Author Archives

ایم کے وینو

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

نریندر مودی کی ’ریوڑی نامکس‘ معیشت سے نہیں، خالصتاً سیاست سے متعلق ہے

وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘مفت کی ریوڑی’ والے بیان کے بعدجہاں ہر طرح کے ماہرین اقتصادیات سبسڈی کی خوبیوں اور خامیوں کی پیچیدہ باریکیوں کو سمجھنےکے لیےمجبور ہو گئے ہیں، وہیں مودی کے لیے اس ایشو کو کھڑا کر پانا ہی ان کی کامیابی ہے۔

منگل کو نتیش کمار آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کے ساتھ گورنر سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

بہار کی سیاسی پیش رفت نے اپوزیشن کی سیاست کو بےحد دلچسپ بنا دیا ہے

بہار میں حالیہ سیاسی پیش رفت 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے ملک کی سیاست کو بدلنے کا مادہ رکھتی ہے۔ اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھیں تو بی جے پی کے پاس سات پارٹیوں کے اس مہا گٹھ بندھن کو لے کر فکر مند ہونے کی ہر وجہ ہے۔

modi

ٹی وی کی زہریلی بحثیں محض علامت ہیں، سیاست اور معاشرے کو کھارہی بیماری تو کہیں اور ہے

حال ہی میں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے کئی پرائم ٹائم ٹی وی اینکروں اور بڑے چینلوں کے مدیران کو اس بات پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا کہ کیا نیوز چینلوں پر فرقہ واریت اور پولرائزیشن کو فروغ دینے والے مباحث کو کم کیا جا سکتا ہے۔ وزیر موصوف واضح طور پر غلط جگہ پر علاج کا نسخہ آزما رہے ہیں جبکہ اصل بیماری ان کی ناک کے نیچے ہی ہے۔

(تصویر: رائٹرز)

کیا عالمی کساد بازاری کے ساتھ مہنگائی کا خوفناک دور دستک دے رہا ہے

ہندوستان کو عالمی معیشت میں کسی بھی اتھل پتھل کی صورت میں بدترین صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ اب وہ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیات میں کہیں زیادہ عالمگیر ہو چکا ہے۔ آج یہاں امریکی فیڈرل ریزرو کی کارروائیاں ریزرو بینک آف انڈیا کے مقابلے زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لیبر فورس کی شرکت کی شرح میں کمی کو ملک کے پالیسی ساز نظر انداز نہیں کر سکتے

روزگار کی شرح یالیبر فورس کی شرکت کا تناسب اس بات کا ایک پیمانہ ہے کہ معیشت میں کتنے روزگار کے اہل لوگ اصل میں نوکری کی تلاش میں ہیں۔سی ایم آئی ای کےمطابق،ہندوستان کے لیبر فورس کی شرکت کا تناسب مارچ 2021 میں41.38 فیصدی تھا (جو کہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے بالکل قریب ہے)لیکن گزشتہ ماہ یہ گر کر 40.15 فیصدی رہ گیا۔

(السٹریشن: دی وائر)

ایپل کا پیگاسس کےخلاف مقدمہ کرنا حکومت ہند  کے لیے شرمندگی کا سبب بن سکتا ہے

وہاٹس ایپ یا فیس بک کے برعکس ایپل متنازعہ نہیں ہے اور مودی حکومت اس کو اعلیٰ پائیدان پر رکھتی ہے۔ اس پس منظر میں اب تک پیگاسس کے استعمال سےانکار کرتی آئی حکومت ہند کے لیے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم میں ہوئی دراندازی کے سلسلے میں کمپنی کے نتائج کو مسترد کرنا بہت مشکل ہوگا۔

(فوٹو بہ شکریہ: rupixen/Unsplash)

نوٹ بندی کے پانچ سال بعد مودی حکومت کے پاس اس کی کامیابی کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

نوٹ بندی کے غیرمتوقع فیصلے کے ذریعے بات چاہے کالے دھن پر روک لگانے کی ہو، معاشی نظام سے سے نقد کو کم کرنے یا ٹیکس جی ڈی پی تناسب بڑھانے کی،اعدادوشمار مودی حکومت کے حق میں نہیں جاتے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

پیگاسس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی جمہوریت کو پھر سے مضبوط کرنے کا مادہ رکھتا ہے

پیگاسس جاسوسی کا معاملہ ایک طرح سے میڈیا، سول سوسائٹی،عدلیہ،حزب اختلاف اور الیکشن کمیشن جیسے جمہوری اداروں پر آخری حملے جیسا تھا۔ ایسے میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے نے کئی لوگوں کو راحت پہنچائی، جو حال کے سالوں میں ایک ان دیکھی بات ہو چکی ہے۔

