گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔
سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔
دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاج کی طرز پر سوموار کو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں کے شدید غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹہ نگر سے لے کر بہار کی راجدھانی پٹنہ تک طلبہ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین پر ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔
جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔
سوموار کو سنسد مارچ کے دوران مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے ایک درخواست کو شنوائی کے لیےلسٹ کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا، ’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘
حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔
گراؤنڈ رپورٹ: دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بیچ پارلیامنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھلے ہی کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن کم از کم جوابدہی تو طے ہوگی۔ ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔
نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کی جانب سے پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے درمیان جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں، کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ اسٹوڈنٹ لیڈرنے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہیں، مانسون اجلاس کی شروعات کرتے ہوئےوزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاجی مظاہرے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
جموں و کشمیر میں ’قابل اعتراض‘ مواد پر مشتمل کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے معاملے میں کاؤنٹر انٹلی جنس یونٹ نے تین ناشروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ’سمگر شکشا ابھیان‘کے تحت تقسیم کی گئی ان کتابوں میں ’غیرمناسب مواد‘ شامل تھا۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے قانونی جواز کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔
ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش کرے گی۔
حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس) کی حصہ داری 21 فیصد ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 1231,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی آمدنی کا تخمینہ 1466,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’
دہلی پولیس نے دہلی میں کہیں بھی، یہاں تک کہ مقررہ احتجاجی مقام جنتر منتر پر بھی منریگا کو ختم کرنے کے پارلیامنٹ کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ نریگا سنگھرش مورچہ نے بتایا کہ پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے 10 دن قبل درخواست کی شرط عائد کی ہے۔
کیرالہ ہائی کورٹ نے ارندھتی رائے کے خلاف ان کی نئی کتاب’مدر میری کمز ٹو می‘کے سرورق پر سگریٹ نوشی کی تصویر کشی پر دائر کی گئی پی آئی ایل پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار کا استدلال ہے کہ یہ سی او ٹی پی اےقانون کی خلاف ورزی ہے اور تمباکو نوشی کا بالواسطہ اشتہار ہے۔ تاہم، کتاب کے بیک کورپر سگریٹ نوشی سے متعلق ڈسکلیمر موجود ہے۔
اگر ہندوستانی حکومت کے پچھلے چھ سالوں کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو ان کا ایک ہی مقصد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار بناکر مجبور بنایا جائے۔
ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔
’وقت کے ساتھ میں نے اپنی شناخت کو چھپانا شروع کر دیا ہے۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں، تو میں کہتی ہوں – یہیں دلی سے۔‘
پانچ اگست 2019 کے بعد کا کشمیرہندوستان کے لیے آئینہ ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کا کشمیرائزیشن تیز رفتاری سے ہوا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی پامالی، گورنروں کی ہنگامہ آرائی ، وفاقی حکومت کی من مانی۔
بہار انتخابات سے پہلے مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ 2024 کی انتخابی مہم میں بی جے پی کے اس موقف کے بالکل برعکس ہے، جب اس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا تھا جس سے سماج تقسیم ہو گا۔ تاہم، حکومت نے مردم شماری یا متعلقہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی ہے۔
مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ کو مطلع کیا کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی اسکیم کے تحت 81.35 کروڑ مستفیدین کو شامل کرنے کے ہدف کے مقابلے ریاستوں کے ذریعے 80.56 کروڑ مستفیدین کی شناخت کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 79 لاکھ مستفیدین کو ابھی بھی مفت راشن ملنا باقی ہے۔
کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ انضمام ایک سماجی اور ثقافتی عمل ہے، جس کو روزانہ کی بنیاد پر انجام دیے بغیر کام نہیں چلے گا۔
رائٹ ونگ کشمیر کو مسلمان حملہ آوروں کی سرزمین قرار دے کر ہندوستان سے اس کی بیگانگی کو اور بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہندوستان کے ساتھ کشمیر کی خلیج بڑھ گئی ہے۔
اگست 2019 میں دعوے کیے جا رہے تھے کہ بہت جلد کشمیری پنڈت کشمیر واپس آجائیں گے، باقی ہندوستانی بھی پہلگام اور سون مرگ میں زمین خرید سکیں گے۔ لیکن حالات اس قدر بگڑے کہ وادی میں باقی رہ گئے پنڈت بھی اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔
کشمیر اس وقت دو طرح کے جذبات سے بر سرپیکار ہے؛ شدید غصہ اور احساس ذلت، اور گہری مایوسی کی یہ کیفیت غیرتغیرپسند ہے۔ نہ تو پاکستان آزادی دلا سکتا ہے اور نہ ہی مرکز کی کوئی آئندہ حکومت 5 اگست سے پہلے کے حالات کو بحال کر پائے گی۔
کشمیر پر ہونے والے بحث و مباحثہ سے کشمیری غائب ہیں۔ ان کے بغیر ان کی سرزمین کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہے۔ اس ستم ظریفی کے ساتھ آپ جہلم کے پانیوں میں غوطہ زن ہو سکتے ہیں – یہ ندی دونوں طبقے کی نال سے لپٹی ہوئی یادوں اور مضطرب ڈور سے بندھے درد کے ہمراہ رواں ہے۔
سرکاری ملازمین کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں شامل ہونے پر عائد پابندی کو مرکزی حکومت نے 9 جولائی کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کی منسوخی سے متعلق فیصلہ سرکاری ویب سائٹس پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے، لیکن اس فیصلے کو پاس کرنے والی فائل کو ‘خفیہ’ فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین کی شرکت سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران اس نے کہا کہ آر ایس ایس جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ تنظیم کو غلط طریقے سے ملک کی کالعدم تنظیموں میں رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے پانچ دہائیوں تک مرکزی حکومت کے ملازمین ملک کی خدمت نہیں کر سکے۔
پچھلے سال جب سپریم کورٹ نے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو جائز قرار دے کر، داخلی خود مختاری ختم کرنے کے حکومتی اقدام پر مہر لگا دی، تو اسی وقت حکومت سے عہد لیا کہ ستمبر 2024 تک کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرواکے وہ منتخب نمائندوں کے حوالے اقتدار کرے۔ اب سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق، مودی حکومت نے گورنر کو ہی اختیارات منتقل کیے، تاکہ منتخب وزیر اعلیٰ بطور ایک نمائشی عہدیدار کے مرکزی حکومت کے زیر اثر رہے گا۔
سال 2015 اور 2018 میں لگاتار دو بھرتی سائیکل میں، مرکزی حکومت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ہزاروں سیٹ خالی چھوڑ دی ہیں۔ دریں اثنا، ہزاروں اہل امیدوار بے روزگاری کا بوجھ لیے گھوم رہے ہیں۔