ای وی ایم

(فوٹو : پی ٹی آئی)

لوک سبھا میں5 فیصد سے کم ہوئی مسلمانوں کی نمائندگی، بی جے پی سے ایک بھی مسلم ایم پی نہیں

لوک سبھا انتخاب میں جیت درج کرنے والی پارٹیوں میں سے بی جے پی واحد ایسی پارٹی ہے جس کی طرف سے ایک بھی مسلم ایم پی لوک سبھا نہیں پہنچا ہے۔ 542 سیٹوں پر ہوئے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے 303 سیٹوں پرجیت درج کی ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

یوپی-بہار میں کئی جگہوں پر ای وی ایم کی مشتبہ آمد ورفت پر اٹھے سوال

اتر پردیش کے غازی پور، چندولی، ڈمریاگنج، مئوکے ساتھ بہار میں بھی کچھ جگہوں پر ای وی ایم کی مشتبہ آمد ورفت کا الزام لگایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ تمام معاملوں کو سلجھا لیا گیا ہے۔

فائل فوٹو: رائٹرس

ای وی ایم معاملے میں سابق صدر جمہوریہ نے کہا- بھروسہ نہ ٹوٹنے دے الیکشن کمیشن

پرنب مکھرجی مکھرجی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ای وی ایم کے حوالے سے آنے والی خبریں باعث تشویش ہیں ۔ ای وی ایم کی حفاظت کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ دار ی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، الیکشن کمیشن کو عوام کا بھروسہ نہیں ٹوٹنے دینا چاہیے۔

ایک وی وی پی اے ٹی مشین(فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

سپریم کورٹ نے 100 فیصد وی وی پی اے ٹی تصدیق کی مانگ والی عرضی خارج کی

ایک تنظیم نے اپنی عرضی میں کہاتھا، ای وی ایم قابل اعتماد نہیں ہے اور اس کی ٹیمپرنگ کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مانگ کی تھی کہ ای وی ایم کی جگہ آپٹکل بیلیٹ اسکین مشین کے ذریعے ووٹنگ کی جانی چاہیے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

سابق فوجی افسروں نے صدر جمہوریہ کولکھا خط، کہا-سیاسی فائدے کے لئے فوج کا استعمال روکیے

خط لکھنے والوں میں تینوں فوج کے آٹھ سابق چیف سمیت 150 سے زیادہ سابق فوجی افسر شامل ہیں۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ فوج کا سیکولر اورغیر سیاسی کردار محفوظ رہے۔

فوٹو: رائٹرس

66 سابق نوکر شاہوں نے صدر جمہوریہ کو لکھا خط، کہا-الیکشن کمیشن اپنے بھروسہ کو قائم رکھنے میں کامیاب نظر نہیں آرہا

خط میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے درج کی گئی زیادہ تر شکایتوں پر کس طرح سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔

ہیکر سید شجاع (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر / FPALondon اور پی ٹی آئی)

ای وی ایم ہیکنگ معاملہ: یہ مذاق بھی ہوسکتا ہے اور مذاق ہے تب بھی اس کی جانچ ہونی چاہیے

لندن میں ہوئی ہیکر سید شجاع کی پریس کانفرنس کو دو حصے میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک ای وی ایم کو چھیڑنے کی تکنیک کے طور پر ، جس پر ہنسنے والوں کے ساتھ ہنسا جا سکتا ہے، مگر دوسرا حصہ قتل کے سلسلے کا ہے۔ ایک کمرے میں ای وی ایم چھیڑنے کی تکنیکی جانکاری رکھنے والے 11 لوگوں کو بھون دیا جائے، یہ بات فلمی لگ سکتی ہے تب بھی اس پر ہنسا نہیں جا سکتا۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

راجستھان : ای وی ایم کے تحفظ  کو لےکر بھرت پور میں تنازعہ کے بعد ایس پی کو چھٹی پر بھیجا گیا

بھرت پور ضلع کے ڈیگ کمہیر سے کانگریس امیدوار وشویندر سنگھ نے ای وی ایم سے چھیڑچھاڑ اور اس کے تحفظ کو لےکر لاپرواہی برتے جانے کا الزام لگایا تھا۔سنیچر کی شب  کانگریس کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ای وی ایم کو لےکر تنازعہ ہوا تھا۔ ای […]

Photo: PTI

منصفانہ، آزاد اور شفاف انتخابات کرانے کی روایت کو اور مضبوط بنائیں گے :راوت

مسٹر اوم پرکاش راوت نے مسٹر اے کے جوتی کی جگہ لی ہے جو کل ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔مدھیہ پردیش کیڈر کے 1977 بیچ کے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر رہے مسٹر راوت بنیادی طور پر اتر پردیش کے جھانسی کے رہنے والے ہیں۔

Photo : Dilip C Mandal Facebook

ای وی ایم میں گڑبڑی ، ’کوئی بھی بٹن دبا کر بھاجپا کووجے بنائیں‘

سوشل میڈیا پر ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کو لے کر مذاق بنایا جارہا ہے۔سینئر صحافی اور تبصرہ نگاہ دلیپ سی منڈل نے اپنی فیس بک وال پہ ایک فوٹو شیئر کیا ہے جس میں لکھا ہےکہ ؛ای وی ایم کے سامنے والا کوئی بھی بٹن دبا […]