Bollywood

ایکٹر جگدیپ۔ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

اپنے فن سے بمل رائے جیسے ہدایت کاروں کو متاثر کر نے والے جگدیپ دنیا کو الوداع کہہ گئے

جگدیپ نے اپنے 50 سالہ کریئر میں تقریباً 400 فلموں میں کام کیا۔ 1975 میں آئی فلم شعلے کے سورما بھوپالی کے ان کے کردار کو مداح آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ان کا ڈائیلاگ ‘ہمارا نام سورما بھوپالی ایسے ہی نہیں ہے’ کافی مشہور ہے۔

سروج خان۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@MsKajalAggarwal)

معروف کوریو گرافر سروج خان کا انتقال

تین بار نیشنل ایوارڈ جیت چکیں71سالہ سروج خان نے 80 اور90 کی دہائی میں اپنا سب سے بہترین کام شری دیوی اور مادھوری دکشت کے ساتھ کیا۔ شری دیوی کے ساتھ انہوں نے ‘ہوا ہوائی’ اور مادھوری کے لیے انہوں نے ‘ایک دو تین’، ‘تما تما لوگے’، ‘دھک دھک کرنے لگا’، ‘ڈولا رے ڈولا’ جیسے کئی ہٹ نغموں کی کوریوگرافی کی تھی۔

SHK.00_24_59_06.Still004

مٹھی بھر لوگ بالی وڈ چلا رہے ہیں: جتن سرنا

ویڈیو: معروف بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی اچانک موت کے بعد بالی وڈ میں الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے اور انڈسٹری میں اقربا پروری کی روایت پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔ اس مدعے پر دی وائر کے شیکھر تیواری کی ایکٹر جتن سرنا سے بات چیت۔

باسو چٹرجی۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@FilmHistoryPic)

معروف فلمساز باسو چٹرجی کا انتقال

باسو چٹرجی کو سارا آکاش، رجنی گندھا، چھوٹی سی بات، اس پار، چت چور، کھٹا میٹھا، باتوں باتوں میں، شوقین، ایک رکا ہوا فیصلہ اور چمیلی کی شادی جیسی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ دوردرشن پرنشر ہونے والے مشہور سیریل بیومکیش بخشی اور رجنی کا ڈائریکشن بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

لاک ڈاؤن: کیا آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم سنیما گھروں کے لیے چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں؟

کو رونا وائرس کے مدنظر جاری لاک ڈاؤن کے بیچ امیتابھ بچن اور آیوشمان کھرانہ کی فلم ‘گلابو ستابو’ سنیما گھروں کے بجائے سیدھے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر ریلیز ہو رہی ہے۔ کچھ اور فلمیں ہیں، جو اب سیدھے انہیں پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے والی ہیں۔ ایسے میں سنیما گھروں کے سامنے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے نیامسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔

AKS Javed Jafari 25 May.00_50_18_02.Still006

کام پر اثر نہ ہو اس لیے اداکاروں کو خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے: جاوید جعفری

ویڈیو: کو رونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے ہندوستانی سنیما پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟سماج کے اس بحرانی دور میں اداکاروں کی کیا ذمہ داری ہے؟ اس طرح کے مختلف سوالوں پر معروف ایکٹر جاوید جعفری سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

این ایس ڈی کے دنوں میں ایک پلے کے دوران ستپا اور عرفان(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@sutapa.sikdar)

’عرفان ہمیشہ ہر چیز میں لے ڈھونڈ لیتے تھے…میں نے بھی یہ سیکھ لیا ہے‘

ستپا سکدراپنے خط میں لکھتی ہیں،‘ایک کامیاب سفر کے بعد جہاں انہیں آرام کرنے کے لیے چھوڑکر آئے ہیں، وہاں ان کا پسندیدہ رات کی رانی کا پودا لگاتے ہوئے آنکھیں نم ہوں گی۔ تھوڑا وقت لگےگا، لیکن اس کی خوشبو پھیلےگی اوران سب تک پہنچے گی، جنہیں میں آنے والے وقت میں فین نہیں، بلکہ فیملی مانوں گی۔’

irrfan-khan-1

عرفان جانتے تھے انہیں ’اگلے کسی بھی اسٹاپ پر اترنا ہوگا…‘

سال 2018 میں نیورو اینڈوکرائن کینسر ہونے کے بعد عرفان خان کی صحت خراب ہوتی چلی گئی ۔علی سردار جعفری کے مشہور ٹی وی سیریل کہکشاں میں انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کے رول کے لیے بھی عرفان خان کو یاد کیا جاتا ہے۔

 نصیرالدین شاہ(فوٹو : دی وائر)

کون ہے ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ؟‘ اگر کوئی ہے، تو حکمراں پارٹی ہے: نصیر الدین شاہ

