جے این یو انتظامیہ

 جواہرلال نہرو یونیورسٹی(فوٹو : شوم بسو)

ہندوستان اور جے این یو دو پڑوسی ملک ہو گئے ہیں…

جے این یو کوئی جزیرہ نہیں ہے، وہاں ہمارے ہی سماج سے لوگ پڑھنے جاتے ہیں۔جو بات اسے خاص بناتی ہے، وہ ہے اس کی جمہوری‎ قدریں جن کی تعمیر کسی ایک شخص،پارٹی یا تنظیم نے نہیں، بلکہ الگ الگ فطرت اور نظریے کے لوگوں نے کی ہے۔ اگر ایسانہیں ہوتا، تب کسی بھی حکومت کے لئے اس کو ختم کرنا بہت آسان ہوتا۔

fake 2

آتش تاثیر اورجے این یو احتجاج سے متعلق عام کی گئی فیک نیوز کی سچائی  

فیک نیوز راؤنڈ اپ: جے این یواحتجاج کے خلاف فیک نیوز اور پروپیگنڈہ کی ایک مہم مین اسٹریم میڈیا سے لےکرسوشل میڈیا میں بہت منظم طریقے سے چلائی جا رہی ہے۔اس مہم میں زی نیوز کے سدھیر چودھری سے لےکر بی جے پی آئی ٹی سیل کے معمولی ٹرولز بھی بڑے خلوص سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں! عمر دراز لوگوں کی تصویریں جےاین یو طلبا کے طور پر عام کیے جانے یا نوجوان طلبا کی عمر غلط بتاکر تصویریں عام کرنے کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ عوام کے درمیان یہ پروپیگنڈہ بالکل پختہ ہو جاۓکہ جولوگ فیس میں اضافےپرہنگامہ کررہےہیں دراصل ان کوعیش پرستی کی عادت ہوگئی ہےاوریہ لوگ پچاس سال کی عمرتک جے این یو میں پڑے رہتے ہیں!

HBB 18 November.00_23_55_11.Still002

جے این یو: کیا سستی تعلیم لوگوں کا حق نہیں ہے؟

ویڈیو: جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں گزشتہ 3 ہفتوں سے فیس میں اضافے کو لے کر طلبا تنظیموں کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس مدعے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی ، دی وائر کے صحافی اویچل دوبے، اے آئی ایس اے کے قومی صدر این سائی بالاجی اور جے این یو کے اسٹوڈنٹ انیکیت سنگھ کے ساتھ بات کر رہی ہیں۔

KARAN FAIZAN IV 19 NOV.01_00_15_15.Still011

میڈیا بول: جے این یو کا سچ اور الیکٹورل بانڈ کا سرکاری فراڈ

ویڈیو: میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں فیس میں اضافے کے خلاف چل رہے مظاہرے اور آر بی آئی کے ذریعے الیکٹورل بانڈ کی مخالفت سے متعلق خبر پر سی پی آئی (ایم ایل)کی پولت بیورو ممبر کویتا کرشنن، قلمکار سہیل ہاشمی اور سینئر صحافی نتن سیٹھی سے سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

فوٹو بہ شکریہ فیس بک /رویش کمار

رویش کا بلاگ: ٹی وی چینلوں کو غنڈوں کی طرح تعینات کر جے این یو کو ختم کیا جا رہا ہے

ہندوستان کا اپوزیشن آوارہ ہو گیا ہے۔ عوام پکار رہی ہے مگر وہ ڈرا سہما دبکا ہے۔نوجوانوں کو لاٹھیاں کھاتا دیکھ دل بھر آیا ہے۔ یہ اپنا مستقبل داؤپر لگا کر آنے والی نسلوں کا مستقبل بچا رہے ہیں۔ کون ہے جو اتنا ادھ مرا ہو چکا ہے جس کو اس بات میں کچھ غلط نظر نہیں آتا کہ سستی اور اچھی تعلیم سب کا حق ہے۔ ساڑھے پانچ سال ہو گئے اور تعلیم پر چرچہ تک نہیں ہے۔

فوٹو بہ شکریہ، اسکرال

اگر جے این یو نہیں ہوتا…

گزشتہ دنوں جے این یو میں فیس میں اضافہ کے خلاف طلبا نے احتجاج کیا ۔ بدھ کو شدید احتجاج کے بعد حکومت نے جزوی طور پر ان کے مطالبے کو مان لیا ہے۔جب طلبا احتجاج کررہے تھے تو ا س دوران بہت سارے لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر کے پیسوں پر جے این یو کے طلبا کو ‘عیش’ کرنے کا موقع کیوں ملے۔لوگو ں کی اس سوچ میں کتنی سچائی ہے ،بتا رہے ہیں جے این یو کے سابق طالب علم اوران دنوں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس میں ریسرچ اسکالر مکیش کلریا۔

جے این یو ایس یو پریسیڈنٹ آئیشی گھوش (پیلے کپڑے میں) اور نائب صدر ساکیت مون(بائیں سے دائیں ) (فوٹو : پی ٹی آئی)

جے این یو انتظامیہ نے اسٹوڈنٹ یونین کو آفس خالی کرنے کو کہا، جے این یو ایس یو نے کیا انکار

جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الیکشن میں لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اب تک یونین نوٹیفائڈ نہیں ہوئی ہے۔ وہیں، اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آئیشی گھوش نے کہا کہ 8500 اسٹوڈنٹس یونین کی آواز کو اس طرح انتظامیہ بند نہیں کر سکتا۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ہمارا بس چلے تو سیڈیشن کا ایسا قانون بنائیں‌ کہ لوگوں کی روح کانپ اٹھے: راجناتھ سنگھ

جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پر ریاست کے لئے الگ وزیر اعظم کی ان کی مانگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں ان رہنماؤں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ایسی مانگ جاری رکھتے ہیں، تو ہمارے پاس آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو رد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جے این یو سیڈیشن معاملہ: دہلی حکومت نے کہا، پولیس نے جلدبازی میں چارج شیٹ داخل کی

2016 میں درج سیڈیشن کے معاملے میں دہلی پولیس نے جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار، سابق طالب علم عمر خالد، انربان بھٹاچاریہ اور دیگر کے خلاف گزشتہ 14 جنوری کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

جے این یو سیڈیشن معاملہ: وزیر قانون نے کہا، لاء سکریٹری نے مجھے دکھائے بنا فائل ہوم ڈپارٹمنٹ کو کیسے بھیجی

جواہر لال نہرو یونیورسٹی سیڈیشن معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کے ذریعے دائر چارج شیٹ کو منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا اور دہلی حکومت کے وزارت قانون سے اجازت لینے کو کہا تھا۔

Don`t copy text!