وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حال ہی میں امریکی فوجی حملے میں تین ہندوستانی شہریوں کی موت کےپس منظرمیں اس ملاقات کے لیے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی لبنان میں اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔ سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ متضاد دعوے اور عسکری تیاریوں کے باعث پورا معاہدہ اب سنگین بحران کا شکار ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملے کی طے شدہ آخری تاریخ سے پہلے اچانک دو ہفتے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔ ایران نے اسے قبول کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ حملے مکمل طور پر بند ہوں۔ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن عدم اعتماد، سخت شرائط اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی نازک ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے نئے سرے سے وارننگ دی ہے، جبکہ تہران نے صاف کر دیا ہے کہ مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت کے بغیر وہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔ خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 38 ویں دن مزید پرتشدد ہو گئی ہے۔ تہران اور بیروت میں حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس جنگ کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے عام لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35 ویں دن بھی ایران میں کشیدگی برقرار ہے۔ نوروز کے اختتامی جشن کے دوران ایک امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
شاید ہی کسی غیر ملکی سربراہ نے کبھی کسی ہندوستانی وزیر اعظم کی اس طرح اعلانیہ بے عزتی کی ہو۔ مودی نے سبکی کا یہ گھونٹ خاموشی سے پی لیا۔ وزارت خارجہ کو بھی بتایا گیا کہ آن ریکارڈ ٹرمپ کے بیان کا جواب نہیں دیا جائے۔ صرف آف ریکارڈ ہی میڈیا میں افغانستان میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتائی جائیں۔
جارج ہیربرٹ والکر بش 1924ء میں میساچیوسٹس میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1962ء میں اس وقت ہوا، جب وہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ہیرس کاؤنٹی کے چیئر مین منتخب ہوئے۔