خصوصی انٹرویو: گزشتہ دنوں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ بھاٹیا کے ساتھ بات چیت میں معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ نے سی اے اے-این آر سی-این پی آر کے خلاف جاری احتجاج اورمظاہرہ، فرقہ پرستی کے عروج اور دیگراہم مسائل پرانڈسٹری کے نامور ہستیوں کی خاموشی اوردوسرے کئی اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

گنیش آچاریہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

خاتون نے ڈانس ڈائریکٹر گنیش آچاریہ پر جبراً فحش ویڈیو دکھانے کا الزام لگایا، مقدمہ درج

پیشے سے اسسٹنٹ ڈانس ڈائریکٹرخاتون نے گنیش آچاریہ پر مارپیٹ کرنےاور فلم انڈسٹری میں کام دلانے کے لئے کمیشن مانگنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ خاتون نے نیشنل کمیشن فار وومین (این سی ڈبلیو)ن کو خط لکھا ہے۔

فوٹو: @VKSaraswat1949

جموں کشمیر میں انٹرنیٹ کا استعمال فحش فلمیں دیکھنے کے لیے ہوتا ہے: نیتی آیوگ کے رکن

نیتی آیوگ کے رکن وی کے سارسوت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں۔ وہاں جاری احتجاج اور مظاہرے پر انہوں نے کہا کہ جے این یو ایک سیاسی جنگ کا میدان بن گیا ہے۔ یہ 10 روپے سے لےکر 300 روپے تک فیس اضافہ کا مدعا نہیں ہے۔ ہر کوئی لڑائی جیتنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں سیاسی پارٹیوں کا نام نہیں لوں گا۔

JNU-violence-2

جے این یو تشدد: دہلی پولیس نے کی تصدیق، نقاب پوش خاتون اے بی وی پی کی ممبر کومل شرما ہیں

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی دہلی اکائی کے سکریٹری سدھارتھ یادو نے قبول کیا کہ کومل شرما ان کی تنظیم کی کارکن ہے۔ حالانکہ، انہوں نے کہا کہ ہمارا اس سے رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جے این یو: فیس میں اضافے کا معاملہ سلجھا، اسٹوڈنٹ کا مظاہرہ صحیح نہیں؛ ایچ آر ڈی منسٹر

ایچ آرڈی منسٹر رمیش پوکھریال نشنک نے کہا کہ وزارت نے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے جے این یو کے کام کاج کو بحال کرنے کی اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی ہے اور متنازعہ مدعوں کے حل کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو صلاح دی ہے۔

ماہر اقتصادیات امت بھادڑی، ٖفوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب

جے این یو وی سی کی مخالفت میں ماہر اقتصادیات امت بھادڑی نے پروفیسر ایمریٹس کے عہدے سے استعفیٰ دیا

پروفیسر بھادڑی نے وی سی کو خط لکھ کر کہا، ‘موجودہ ماحول کو دیکھ کر مجھے کافی دکھ ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بنا احتجاج درج کرائے اس پورے معاملے کا خاموش تماشائی بنے رہنا میرے لیے غیر اخلاقی ہوگا۔ یونیورسٹی میں احتجاج اور مکالمہ کا گلا گھوٹا جا رہا ہے۔’

فوٹو: پی ٹی آئی

جے این یو تشدد: فوٹیج محفوظ رکھنے کی عرضی پر ہائی کورٹ کا وہاٹس ایپ، گوگل، ایپل اور پولیس کو نوٹس

پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ تشددسے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی اس کی درخواست پر جے این یو انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ وہیں، اس نے وہاٹس ایپ کو بھی تحریری درخواست بھیج کر ان دو گروپ کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کو کہا ہے جن پر جے این یو میں تشدد کی سازش رچی گئی تھی۔

جےاین یو اور وائس چانسلر جگدیش کمار (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

پانچ جنوری کے حملے کی ’سازش‘ جے این یو وی سی نے کی تھی: فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے پانچ جنوری کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کیے گئے تشدد کی پہچان نشانہ بناکر کئے گئے حملے کے طورپر کی ہے، جس کا مقصد طلبہ وطالبات اور فیکلٹی ممبروں کو ڈرانا – دھمکانا تھا۔ یہ سب یونیورسٹی وی سی کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ کیا گیا تھا۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

دیپیکا پڈوکون کی فلم کا بائیکاٹ کرنا طالبانی ذہنیت کا مظاہرہ کرنا ہے: شیوسینا

جے این یو میں طلبا پر ہوئے حملے کے بعد یکجہتی کا مظاہرہ کرنے یونیورسٹی پہنچی دیپیکا پڈوکون کی فلم چھپاک کے بائیکاٹ کی مانگ کی جانے لگی، جس میں وہ تیزاب حملے کی شکار مظلوم لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس معاملے میں بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے بھی جے این یو جانے پر دیپیکا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