19 اکتوبر 2021 کو لکھنؤ کے پارٹی دفتر میں کارکنوں کے بیچ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

پرینکا گاندھی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی داؤ کتنا کارگر ہوگا؟

یوپی میں خواتین کےلیے 40 فیصدی سیٹوں کااعلان کرکے پرینکا گاندھی نے ایک طرح سے یہ صاف کر دیا ہے کہ کانگریس سیٹوں کی ایک بڑی تعداد پرانتخاب لڑےگی۔ یعنی دوسری پارٹیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ یا اتحاد نہیں کرےگی۔خواتین کو بااختیار بنانےکے داؤ کو اس قدر تشہیر کے ساتھ کھیلنے کا تبھی کوئی تک بنتا ہے، جب آپ انتخابی جدوجہد میں اپنی موجودگی کو کو نمایاں طور پربڑھائیں۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

ملک کا روایتی نیوز میڈیا اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے

مہاماری کےبعد سےمیڈیاصارفین کاایک بڑا طبقہ اخبارات نہیں خرید رہا ہے۔ڈیجیٹل میڈیا سے مقابلےکےباعث اشتہارات کی شرح میں تقریباً40 فیصدی کی کمی آگئی ہے۔ کچھ استثناء کو چھوڑ دیں تو نیوز میڈیاسیکٹر کے تقریباًتمام بڑے نام بحران سے باہر آنے کے لیےجدوجہد کر رہے ہیں۔

(فوٹو: رائٹرس)

اثاثہ منیٹائزیشن: آئندہ 30 سالوں میں اس اثاثے سے ہونے والی شہریوں کی آمدنی پر مودی حکومت آج ہی جھپٹا مار رہی ہے

بینک فنڈز تک رسائی والےممکنہ چار یا پانچ کارپوریٹ گروپ ہی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، کوئلہ کانوں، گیس پائپ لائنوں اور بجلی پیداکرنے والےمنصوبوں کی طویل مدتی لیز کے لیے بولی لگائیں گے۔ایسے میں کہنے کے لیے بھلے ہی ملکیت حکومت کے پاس رہے، لیکن یہ عوامی اثاثےکچھ چنندہ کارپوریٹ گروپس کی جھولی میں چلے جائیں گے، جن کی پہلے ہی کسی حد تک اجارہ داری ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

 کیا مودی کی ناکام اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے اب لیبر ٹریفک فیکٹریوں سے کھیتوں کی طرف گامزن  ہے

مسلسل اقتصادی ترقی کےکسی بھی دور کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی آتی ہے اور لیبرفورس زراعت سے انڈسٹری اورسروس سیکٹر کی طرف گامزن ہوتا ہے۔حالیہ اعدادوشمار دکھاتے ہیں کہ ملک میں ایک سال میں تقریباً1.3کروڑ مزدور ایسےسیکٹر سے نکل کر کھیتی سے جڑے ہیں۔ عالمی وبا ایک وجہ ہو سکتی ہے،لیکن مودی سرکار کی اقتصادی پالیسیوں نے اس کی زمین پہلے ہی تیارکردی تھی۔

(فوٹو بہ شکریہ: وشنو موہنن/انسپلیش)

پیگاسس جاسوسی اور ہندوستانی جمہوریت کے امتحان کی گھڑی

جب حکومتیں یہ دکھاوا کرتی ہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر ہو رہی غیر قانونی ہیکنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہیں، تب وہ حقیقت میں جمہوریت کی ہیکنگ کر رہی ہوتی ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے ایک اینٹی وائرس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں مسلسل بولتے رہنا ہوگا اور اپنی آواز سرکاروں کو سنانی ہوگی۔

(علامتی تصویر، فوٹوبہ شکریہ: Digitalpfade/pixabay)

نئے آئی ٹی ضابطوں کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف بتاتے ہوئے کورٹ پہنچے میڈیا گھرانے

بڑےمیڈیا گھرانوں نے نئے میڈیاضابطوں کو‘مبہم اورمن مانا’قرار دیتے ہوئے ٹھیک ہی کیا ہے، لیکن اس کویہ بھی سمجھنا چاہیے کہ روایتی میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور حالیہ وقت میں آئے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز کے بیچ فرق کرنے کی کوششیں بھی قابل دفاع نہیں ہیں۔

