Author Archives

افتخار گیلانی

فائل فوٹو: رائٹرس

اسرائیل کا فلسطین کو ضم کر نے کا پلان اور کشمیر

مودی کی طرح نتین ہاہو بھی غیر روایتی اور خطرات مول لینے والے سیاستدان ہیں۔جس طرح انتہا پسند ہندوؤں کو مودی کی شکل میں اپنا نجات دہندہ نظر آتا ہے، اسی طرح یہودی انتہا پسندو ں کے لیے بھی نتین یاہو ایک عطیہ ہیں۔حالاں کہ اسرائیل کی فوج اور دنیا بھر کے یہودیوں نے جس طرح نتین یاہو کے پلان کے مضمرات کا ایک معروضی انداز میں جائزہ لیا ہے، وہ دنیا کی سب سے بڑی کہلانے والی جمہوریت،ہندوستان کے لیے ایک سبق ہے، جہاں کے اداروں کے لیے کشمیر ی عوام کے حقوق سلب کرنا اور پاکستان کے ساتھ دشمنی حب الوطنی کاپہلا اور آخری ذریعہ بنا ہوا ہے

فوٹو: پی ٹی آئی

کیا پڑوسی ممالک کے ساتھ نریندر مودی کے ’گیم‘ کو خراب کر رہا ہے چین؟

نریندر مودی چاہتے ہیں کہ پڑوسی ممالک کو خوف کی نفسیات میں مبتلا رکھا جائے اور پاکستان کے اردگرد حصار قائم کیا جائے۔مگر اب اس گیم میں چین دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کا کام کر رہا ہے، جس کی شہہ پر چھوٹے پڑوسی ممالک بھی ہندوستان کی نو آبادیاتی طرز فکر کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔

فوٹو: وکی پیڈیا

لداخ: جو کبھی متحدہ ہندوستان، تبت، چین، ترکستان اور وسط ایشیا کی ایک اہم گزر گاہ تھا…

افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔

Elephants are the ‘gardeners of the forest’. Photo: christianhaugen/Flickr, CC BY 2.0

ہتھنی کی موت پر فرقہ وارانہ سیاست

ہتھنی کی موت مسلم اکثریتی ضلع مالا پورم کے ایک دریا میں ہوئی تھی، تو مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا موقع کیسے گنوایا جاتا۔پاکستان اور مسلمانوں کو نشانہ بناکر اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا حکمران بی جے پی اور اس کے حواریوں کے لیے ایک آزمودہ فارمولہ بن چکا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

چین-ہندوستان تنازعہ: چین کی ناراضگی کے چار اسباب

چین کی ناراضگی کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں جو دستاویزات سامنے آئے ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان-چین سرحدی تنازعہ بس ایک مفروضہ ہے، جس سے پچھلے 70سالوں سے ہندوستانی حکومت عوام اور میڈیا کو بیوقوف بنارہی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

فتوے، ارطغرل اور ٹیپو سلطان

چند برس قبل بی جے پی کی آئی ٹی سیل میں کام کرنے والے ایک نوجوا ن نے بتایا کہ ان کو مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کی بھر پور ٹریننگ دی جاتی ہے۔مختلف ناموں سے شناخت بناکر سوشل میڈیا پر کسی مسلم ایشو کو لےکر بحث شروع کروائی جاتی ہے یا قرآن و حدیث و شریعت کو لےکر دل آزاری کی جاتی ہے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

افطار پارٹیوں کو قصہ پارینہ بنایا گیا۔گو کہ بی جے پی نے اپنے دفتر میں بس 1998میں ہی واحد افطار پارٹی کا انعقاد کیا تھا، مگر وزیر اعظم بننے کے بعد واجپائی اپنی رہائش گاہ پر ہر سال اس کا نظم کرتے تھے۔ 2014سے قبل ماہ مبار ک کی آمد کے ساتھ ہی سیاسی و سماجی اداروں کی طرف سےافطار پارٹیوں کا ایک لامنتاہی سلسلہ شروع ہوتا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی، فائل فوٹو: پی ٹی آئی

کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی اور افغانستان میں ایک حقیقی عوامی نمائندہ حکومت ہی خطے کی سلامتی کی ضامن ہے

ہندوستان افغانستان کے معاملات کو کشمیر کے ساتھ منسلک کرتا آیا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو بھی باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس خطے میں امن و سلامتی تبھی ممکن ہے جب کشمیر میں بھی سیاسی عمل کا آغاز کرکے اس مسئلہ کا بھی کوئی حتمی حل تلاش کرایا جائے۔

