت راشن نہیں ملا: مرکز

مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ کو مطلع کیا کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی اسکیم کے تحت 81.35 کروڑ مستفیدین کو شامل کرنے کے ہدف کے مقابلے ریاستوں کے ذریعے 80.56 کروڑ مستفیدین کی شناخت کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 79 لاکھ مستفیدین کو ابھی بھی مفت راشن ملنا باقی ہے۔

کشمیر کی تلاش میں: تیسری قسط

اگست 2019 میں دعوے کیے جا رہے تھے کہ بہت جلد کشمیری پنڈت کشمیر واپس آجائیں گے، باقی ہندوستانی بھی پہلگام اور سون مرگ میں زمین خرید سکیں گے۔ لیکن حالات اس قدر بگڑے کہ وادی میں باقی رہ گئے پنڈت بھی اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔

کشمیر کی تلاش میں: دوسری قسط

کشمیر اس وقت دو طرح کے جذبات سے بر سرپیکار ہے؛ شدید غصہ اور احساس ذلت، اور گہری مایوسی کی یہ کیفیت غیرتغیرپسند ہے۔ نہ تو پاکستان آزادی دلا سکتا ہے اور نہ ہی مرکز کی کوئی آئندہ حکومت 5 اگست سے پہلے کے حالات کو بحال کر پائے گی۔

کشمیر کی تلاش میں: پہلی قسط

کشمیر پر ہونے والے بحث و مباحثہ سے کشمیری غائب ہیں۔ ان کے بغیر ان کی سرزمین کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہے۔ اس ستم ظریفی کے ساتھ آپ جہلم کے پانیوں میں غوطہ زن ہو سکتے ہیں – یہ ندی دونوں طبقے کی نال سے لپٹی ہوئی یادوں اور مضطرب ڈور سے بندھے درد کے ہمراہ رواں ہے۔

آر ایس ایس میں سرکاری ملازمین کی شمولیت پر عائد پابندی کو منسوخ کرنے والی فائل کو مرکز نے ’خفیہ‘ بتایا

سرکاری ملازمین کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں شامل ہونے پر عائد پابندی کو مرکزی حکومت نے 9 جولائی کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کی منسوخی سے متعلق فیصلہ سرکاری ویب سائٹس پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے، لیکن اس فیصلے کو پاس کرنے والی فائل کو ‘خفیہ’ فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔

آر ایس ایس پر غلط طریقے سے پابندی عائد کی گئی تھی: ایم پی ہائی کورٹ

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین کی شرکت سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران اس نے کہا کہ آر ایس ایس جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ تنظیم کو غلط طریقے سے ملک کی کالعدم تنظیموں میں رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے پانچ دہائیوں تک مرکزی حکومت کے ملازمین ملک کی خدمت نہیں کر سکے۔

کشمیر:مودی حکومت نےایل جی کو مزید اختیارات دے کر نمائشی وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی راہ ہموار کی ہے

پچھلے سال جب سپریم کورٹ نے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو جائز قرار دے کر، داخلی خود مختاری ختم کرنے کے حکومتی اقدام پر مہر لگا دی، تو اسی وقت حکومت سے عہد لیا کہ ستمبر 2024 تک کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرواکے وہ منتخب نمائندوں کے حوالے اقتدار کرے۔ اب سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق، مودی حکومت نے گورنر کو ہی اختیارات منتقل کیے، تاکہ منتخب وزیر اعلیٰ بطور ایک نمائشی عہدیدار کے مرکزی حکومت کے زیر اثر رہے گا۔

پیرا ملٹری بھرتی امتحانات: امتحان پاس کرنے کے باوجود ہزاروں امیدوار کو نہیں ملی نوکری

سال 2015 اور 2018 میں لگاتار دو بھرتی سائیکل میں، مرکزی حکومت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ہزاروں سیٹ خالی چھوڑ دی ہیں۔ دریں اثنا، ہزاروں اہل امیدوار بے روزگاری کا بوجھ لیے گھوم رہے ہیں۔