Uttrakhand Mob Lynching

الزامات کو جھوٹا بتاتے ہوئے بہار پولیس نے 49 ہستیوں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ بند کیا

بہار پولیس نے کہا کہ ملزمین کے خلاف شرارت بھرے الزام لگائے گئے ہیں اور ان کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔اس معاملے کو لے کر ایف آئی آر درج کروانے والے مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا پر کارروائی کی جائے گی۔

ماب لنچنگ پر مودی کو خط لکھنے والے لوگوں کی حمایت میں اتریں 185 ہستیاں

تین اکتوبر کو بہار کورٹ کے حکم پر مؤرخ رام چندر گہا، فلم ساز منی رتنم، اپرنا سین، شیام بینیگل، انوراگ کشیپ سمیت 49 ہستیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان لوگوں نے ماب لنچنگ کے بڑھ رہے واقعات کو لےکر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا تھا۔

ماب لنچنگ پر وزیر اعظم کو خط: ’ہمارا خط محض اپیل تھا، ایف آئی آر درج کرنا غیر جمہوری‘

ملک بھر میں ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھنے والی مختلف شعبوں کے 49 شخصیات کے خلاف سیڈیشن اور امن و سکون میں خلل ڈالنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

بہار: لنچنگ اور ہیٹ کرائم پر مودی کو خط لکھنے والی شخصیات کے خلاف عرضی دائر

ملک میں ماب لنچنگ اور ہیٹ کرائم کی بڑھتی تعداد کو دیکھ کر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ منگل کو شیام بینیگل سمیت 49 شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ‌کر کہا تھا کہ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہو ر لنچنگ کے واقعات فوراً رکنے چاہیے۔

بی جے پی رہنما نے کہا؛ اڈور گوپال کرشنن کو اگر جئے شری رام کا نعرہ برداشت نہیں تو چاند پر چلے جائیں

گزشتہ 23 جولائی کو فلم ساز اڈور گوپال کرشنن کے علاوہ مختلف شعبوں کی 49 شخصیات نے ملک میں مذہبی شناخت کی وجہ سے ہو رہے جرائم اور ماب لنچنگ کے بڑھتے معاملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا۔

ملک کی معروف شخصیات نے ماب لنچنگ پر وزیر اعظم کو لکھا خط، مجرموں  کے خلاف سخت سزا کی مانگ

گلوکارہ شبھا مدگل، اداکارہ کونکنا سین شرما، فلم ساز شیام بینیگل، انوراگ کشیپ، اپرنا سین اور منی رتنم سمیت مختلف شعبہ کی کم سے کم 49 شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ‌کر کہا ہے کہ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہو رہے لنچنگ کے واقعات فوراً رکنے چاہیے۔

اتراکھنڈ: اشرافیہ  کے سامنے کھانا کھانے پر دلت کا قتل

اس معاملے میں اپنی جان گنوانے والےنو جوان کی بہن نے بتایا کہ ہم جس شادی میں گئے تھے، وہاں میرے بھائی نے اس کاؤنٹر سے کھانا لیا، جہاں اشرافیہ کھانا کھا رہے تھے۔ وہ ان کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ‌کر کھانا کھانے لگا، جس پر ان لوگوں نے کہا کہ یہ نیچ ذات کا ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا۔ کھائے‌گا تو مرے‌گا۔