Modi Govt

نیم کا پتہ کڑوا ہے … گالی سے کیا ناراضگی؟

سینسر بورڈ کے چیئرپرسن اور بی جے پی کے تمام دوسرے حمایتی  اچانک ’صنفی بنیاد پر توہین آمیز گالیوں اور نازیبا الفاظ‘ کے موضوع پر حد درجہ حساس نظر آ رہے ہیں۔ اصل میں نوجوانوں کی ’فحش‘ زبان پر تنقید کے پس پردہ  یہ نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کی کوشش ہے۔

وعدے بنام حقیقت کانگریس نے جاری کیا مودی سرکار کا رپورٹ کارڈ، کہا – وعدے پورے کرنے میں ناکام

نریندر مودی حکومت کے تیسرے دور کے دو سال پورے ہونے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے ’پرچار بنام حساب‘کے نام سے 75 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 سال’بڑے بڑے اعلان‘والے رہے ہیں، لیکن عوام کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت خاطر خواہ روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہی اور نریندر مودی کے دورحکومت میں روپیہ سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک رہا۔

خواتین ریزرویشن بل خواتین کو با اختیار بنانے کا نہیں، ووٹ حاصل کرنے کا سیاسی حربہ ہے

اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین  ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔

پہلگام حملہ: سال بھر بعد بھی مودی حکومت نے ’سکیورٹی میں کوتاہی‘ پر وضاحت پیش نہیں کی

پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کو ایک سال بیت چکا ہے، تاہم اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ان’خامیوں‘کے بارے میں کوئی وضاحت  پیش نہیں کی ہے، جن کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کے بعد کوئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں اور کیا کسی کی جوابدہی طے کی گئی ہے۔

پلیز مودی جی! ہندوستان کی خواتین کے لیے آنسو مت بہائیے

سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔

عورت نصف آبادی ہے تو جمہوریہ میں اس کی نصف نمائندگی کیوں نہیں؟

جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔

آئینی ترمیمی بل خارج ہونے پر اپوزیشن نے کہا – جمہوریت اور ملک کی یکجہتی کی بڑی جیت

لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔

مودی حکومت کا آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں خارج

لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت  میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔

مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن قانون 2023 کو 900 دن سے زائدکی تاخیر کے بعد لاگو کیا

مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن  کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔

مودی حکومت کا یو ٹرن: آبادی میں اضافے کی تشویش سے لے کر زیادہ آبادی والی ریاستوں کو فائدہ پہنچانے تک

نریندر مودی  کی حکومت ہندوستان کی آبادی میں اضافے کے بارے میں  تشویش میں مبتلا نظر آتی رہی ہے، لیکن اب ایک ڈرامائی موڑ میں مودی حکومت آبادی میں اضافے کو انعام دینے کی سمت میں قدم اٹھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارلیامنٹ میں پیش کیے گئے تین مجوزہ بلوں کی ساخت کے مطابق، حکومت جان بوجھ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

تمل ناڈو: سی ایم اسٹالن نے حد بندی بل کی کاپی جلائی، کالا جھنڈا لہرا کر کیا صوبے میں تحریک کا آغاز

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے  ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش  کرے گی۔

روپے کا خط، ہندوستان کے نام: ’مجھے ڈالر کے نہیں، الیکشن کمیشن کے مقابلے دیکھو‘

صحافی رویش کمار بتا رہے ہیں کہ ملک کے نام چٹھی میں ہندوستانی روپیہ کہتا ہے کہ ’کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔ مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔‘

امریکی کمیشن کی آر ایس ایس اور را پر پابندی کی سفارش، کانگریس نے کہا – ہمارے خدشات کی تصدیق

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را اور آر ایس ایس پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار کے لیے ہدفی پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لگاتار ساتویں سال ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ہندوستان نے اس رپورٹ کو ’من گھڑت اور جانبدارانہ‘ قرار دیا ہے۔

نیو انڈیا میں ہی ’اسکولی طالبعلم‘ کے روبوٹ بنانے کا دعویٰ قومی سلامتی کے ’خطرے‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے

جس طرح نئے آئی ٹی قوانین کا قہر ’محبوب لیڈر‘ کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے لطیفوں پر نازل ہو رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ مودی حکومت کے سنسرشپ راج کے شروعاتی دن ہیں … آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

جن وادی لیکھک سنگھ کا مطالبہ – وزارت داخلہ ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق فیصلہ واپس لے

جن وادی لیکھک سنگھ نے حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق جاری حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  کہ یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی تمہید کی روح کے بھی خلاف ہے، جس میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔

قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی

سرکار نے کہا ہے کہ قومی ترانہ سے پہلے لازمی طور پر ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو اس کے مکمل چھ بند کے ساتھ گانا ہوگا۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ وندے ماترم کا مقام و مرتبہ بلند کیا جا رہا ہے، تویہ  دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا شعوری عمل ہے۔