تہاڑ جیل، دہلی (فوٹو : رائٹرس)

لاک ڈاؤن کے شام و سحر اور تہاڑ جیل میں گزارے رمضان کی یاد

لاک ڈاؤن کی وجہ سے رمضان کے معمولات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مساجد میں اذانیں تو ہو رہی ہیں، مگر آپ نماز اور افطار کے لیے باہر نہیں جاسکتے ہیں۔لاک ڈاؤن سے یقیناًکائنات کی رنگینیاں پھیکی پڑ گئی ہیں، مگر گھروں کے اندر کا رمضان پھر بھی تہاڑ جیل کے روزوں سے بدرجہا بہتر ہے۔

علامتی تصویر ، فوٹو: رائٹرس

کورونا وائرس: جب دنیا جنگ بندی کو ترجیح دے رہی ہے کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر قہر جاری ہے…

کورونا وائرس سے اب تک کشمیر میں 6افراد ہلاک ہوئے ہیں، مگر بندوقوں سے 50افراد پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران جاں بحق ہوئے ہیں۔صرف اپریل کے مہینے میں ہی اب تک 37افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے، جو لائن آف کنٹرول کے آر پار گولیوں کے تبادلہ میں ہلاک ہوگیا۔

فوٹو: رائٹرس

کورونا وائرس: مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستوں کا نیا ہتھیار

ہندوستان میں جہاں اس وقت پورا ملک لاک ڈاؤن کی زد میں ہے، پولیس نے اس کا فائدہ اٹھا کر چن چن کر ایسے نوجوان مسلمانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جو پچھلے کئی ماہ سے شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ میں پیش پیش تھے۔

فوٹو : رائٹرس

صحت سے متعلق امور کو بھی قومی و انسانی سلامتی کے نظریہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے

تین سالوں میں وزارت صحت نے وبائی امراض سے متعلق قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے صلاح ومشورہ کو بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس کو پارلیامنٹ میں لانے کی بھی کسی کو توفیق نہیں ہوئی، جہاں اسکو اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کرکے اس پر غور و خوض کیا جاسکتا تھا۔ جہاں حکومت کی تمام تر توجہ اقلیتی طبقہ کو زچ کرنا، اکثریتی فرقہ کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے نیشنل ازم کا راگ الا پ کر ووٹ بٹورناہووہاں صحت سے متعلق قانون سازی کی کس کو فکر ہوتی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

کو رونا وائرس: مودی حکومت کی ترجیحات میں وینٹی لیٹر کا انتظام نہیں مشین گن کی خریداری ہے؟

جس وقت حکومت کی ترجیحات میں اسپتالوں کے نظام کو بہتر بنانا اور لاک ڈاؤن کے درمیان عوام کے لیےراشن پانی کا خیال رکھنا تھا، اس وقت مشین گن خریدنے اور دارالحکومت کے ماسٹر پلان پر خرچ کرنے کا کام نیرو جیسا حکمراں ہی کر سکتا ہے۔ پورے ہندوستان میں 1.3بلین آبادی کے لیے صرف 40ہزار وینٹی لیٹرز ہیں۔ اسرائیلی مشین گن کی قیمت تقریباً پانچ لاکھ روپے ہے۔ ایک وینٹی لیٹر کی قیمت بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ کچھ نہیں تو اس رقم سے 17ہزار وینٹی لیٹرز ہی خریدے جاسکتے تھے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کورونا وائرس: اس مشکل وقت میں ملک کو کیرالہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے

ہندوستان میں میڈیا اور حکومتی حلقے اعتراف کرتے ہیں کہ کیرالہ صوبہ کی بائیں بازو اتحاد حکومت نے قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھ کر بغیر خوف و ہراس پھیلائے خاصی حد تک وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

فائل فوٹو بہ شکریہ ، ٹوئٹر

دبئی کی شہزادیاں، مودی حکومت اور عرب حکمرانوں کی قربتیں

مودی جب سے برسراقتدار آئے ہیں، عرب ممالک انہیں کچھ زیادہ ہی سر آنکھوں پر بٹھا رہے ہیں۔ ملک میں اقلیتوں کے تئیں خوف و ہراس کی فضا، ہندو تنظیموں اور حکومت کی طرف سے آئے دن دل آزار بیانات، شہریت کے نئے قانون اور دہلی کے فسادات بھی عرب حکمرانوں کو پسیج نہیں پا رہے ہیں۔ عرب حکمراں آخر مودی حکومت کی منہ بھرائی کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا

افغانستان: بل رچرڈسن اور زلمے خیل زاد کے سفارتی مشن

اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ چند ہفتے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پائی گئی ڈیل اور 22سال قبل کابل میں رچرڈسن کے معاہدے کے مندرجات میں شاید ہی کوئی فرق ہے۔مگر اس معاہدہ پر عمل درآمد نہ کرنے اور لیت و لعل کی وجہ سے خطے میں قتل و غارت گری کا ایک ایسا بازار گرم ہوگیاکہ چنگیز خاں و ہلاکو خان کی روحیں بھی تڑپ رہی ہوں گی۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: ملک کا ایسا پہلا فساد جس کی تیاری اعلانیہ طور پر کی گئی تھی …

گزشتہ دو ماہ سے حکمراں جماعت کے لوگ کھلے عام مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلی اور دھمکی آمیز زبان استعما ل کررہے تھے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ ملک گیر سطح پر شہریت ترمیم قانون کے خلاف تحریک چلانے والوں کو خوف زدہ کیا جائے۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

عآپ کی کامیابی میں پاکستان کے وزیرا عظم عمران خان کے لیے کیا سبق ہے؟

ہندوستان میں لوگ بھول گئے تھے کہ سیاست کا مقصد گورننس،  صحت عامہ، تعلیم اور سرکاری سروسز کی فراہمی کو آسان بنا ناہوتا ہے۔ اس کا مطلب تو اب  فرقہ بندی، ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنا اور اکثریتی طبقہ میں خوف کا ماحول پیدا کرکے ان سے ووٹ […]

سابق ممبر پارلیامان اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر مظفر حسین بیگ، فوٹو: پی ٹی آئی

مظفر حسین بیگ کو پدم بھوشن دے کر جموں وکشمیر کی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا گیا ہے؟

تحلیل شدہ ریاست جموں و کشمیر سے اس سا ل سویلین یعنی پدم ایوارڈ سابق ایم پی اورپی ڈی پی رہنمامظفر حسین بیگ کو دیا گیا۔ آخر ان کو یہ ایوارڈ کیوں دیا گیا؟ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں دور دور تک کوئی ایسی کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی ہے، جس کی بنا پر وہ کسی ایسے ایوارڈ کے مستحق ہوسکتے تھے۔لگتا ہے کہ کسی متو قع ذمہ داری کے پیش نظر شیشے میں اتارنے کے لیے ان کو بطور پیشگی ایوارڈ دے دیا گیا۔

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (السٹریشن: دی وائر)

ہندوستان پاکستان کے مابین تجارت کی معطلی سے کس کو ہوا نقصان؟

حال ہی میں نئی دہلی کے ایک معروف تحقیقی ادارہ بریف نے انکشاف کیا ہے کہ ان اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان خود ہندوستان کو ہی ہوا ہے۔ صرف پنجاب کے شہر امرتسر میں ہی کم و بیش 50ہزا رافراداس سے متاثر ہوئے ہیں۔

دیویندر سنگھ اور افضل گرو، فوٹو: پی ٹی آئی

دیویندر سنگھ سے اوتار سنگھ تک: خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

سکیورٹی فورسز والے افضل کو اکثر اٹھا کر اپنے کیمپوں میں لے جایا کرتے تھے، جہاں انہیں ٹارچر کیا جاتا اور بلا وجہ مارا پیٹا جاتا تھا۔ بعد میں یہ کام جموں و کشمیر کے اسپیشل آپریشن گروپ یعنی ایس او جی نے سنبھال لیا۔ ڈی ایس پی ونئے گپتا اور دیویندر سنگھ نے ان کی رہائی کے بدلے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔

فوٹو: رائٹرس

جنرل قاسم سلیمانی: طلسماتی شخصیت یا جنگی مجرم؟

جو لوگ جنرل سلیمانی کو سنیوں کا دشمن اور عرب مخالف قرار دیتے ہیں، ان کےلیے عرض ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بعد جب اسامہ بن لادن کے مرشد الولید، اسامہ کی فیملی اور دیگر لیڈروں کے لیے پناہ گاہیں تلاش کررہے تھے، تو دسمبر 2001 میں انہوں نے ایرانی سرحد پر دستک دی، جہاں جنرل سلیمانی نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔

وزیر اعظم مودی کے ساتھ جنرل بپن راوت ، فوٹو: پی ٹی آئی

ہندوستان: پہلے کمانڈر ان چیف کی تقرری اور خدشات

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سی ڈی ایس کی تقرری تو ہوئی ہے، مگر اس عہدے کے پر کترے گئے ہیں۔ اس پوسٹ پر کسی پانچ ستارہ جنرل کے بجائے چار ستارہ جنرل کو ہی بٹھایا گیا ہے اور اس کی تنخواہ و مراعات بھی تین سروس سربراہان کے برابر ہوں گی۔ ایک طرح سے وہ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا مستقل چیئرمین ہوگا۔ مگر دیگر افراد کا کہنا ہے کہ یہ ایک شروعات ہے اور سروسز کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پولیس کی نفرت: ’مسلمانوں کے لیے پاکستان یا قبرستان‘

سال 2015 میں سمستی پور میں ایک بند کمرے کی میٹنگ میں نمبرداروں کو بتایا گیا تھاکہ انتخابات کے بعد جب بھارتیہ جنتا پارٹی صوبے میں اقتدار میں آئے گی تو مسلمان پاکستان جائیں گے اور ان کی جائیدادیں گاؤں والوں میں بانٹی جائیں گی۔مجھے یہ سنتے ہوئے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ محض چار سال بعد اتر پردیش کے مظفر نگر قصبہ میں 72سالہ حاجی حامد حسین کو پولیس کی لاٹھیوں اور بندوقوں کے بٹ کے وار سہتے ہوئے یہ سنناپڑے کہ پاکستان ورنہ قبرستان…

فوٹو: رائٹرس

ہندوپاک کا نظام: احتساب، استحکام اور انتقام

پاکستان کی ایک اسپیشل عدالت نے جب سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تو پہلے خوشی اس لیے ہوئی کہ شاید اب آئندہ طاقت کے نشے میں چور کوئی آمر پاکستان میں من مانی کرنے یا جمہوریت کی قبا چاک کرنے کی جرأت نہیں کر پائے گا۔ کم سے کم کچھ اور نہیں تواداروں کے عہدوں کا وقار برقرار رہےگا۔ مگر جب تفصیلی فیصلہ منظر عام پر آیا، تو تمام تر خوشی اورپر امیدی کافور ہوگئی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

واجپائی :معتدل یا موقع پرست سیاستداں؟

اٹل بہاری واجپائی کے تئیں بہتر خراج عقیدت یہی ہوسکتا ہے کہ ہزاروں بے گناہ اور معصوم افرادکو مزیدآگ کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے سرحد کے دونوں طرف کے عوام کے لئے امن کی راہیں ہموار کی جائیں اور دیرینہ تنازعات کے لئے کوششوں کو تیز کیا جائے۔

فوٹو: رائٹرس

شہریت ترمیم قانون: کیا حکمراں بی جے پی ہندوستان کے مسلمانوں سے بدلہ لے رہی ہے؟

شہریت ثابت کرنے کے لیے پاسپورٹ، ووٹر کارڈ یا آدھار کی کوئی وقعت نہیں ہے، بلکہ دادا یا نانا کی جائیداد کے کاغذات جمع کرنے ہوں گے اور پھر ان سے رشتہ ثابت کرنا ہوگا۔ آسام میں تو ایسے افراد حراستی کیمپوں میں ہیں، جن کے نام میں محمد کی اسپیلنگ انگریزی میں کہیں ایم،یو، تو کہیں ایم، او،ہے۔ بس اسی فرق کی وجہ سے ان کی شہریت مشکوک قرار دی گئی ہے۔

Agganistan_Reuters

افغانستان میں امن کی کوششوں سے مسئلہ کشمیرکا کیا رشتہ ہے؟

مسئلہ کشمیر اور اس کے انسانی عوامل کو نظر انداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ جتنی جلدی یہ عالمی برادی کی سمجھ میں آجائے، بہتر ہے۔ مانا کہ ہندوستان ایک بڑی تجارتی منڈی ہے، مگر تجارت کے لیے بھی تو امن لازمی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

کیا ہندوستان سری لنکا کو اقلیتوں کے حقوق کا سبق پڑھا سکتا ہے؟

صدر گوٹا بایا کے بھائی اور وزیر اعظم مہندا راجا پکشا نے کہا تھا کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر میں جو اقدامات کیے ہیں، سر ی لنکا ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ جو حکومت خود اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق غصب کرکے ایک ریاست کو تحلیل کرسکتی ہے وہ ایک پڑوسی ملک کو کس طرح اقلیتوں کو حقوق دینے کے لیے مجبور کرسکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو بہ شکریہ : انفارمیشن منسٹری پاکستان)