فوٹو: سوشل میڈیا

یوپی: علی گڑھ میں ’چھپاک‘ کی مخالفت، ہندووادی تنظیم نے دی وارننگ ’نہ دیکھوں گا، نہ دیکھنے دوں گا‘

علی گڑھ میں چھپاک کی مخالفت میں لگائے گئے پوسٹر میں سب سے اوپر بڑے بڑے حرفوں میں ‘چیتاونی’ لکھا تھا۔ ان پوسٹرز میں کہا گیا کہ جو بھی سنیما گھر فلم کو دکھانے کی کوشش کریں گے، انہیں اپنا بیمہ کرانا پڑگا۔

دائیں طرف کی فوٹو وائرل ہوئی ہے، جو فرضی ہے۔ بائیں طرف کی تصویر اوریجنل ہے۔ (فوٹو بشکریہ : آ لٹ نیوز)

فیکٹ چیک: جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کی صدر کی چوٹ کو فرضی بتانے والی تصویریں فرضی ہیں

جمعہ کو سوشل میڈیا پر جے این یو اسٹوڈنٹ یونین صدر آ ئشی گھوش کی دو تصویروں کو یہ کہہ‌کر شیئر کیا گیا کہ الگ الگ وقت پر ان کے ہاتھ میں بندھی پٹی ایک بار داہنی طرف اور ایک وقت بائیں طرف بندھی ہے اور ان کی چوٹ فرضی ہے۔ آ لٹ نیوزکی جانچ میں یہ دعویٰ جھوٹا پایا گیاہے۔

JNU-violence-2

اسٹنگ آپریشن میں دو اے بی وی پی طالبعلموں نے تشدد میں شامل ہونے کی بات قبول کی

دہلی پولیس کی پریس کانفرنس کے ایک گھنٹے بعد ہی اس کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک نجی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے جمعہ کی شام کو ایک اسٹنگ آپریشن نشرکیا۔ اس میں دو طلبا اے بی وی پی کا ممبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پانچ جنوری کے تشدد میں اپنے رول کے بارے میں بتاتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

اے بی وی پی کے ویڈیو اور فوٹو پر مبنی تھے جے این یو تشدد سے جڑے پولیس کے زیادہ تر ثبوت: رپورٹ

پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے دہلی پولیس کی ایس آئی ٹی کے چیف پولیس ڈپٹی کمشنر جوائے ٹرکی نے کہا کہ نو میں ساتاسٹوڈنٹ لیفٹ تنظیموں ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف، آئسااور ڈی ایس ایف سے جڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ، اس دوران دو دوسرے طلبا کے اے بی وی پی سے جڑے ہونے کے باوجود انہوں نے اے بی وی پی کا ذکر نہیں کیا۔

فوٹو: رائٹرس

جے این یو تشدد معاملہ: دہلی پولیس نے کی وہاٹس ایپ گروپ کے ممبروں کی پہچان، 10 باہری لوگ شامل

جے این یو تشدد معاملے میں دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی  ٹی نے ‘یونٹی اگینسٹ لیفٹ’ نام کے ایک وہاٹس ایپ گروپ کی پہچان کی ہے۔ نئی دہلی :جے این یوتشدد معاملے میں دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے ‘یونٹی اگینسٹ لیفٹ’ نام […]

بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی اور جے این یو کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار(فوٹو : پی ٹی آئی)

جے این یوتشدد: سینئر بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی نے جے این یو کے وائس چانسلر کو ہٹانے کی مانگ کی

سابق وزیر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ یہ حیران کرنے والا ہے کہ یونیورسٹی میں فیس اضافہ کے مدعا کے حل کےلئے حکومت کی طرف سے دو بار مشورے دئے گئے، لیکن وائس چانسلر حکومت کی تجویز کو نافذ نہیں کرنے پر آمادہ ہیں۔ وہیں، وزارت ترقی انسانی وسائل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر کو ہٹانا حل نہیں۔

امرتیہ سین (فوٹو : رائٹرس)

جے این یو تشدد معاملے  کے چار دن بعد بھی کوئی گرفتاری نہیں، امرتیہ سین نے پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا

گزشتہ پانچ جنوری کو نئی دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش لوگوں کی بھیڑ نے گھس‌کر تین ہاسٹل میں طالب علموں اور پروفیسروں پر حملہ کیا تھا۔ نوبل ایوارڈ یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے کہا کہ کچھ باہری لوگ آئے اور یونیورسٹی کے طالب علموں کو اذیت پہنچائی۔یونیورسٹی کے افسر اس کو روک نہیں سکے۔ یہاں تک کہ پولیس بھی وقت پر نہیں آئی۔

Don`t copy text!