24 مئی2021 کو دہلی کا ایک ویکسینیشن سینٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ: سرکاری وعدوں کے باوجود مستقبل قریب میں ویکسین کی قلت کا کوئی حل نظر نہیں آتا

مرکز نے اگست سے دسمبر کے بیچ2.2ارب ٹیکے دستیاب کروانے کی بات کہی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے کتنے ملک میں بنیں گے اور کتنے امپورٹ کیے جائیں گے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ٹیکوں کی موجودہ قلت نومبر 2020 سے جنوری 2021 کے بیچ کمپنیوں کو ویکسین کا پری آرڈر دینے میں مودی سرکار کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

ناقص ویکسین پالیسی کے لیے صرف اور صرف وزیر اعظم مودی ذمہ دار ہیں

مرکز نے سپریم کورٹ کو کہا ہے کہ اسےصحیح ویکسین پالیسی نافذ کرنے کو لےکرایگزیکٹوکی دانشمندی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی واضح طور پر اعلانیہ قومی ٹیکہ کاری پالیسی ہے ہی نہیں۔

8 اپریل کو ممبئی کے ایک ٹیکہ کاری مرکز پر ویکسین ختم ہونے کے بعد کھڑے لوگ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک کی موجودہ کورونا صورتحال  کے لیے سب سے زیادہ وزیر اعظم  ذمہ دار ہیں

ملک میں بےحد تیزی سے بڑھ رہے کورونا انفیکشن کے معاملوں کے مدنظر اب تک ویکسین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا دیا جانا چاہیے تھا۔ ظاہر ہے کہ اس سمت میں مرکزی حکومت کی پلاننگ پوری طرح ناکام رہی ہے۔

Screen-Shot-2021-02-09-at-9.06.41-PM

’کسانوں کو فخر ہے کہ وہ ’آندولن جیوی‘ ہیں‘

ویڈیو:مرکز کے نئے زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے سنیکت کسان مورچہ نے سوموار کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘آندولن جیوی’ والےبیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسانوں کی توہین ہے۔تحریکوں کی وجہ سے ہندوستان کو نوآبادیاتی اقتدارسے آزادی ملی اور انہیں فخر ہے کہ وہ ‘آندولن جیوی’ ہیں۔

وزیر خزانہ  نرملا  سیتارمن اور وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر (فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا 2021 کا بجٹ ہندوستان کو ترقی کی پٹری پر واپس لا سکتا ہے؟

سرکار امید کر رہی ہے کہ طبعیاتی اور سماجی دونوں طرح کے بنیادی ڈھانچے پر اس کی جانب سے کیا جانے والا بڑا خرچ نئی آمدنی پیدا کرےگا، جس سے خرچ بھی بڑھےگا۔سرمائی اخراجات میں اس اضافے کا فائدہ 4-5 سال میں نظر آئے گا، بشرطیکہ اس پر صحیح سے عمل ہو۔

ہارلے ڈیوڈسن اور ٹویوٹا کا لوگو۔ (فوٹوبہ شکریہ: Flickr)

ٹویوٹا اور ہار لے: کیا ہندوستان میں ٹیکس اور ادارہ جاتی مانگ کو لے کر مشکلات درپیش ہیں؟

موجودہ اقتصادی تناظر میں ہندوستان عالمی کمپنیوں کے لیے نسبتاً کم کشش کابازار بن رہا ہے، جس کے اسٹرکچرل طور پر ٹھیک ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ کئی عالمی برانڈ ہندوستان میں یا تو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو کم کرنا چاہتے ہیں یا معیشت کو دیکھتے ہوئے مزید توسیع کے لیے سرمایہ کاری نہیں کر رہے ہیں۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

لاک ڈاؤن کے بعد معیشت میں اصلاحات کے نریندر مودی کے دعوے کھوکھلے ہیں

اگلے چھ مہینوں میں دنیا کی دوسری معیشت کے مقابلے ہندوستانی معیشت میں زیادہ تیزی سے ہونے والی جن اصلاحات کو لےکر وزیر اعظم اتنے مطمئن ہیں، وہ بھاری بھرکم سرکاری خرچ کے بغیر ناممکن معلوم ہوتے ہیں۔معیشت کو اتنا نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ اصلاحات کاکوئی لائحہ عمل مرتب کرنے یا حکمت عملی پیش کرنے سے پہلے سنجیدگی سے اس کامطالعہ کرنا ضروری ہے۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

بیس لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کی اہمیت اس بات سے ہے کہ سرکار غریبوں کے ہاتھ میں کتنی رقم  دے گی