کیا کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر پاکستان سفارتی محاذ پر اپنی کوشش جاری رکھ سکتا ہے؟

آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی صاحب سے بس یہی گزارش ہے کہ امن، قدر و منزلت، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتے ہیں۔

A photograph of the Babri Masjid from the early 1900s. Copyright: The British Library Board

کیا اب بابری مسجد صرف تاریخ کے اوراق میں گم ہوکر رہ جائے گی؟

تقریباًایک ہزار صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلہ کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے میں کشمیری نوجوان افضل گرو کو دی گئی سزائے موت کے فرمان کو پڑھ رہا ہوں۔ جب لگ رہا تھا کہ شاید کورٹ اپنے ہی دلائل کی روشنی میں گرو کر بری کردے گی،تب فیصلے کا آخری پیراگراف پڑھتے ہوئے، جج نے فرمان صادر کیا کہ’اجتماعی ضمیر’ کو مطمئن کرنے کی خاطر، ملزم گرو کو سزائے موت دی جاتی ہے۔بالکل اسی طرح بابری مسجد سے متعلق فیصلہ میں بھی کورٹ نے ہندو فریقین کو مطمئن کردیا۔

ابوبکر البغدادی، فوٹو : رائٹرس

اسامہ اور بغدادی کے خلاف امریکی آپریشن میں کیا مماثلت ہے؟

مغربی ممالک اور امریکی اداروں نے ا یبٹ آباد کے آپریشن کے بعد جس طرح پاکستان کو ایک طرح سے احساس گناہ میں مبتلاکرکے رکھا اور اسامہ کی ایک فوجی مستقر میں موجودگی کو پوری دنیا میں موضوع بحث بنادیا، بالکل اسی طرح بارشہ کا آپریشن بھی ترکی کی سفارت کاری کے لیے اب ایک امتحان ہوگا۔ لگتا ہے کہ آپریشن کا وقت بھی سوچ سمجھ کر طے کیا گیا تھا، تاکہ یہ ترکی کی حالیہ فوجی و سفارتی کامیابی میں دودھ میں جیسے مینگنیاں ڈالنے کا کام کرے۔

فوٹو : رائٹرس

شام میں ترکی کے فوجی آپریشن سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

ترکی کے اس فوجی اپریشن سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ اردگان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس سے قبل اس نے ناٹو کا رکن ہوتے ہوئے بھی روس سے ایس۔400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدکر ایک بڑے سفارتی چیلنج کا سامنا کرکے، اس کو نہایت ہی زیرک طریقے سے سلجھا دیا۔ شاید اسی وجہ سے بشارالاسد کا حلیف ہوتے ہوئے بھی روس کا رد عمل کچھ زیادہ سخت نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ عالمی امور میں امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ٖفوٹو بہ شکریہ:dailyexcelsior

کشمیر: گورنر کے مشیر فاروق خان کا چھٹی سنگھ پورہ سکھ قتل عام سے کیا تعلق ہے؟

ریٹائر ہونے کے فوراً بعد فاروق خان کو شاید اندازہ تھا کہ کسی نہ کسی وقت وہ مکافات عمل کا شکار ہو جائےگا، تو ڈیفنس میکانز م کے طور پر اس نے بی جے پی جوائن کرکے دفعہ 370 کے خلاف عرضی دائر کی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ سکھ برادری قومی اور عالمی اداروں کو جھنجھوڑ کر ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیق و تفتیش کا مطالبہ کرکے ملزمین کو سزا دلوانے میں رول ادا کرے۔

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (السٹریشن: دی وائر)

کیا ہندوستان میں مذہبی منافرت ابھارنے کا کام منطقی انجام تک پہنچ چکا ہے؟

بیشتر ملکوں کو اب یہ باور ہوگیا ہے کہ مودی حکومت کا مقصد دہشت گردی کے تدارک کے بجائے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اقتصادی اور سیاسی طور پر لمحاتی فائدہ حاصل کرنا ہے ،اورمیڈیا کے ذریعے اپنے ملک میں واہ واہی لوٹناہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

آرٹیکل 370 کے بعد کشمیری زبان اور اس کے رسم الخط پر حملہ کیوں؟

کشمیری زبان کے رسم الخط کو قدیمی شاردا اور پھر دیوناگری میں تبدیل کرنے کی تحویز اس سے قبل دو بار 2003اور پھر 2016 میں ہندوستان کی وزارت انسانی وسائل نے دی تھی۔ مگر ریاستی حکومت نے اس پر سخت رخ اپنا کر اس کو رد کردیا۔

Don`t copy text!