کشمیر ’خاموش اور اُداس‘ ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ، مدیران نے کہا – آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے)  نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری  کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے  کی کوشش قرار دیا ہے۔

کشمیر: آئینی حیثیت کے خاتمے کے پانچ سالوں پر ہندوستان کی مقتدر شخصیات کی رپورٹ

ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔

’امن‘ کے 6 برس، لیکن جہلم کی فریاد کون سنے گا؟

ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔

کانگریس نے جس یو اے پی اے قانون کو پاس کیا تھا، اب اسی کے ’غلط استعمال‘ پر اٹھائے سوال

کانگریس نے مودی حکومت پر یو اے پی اے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پرتشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس  نے ہی اس قانون کی بنیاد رکھی تھی اور اس میں سخت دفعات شامل کیےتھے۔

کیا آل پارٹی وفد مودی حکومت کی سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے؟

ہندوستان-پاکستان کشیدگی کے بعد 30 ممالک میں آل پارٹی وفد بھیجنے کے نریندر مودی حکومت کے فیصلے کے سیاسی اور سفارتی مضمرات پر دی وائر کے پالیٹکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔

گجرات سماچار کے مالک ای ڈی کی حراست میں، کانگریس نے کہا – وجہ مودی حکومت کی تنقید

گجرات میں ای ڈی نے ریاست کے ایک مؤقر اخبار گجرات سماچار کے مالک کو مالی دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ گجرات کانگریس کے صدر شکتی سنگھ گوہل نے کہا ہے کہ گرفتاری کی اصل وجہ وزیر اعظم اور حکومت کے خلاف اخبار کا تنقیدی موقف ہے۔

پہلگام حملہ: ’بلڈوزر جسٹس‘، مصنوعی حب الوطنی کے سہارے مودی حکومت اپنی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکتی

جب کوئی معاشرہ انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے بجائے، نمائشی  اور کھوکھلے ‘انصاف’ کا انتخاب کرتا ہے تو اس کا فائدہ دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کو ہوتا ہے۔

ون نیشن، ون الیکشن کی بعض اہم سفارشات میں خامیاں، پارلیامنٹ میں اس پر بحث کی ضرورت: سابق چیف الیکشن کمشنر

سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی سربراہی والی کمیٹی کی سفارش پر مرکزی کابینہ نے ‘ون نیشن، ون الیکشن’ کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔ تاہم، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی بعض اہم سفارشات میں خامیاں ہیں۔

کووڈ میں نوکری گنوانے والے 80 فیصد صحافی کو استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کیا گیا تھا: رپورٹ

پریس کونسل آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے دوران میڈیا اداروں کی جانب سے صحافیوں کو ہٹانے کے سلسلے میں اس کی تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے 80 فیصد صحافیوں نے کہا کہ ان پر استعفیٰ یا وی آر ایس کا دباؤ تھا۔

منریگا کی موجودہ حالت دیہی ہندوستان کے ساتھ پی ایم مودی کی غداری ہے: کھڑگے

مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ منریگا کے بجٹ میں کٹوتی کرکے حکومت اس اسکیم کے تحت کام کی مانگ کو دبانے کا کام کر رہی ہے۔

کشمیر کی تلاش میں: تیسری قسط

اگست 2019 میں دعوے کیے جا رہے تھے کہ بہت جلد کشمیری پنڈت کشمیر واپس آجائیں گے، باقی ہندوستانی بھی پہلگام اور سون مرگ میں زمین خرید سکیں گے۔ لیکن حالات اس قدر بگڑے کہ وادی میں باقی رہ گئے پنڈت بھی اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔

کشمیر کی تلاش میں: دوسری قسط

کشمیر اس وقت دو طرح کے جذبات سے بر سرپیکار ہے؛ شدید غصہ اور احساس ذلت، اور گہری مایوسی کی یہ کیفیت غیرتغیرپسند ہے۔ نہ تو پاکستان آزادی دلا سکتا ہے اور نہ ہی مرکز کی کوئی آئندہ حکومت 5 اگست سے پہلے کے حالات کو بحال کر پائے گی۔

کشمیر کی تلاش میں: پہلی قسط

کشمیر پر ہونے والے بحث و مباحثہ سے کشمیری غائب ہیں۔ ان کے بغیر ان کی سرزمین کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہے۔ اس ستم ظریفی کے ساتھ آپ جہلم کے پانیوں میں غوطہ زن ہو سکتے ہیں – یہ ندی دونوں طبقے کی نال سے لپٹی ہوئی یادوں اور مضطرب ڈور سے بندھے درد کے ہمراہ رواں ہے۔

دہلی: پارلیامنٹ میں پانی ٹپکنے پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا، کہا – باہر پیپر لیک، اندر پانی

نو سو اکہتر (971) کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی پارلیامنٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد 10 دسمبر 2020 کو رکھا گیاتھا اور 28 مئی 2023 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ بدھ کو دہلی میں ہوئی شدید بارش کے درمیان نئے کمپلیکس کی ایک لابی میں پانی گرنے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