اگرآر بی آئی کے اعلانات اورمرکز کے پہلے کو رونا راحت پیکیج کی رقم کوجوڑ دیں تووزیر اعظم نریندر مودی کے20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج میں تقریباً13 لاکھ کروڑ روپے کی ہی اضافی رقم بچتی ہے، جس کی تفصیلات دی جانی ابھی باقی ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی(فوٹو: پی ٹی آئی)

کو رونا: ملک کی معیشت کو لاک ڈاؤن کے ’چکرویوہ‘ سے کیسے نکالیں گے مودی اور وزرائے اعلیٰ

اگر وزیراعظم نریندر مودی کو لگتا ہے کہ ہندوستان باقی ممالک کی طرح لگاتار چل رہے ایک مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بڑا اقتصادی پیکج نہیں دے سکتا تو انہیں لازمی طور پر لاک ڈاؤن میں چھوٹ دینے کے بارے میں سوچ سمجھ کر اگلا قدم اٹھانا چاہیے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہو ئے شدید معاشی بحران کا سامنا کر نے کے لیے ملک کو تیار رہنا ہوگا

جب حکومت کورونا وائرس کاسامناکرنے کے لئے معاشی سرگرمیاں بند کردے گی ، تب معلوم ہو گا کہ اس سے بے روزگاری میں اور اضافہ ہوگا ،ساتھ ہی لوگوں کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوگی۔ ا س صورتحال میں ، ملک کے یومیہ مزدوروں اوراپنے روزگار میں لگےافراد کے لئے آمدنی کا ٹرانسفر حکومت کی ترجیحاٹ میں ہونی چاہیے۔

فوٹو: رائٹرس

یس بینک کے ذریعہ دیے گئے قرض میں 80 فیصد اضافے کا فائدہ کس کو ملا؟

یس بینک کے ذریعہ دیے گئے کل قرض میں مالی سال 2017 سے 2019 کےدرمیان 132000 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ بینک نے اپنے قیام کے بعد 17 سالوں میں جتنا قرض دیا تھا، تقریباً اتنا ان دو سالوں میں دیا گیا۔ وہ کارپوریٹ قرض دار کون تھے، جن کو پرائیویٹ سیکٹرکے اس بینک نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعدکے دو سالوں میں بنا کچھ سوچے-سمجھے اتنا قرض دیا؟

image

اگر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر کے لیے جیل بھی جانا پڑا، تو میں جاؤں گا: ہرش مندر

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کےبعد ہیٹ اسپیچ دینے کے لیے بی جے پی رہنماؤں -کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما پر ایف آئی آر درج کرانے کے لیے سماجی کارکن ہرش مندر نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔اس بارے میں ان سے دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو کی بات چیت۔

فوٹو: پی ٹی آئی

آر بی آئی اور ایل آئی سی کے دم پر کب تک اقتصادی بحران سے نبٹےگی سرکار؟

پچھلے سال سرکار نے ریزرو بینک آف انڈیا سے 1.76 لاکھ کروڑ روپے لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سال یہ ایل آئی سی سے 50000 کروڑ سے زیادہ لے سکتی ہے۔ بی پی سی ایل، کانکور جیسے کچھ پبلک سیکٹر کے انٹر پرائززکو پوری طرح سے بیچا جا سکتا ہے۔

اٹل بہاری واجپائی، منموہن سنگھ، لال کرشن اڈوانی اورپرکاش کرات(فوٹو : رائٹرس)

شہریت قانون میں مذہب کے معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کے برعکس ہے مودی حکومت کا رویہ

شہریت قانون کو لےکر 2003 اور اس کے بعد ہوئی بحث میں نہ صرف کانگریس اور لیفٹ بلکہ بی جے پی رہنماؤں اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی نے بھی مذہبی طورپر مظلوم پناہ گزینوں کو لےکرمذہب کی بنیاد پر جانبداری نہ کرنے کی پیروی کی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بی جے پی صدر امت شاہ (فوٹو : رائٹرس)

ہمیں مودی اور شاہ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اقلیتوں کے خلاف لگاتار چلائی گئی مہم نے ملک کو بیدار کردیا ہے

نہ ہی وزیر اعظم اور نہ ہی وزیر داخلہ کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایسے طاقتور مظاہرہ کے اٹھ کھڑے ہونے کی امید رہی ہوگی۔اب عالم یہ ہے کہ وزیر اعظم ملک گیر این آر سی کے منصوبہ سے ہی انکار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہی وزیر داخلہ نے پارلیامنٹ میں اس بابت بیان دیا تھا۔

Don`t copy text!