ٹوئٹر

(فوٹو بہ شکریہ: آصف خان/رائٹرس)

’مجھے ان ٹوئٹس کی وجہ سے نوکری سے نکالا گیا، جو میں نے کیے ہی نہیں تھے‘

گزشتہ دنوں گو ایئر کے ذریعے ان کے ایک پائلٹ کو یہ کہتے ہوئے نوکری سے نکال دیا گیا کہ انہوں نے ٹوئٹر پر ہندو بھگوانوں کو لےکرقابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ نوکری سے نکالے گئے اسٹاف کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ان کا نہیں ہے اور کمپنی نے بنا ان کی بات سنے یہ فیصلہ لیا ہے۔

0511 HBB Thumb F (1)

ویڈیو: کیا ٹوئٹر پر ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے کے الزام جائز ہیں؟

ویڈیو: حال ہی میں سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے کے الزامات لگے ہیں۔ ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی اس موضوع پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے اور دی وائر کی سوشل میڈیا ایڈیٹر نااومی بارٹن سے بات کر رہی ہیں۔

Social-Media-Pixabay

ایچ آر ڈی منسٹری سے جوڑے جائیں‌ گے ملک بھر کے کروڑوں اسٹوڈنٹس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس

مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو جاری ہدایت کے مطابق؛سبھی اسٹوڈنٹس کے ٹوئٹر / فیس بک / انسٹاگرام اکاؤنٹس کو وزارت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جوڑنا ہو‌گا۔ حالانکہ،اس پر تنازعہ ہونے کے بعد وزارت نے یہ واضح کیا کہ یہ ضروری نہ ہوکر اختیاری ہے۔

فوٹو: رائٹرس

سوشل میڈیا پر شہری حقوق کے تحفظ کو لے کر پارلیامانی کمیٹی نے ٹوئٹر کو طلب کیا

کچھ دن پہلے رائٹ ونگ تنظیم یوتھ فار سوشل میڈیا ڈیموکریسی کے ممبروں نے ٹوئٹر پر الزام لگایا تھا کہ اس نے رائٹ ونگ مخالف رخ اختیار کیا ہے اور ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے۔ تنظیم نے پارلیامانی کمیٹی کے صدر انوراگ ٹھاکر سے اس کی شکایت کی تھی۔

fake 2

اے ایم یو میں کشمیریوں کی حمایت میں احتجاج، مودی کی ارتھی اور آدم خور روہنگیاؤں کا سچ

اس دفعہ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ کچھ لوگ احتجاج کے طور پر پرائم منسٹر نریندر مودی کی غائبانہ ارتھی نکال رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کا ویڈیو ہے جہاں بے جے پی کی شکست کے بعد یہ ارتھی نکالی جا رہی ہے۔

فوٹو: ٹوئٹر

مودی اور ہٹلر کی تصویر،سدرشن نیوزکےدعوے اورفری سائیکل اسکیم کاسچ

ثاقب کے والد انیس پولیس سے خفا ہو گئے اور ایک عام پنچایت میں پولیس کی موجودگی میں وہاں کے سرکل آفیسر کو دھمکی دے دی،اور کہا کہ اگر ان کے فرزند کے قتل کی سازش کا انکشاف نہیں ہوا تو وہ سرکل آفیسر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔

modi-meets-muslims

کیا وزیر اعظم کے رمضان والے ٹوئٹ میں یہ پیغام ہے کہ اردو دراصل مسلمانوں کی زبان ہے؟

کیا وزیر اعظم اتنے معصوم ہیں، کیا انھیں نہیں معلوم کہ ان کا یہ ٹوئٹ عوام میں ایک پیغام دے گا؟ نریندر مودی نے اپنا کام کر دیا ہے، اب آپ بھلے ہی یہ راگ الاپتے رہیے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔

کرن آچاریہ کی بنائی گئی ہنومان کی تصویر ان کی روایتی امیج سے الگ تاثر  پیش کرتی ہے(فوٹو: amazon.com )

’وزیر اعظم نے جس ہنومان کی تعریف کی ہے وہ ہندتووادی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے‘

بھگوا اور کالے رنگ سے بنی ہنومان کی تصویر ، جس میں ان کی بھنویں تنی ہوئی ہیں اور تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں۔ ہندو گرنتھوں سے الگ موجودہ تصویرخود ساختہ ہندتووادی مرد کی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے۔

PM_Modi_PIB

نفرت پھیلانے والوں کو کب تک بڑھاوا دیتے رہیں‌گے وزیر اعظم مودی!

ایسے لوگ جن کو انٹرنیٹ کی زبان میں ٹرول کہا جاتا ہے، وزیر اعظم مودی نہ صرف ان کو فالو کر رہے ہیں بلکہ ان کی ‘ قابلیت ‘ کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔ کارٹونسٹ شتج واجپئی اس کی سب سے تازہ مثال ہیں۔

FB-Rahul-Gandhi-Ravishankar-Prasad

فیس بک ڈیٹا چوری معاملے میں کانگریس اور بی جے پی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں 

بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیاں رائےدہندگان کو متاثر کرنے کے مقصدسے ڈیٹا چوری کے الزامات کا سامنا کر رہی کیمبرج اینالٹکا سے اپنی اپنی انتخابی مہم میں مدد لے چکی ہیں۔

fn3

ٹوئٹر کی تصویریں ،وویکانند کا مجسمہ اور نریندر مودی کے دعووں کا سچ

گزشتہ ہفتے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی جھوٹی تصویریں سوشل میڈیا میں عام کی گئیں۔ انتخابات کے دور میں افواہیں اور فیک نیوز کافی بڑھ جاتی ہیں ۔ غالباً ان تصویروں کا مقصدسیاسی مقابل پارٹی کو نقصان پہنچانا تھا۔ایک تصویر میں […]

FakeNewsPart_2

کرنسی نوٹ کے گاندھی، دی ہندو اور سُدرشن ٹی وی کا فیک نیوز

سدرشن نیوز کی یہ حرکتیں نئی نہیں ہیں، سدرشن نیوز کا کاروبارنفرت پر ہی چلتا ہے۔ گاندھی جینتی یعنی مہاتما گاندھی کے یوم ولادت 2 اکتوبر کے دوران ایک تصویر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بہت زیادہ شیئر  کی گئ، جس میں ایک بچی  مہاتما گاندھی کی تصویریں […]

File photo of the Twitter logo displayed on a screen on the floor of the NYSE

اکاؤنٹ سے انفارمیشن ہٹوانے کے لیے حکومت کی جانب سے بھیجے گئے درخواستوں میں اضافہ :ٹوئٹر

2014کے آخری 6مہینوں میں سرکار نے 15ٹوئٹر اکاؤنٹ کو رپورٹ کیا تھا،وہیں 2017کے پہلے 6 مہینوں میں رپورٹ کیے گئےا کاؤنٹ کی تعداد 341تک پہنچ گئی ہے۔ نئی دہلی :مرکزی حکومت پربار بار یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ اظہار رائےکی آزادی کو کنٹرول کرنا چاہتی […]

Don`t copy text!