خبریں

اتر پردیش: شرو منی رہنما نے کیا گرفتاری کا دعویٰ، پولیس کا انکار

شرومنی اکالی دل کے قومی ترجمان اور دہلی سکھ گردوارہ مینیجنگ کمیٹی  کےصدرمنجندرسنگھ سرسا کا کہنا ہے کہ وہ کسانوں کی حمایت کرنے پیلی بھیت گئے تھے، جہاں سے انہیں گرفتار کر بریلی لے جایا گیا اور دیر رات رہا کیا گیا۔ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے۔

منجندر سنگھ سرسا(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

منجندر سنگھ سرسا(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی:  شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی)کے قومی ترجمان منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ انہیں یوپی پولیس نے پیلی بھیت ضلع میں گرفتار کیا۔حالانکہ پیلی بھیت کے ایس پی  جئےپرکاش نے سرسا کو گرفتار کیے جانے کی بات سے انکار کیا۔

سرسا نے بتایا کہ وہ کسانوں کی حمایت  کرنے کےلیے پیلی بھیت گئے تھے جن پر مقامی پولیس نے دہلی میں ایک ٹریکٹر ریلی میں شامل ہونے سے روکنے کے لیےمبینہ طور پر معاملہ درج کیا تھا۔

انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا، ‘اتر پردیش پولیس نے مجھے پیلی بھیت کے بلاسپور میں گرفتار کیا۔ میرا جرم  یہ ہے کہ میں کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہوں اور سپریم کورٹ نے بھی مظاہرہ کرنے کے کسانوں کے حقوق  کو پہچانا ہے۔ کیایہ جرم  ہے۔ میں یوپی پولیس سے پوچھنا چاہتا ہوں۔’

ایس پی  جئے پرکاش نے کہا، ‘انہیں گرفتار یا حراست میں نہیں لیا گیا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ ایک محدود علاقے میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں وہاں سے لوٹا دیا گیا۔’دہلی سکھ گردوارہ مینیجنگ کمیٹی کے چیئرمین سرسا کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتار کرکے بریلی لے جایا گیا تھا۔ رات میں انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ انہیں رہا کر دیا گیا اور انہوں نے اپنے حامیوں  کاشکریہ اداکیا۔

انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا، ‘بریلی کے سنگت کی حمایت، پیار اور ایکتا کے لیے شکریہ۔ یوپی پولیس نے گزشتہ رات مجھے رہا کیا۔ میں اتر پردیش کے کسانوں کے حقوق کی لڑائی کی قیادت  کرنے کا شکرگزار ہوں اور یہ سب آپ کے حمایت  کی وجہ سے ہوا ہے۔’

بتا دیں کہ مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین  کی مخالفت میں مظاہرہ  کر رہے کئی کسانوں اور رہنماؤں کو پولیس کے ذریعے حراست میں لیا گیا اور انہیں منزل  تک پہنچنے سے روکا گیا۔حال ہی میں بنگلوروپولیس نے سابق وزیر اعلیٰ  سدارمیا سمیت کئی کانگریسی رہنماؤں کو کسانوں کی حمایت  میں ریلی کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا تھا۔

 (خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)