Bollywood

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کسی مسلمان کا حکومت سے جوابدہی طلب کرنا اور بطور صحافی کام کرنا جرم نہیں ہے: محمد زبیر

انٹرویو: چار سال پرانےایک ٹوئٹ کے لیے دہلی پولیس کے ذریعے حراست میں لیے جانے کے بعد آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نےتقریباً تین ہفتے جیل میں گزارے۔ اس دوران یوپی پولیس نے ان کے خلاف کئی مقدمات درج کیے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے انہیں یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی کہ ان کی مسلسل حراست کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کے ساتھ علی شان جعفری کی بات چیت۔

نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فائل فوٹو/السٹریشن: دی وائر)

کیا ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی ختم ہو چکی ہے …

گزشتہ دنوں یوپی میں عمل میں آئی دو گرفتاریوں سے واضح ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اب باقی نہیں رہی۔ یا پھر جیسا کہ عیدی امین نے ایک بار کہا تھا کہ ، بولنے کی آزادی توہے، لیکن ہم بولنے کے بعد کی آزادی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

سپریم کورٹ نے یوپی میں درج تمام معاملوں میں آلٹ نیوز کے محمد زبیر کو ضمانت دی

فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ انہیں مسلسل حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت نے انہیں بدھ کو ہی رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف اتر پردیش میں درج تمام معاملے دہلی پولیس کو تحقیقات کے لیے سونپ دیے اور یوپی حکومت کی طرف سے بنائی گئی ایس آئی ٹی کو بھی ختم کرنے کی ہدایت دی۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

سابق نوکر شاہوں نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر کہا، اظہار رائے کی آزادی کےخلاف پولیس کی ہراسانی کو روکیں

کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے 72 سابق نوکر شاہوں کے ایک گروپ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کو خط لکھا ہے، جس میں فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو مسلسل حراست میں رکھنے اور ان کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے سامنے مساوات کے آئینی اصول کے پیروکار کے طور پر نوپور شرما اور محمد زبیر کے درمیان امتیازی سلوک کا مشاہدہ کرناانتہائی پریشان کن ہے۔

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

’محمد زبیر کو سچ بولنے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے‘

ویڈیو: 2018 میں کیے گئے ایک ٹوئٹ کے سلسلے میں ‘مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے’ کے الزام میں آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو دہلی پولیس نے 27 جون کوگرفتار کیا تھا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں وہ ایک ساتھ چھ مقدمات کا سامنا کر ر ہے ہیں۔ اس معاملے پر سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔

محمد زبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

سال 2018 کے ٹوئٹ معاملے میں محمد زبیر کو ضمانت، عدالت نے کہا – سیاسی جماعتیں تنقید سے بالاتر نہیں

دہلی پولیس کی جانب سے آلٹ نیوز کے شریک بانی اور صحافی محمد زبیر کے خلاف درج چار سال پرانے ٹوئٹ کیس میں ضمانت دیتے ہوئے دہلی کی عدالت نے کہا کہ صحت مند جمہوریت کے لیے اختلاف رائے ضروری ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کی تنقید کے لیے آئی پی سی کی دفعہ 153اے اور 295 اے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

محمد زبیر نے سپریم کورٹ سے اتر پردیش میں درج چھ ایف آئی آر کو رد کرنے کی اپیل کی

فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں دو اور سیتا پور، لکھیم پور کھیری، غازی آباد اور مظفر نگر ضلع میں ایک ایک کیس درج کیا گیا ہے۔ اتر پردیش پولیس نے ان معاملات کی تحقیقات کے لیے 12 جولائی کو ایک ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی ہے۔

حراست میں محمد زبیر۔ فوٹو: پی ٹی آئی

سیتا پور کیس: محمد زبیر کی عبوری ضمانت میں اگلے حکم تک توسیع

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے مبینہ طور پرکٹر ہندوتوا رہنماؤں یتی نرسنہانند، مہنت بجرنگ منی اور آنند سوروپ کو ‘نفرت پھیلانے والا’ کہا تھا۔ اس سلسلے میں یکم جون کو اتر پردیش کے سیتا پور ضلع کے خیرآباد پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز صرف گھریلو پیمنٹ والا چندہ ہی قبول کر سکتی تھی: آن لائن پیمنٹ گیٹ وے ریزرپے

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعددہلی پولیس نے کہا تھا کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کی مبینہ خلاف ورزی کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ادارے پر بیرون ملک سے چندہ حاصل کرنے کا الزام تھا، جس کی اس نے تردید کی تھی۔

محمد زبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

یوپی میں درج معاملے میں آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو پانچ دن کی عبوری ضمانت

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے مبینہ طور پرکٹر ہندوتوا رہنماؤں یتی نرسنہانند، مہنت بجرنگ منی اور آنند سوروپ کو ‘نفرت پھیلانے والا’ کہا تھا۔ اس سلسلے میں یکم جون کو اتر پردیش کے سیتا پور ضلع کے خیرآباد پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ایک اور معاملے میں زبیر کو دہلی پولیس نے 27 جون کو گرفتار کیاہے۔

Zubair 222

محمد زبیر کو ضمانت سے انکار پر سپریم کورٹ کے سابق جج نے کہا – اور کتنا نیچے گرے گی ہماری عدلیہ

فیکٹ چیکر محمد زبیر کی گرفتاری،ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمے اور ان کی حراست کے سلسلے میں نظر آنے والی واضح خامیوں پرسپریم کورٹ کے ایک سابق جج، ایک ہائی کورٹ کے جج اور وکیلوں نے سوال اٹھائے ہیں۔

Zubair

’محمد زبیر جیسے صحافی راستے سے ہٹ جائیں تو بی جے پی بلا روک ٹوک جھوٹ پھیلا سکتی ہے‘

ویڈیو: فیکٹ چیک ویب سائٹ ‘آلٹ نیوز’ کے شریک بانی محمد زبیر کو دہلی پولیس نے 27 جون کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف ایک نامعلوم ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شکایت درج کرائی گئی تھی۔ دی وائر کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس اکاؤنٹ کا تعلق بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے عہدیدار اور ٹیک فاگ نیٹ ورک سے ہے۔ اس پڑتال کو انجام دینے والے دیویش کمار اور ناؤمی بارٹن کے سےدیپک گوسوامی کی بات چیت۔

(تصویر: دی وائر)

زبیر کے خلاف شکایت کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ بی جے وائی ایم لیڈر سے وابستہ

خصوصی رپورٹ: دی وائر کی تفتیش میں گجرات کے بی جے وائی ایم لیڈر سے وابستہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کا ایک نیٹ ورک سامنے آیا ہے، جس کا استعمال آلٹ نیوز کے خلاف منظم طور پرحملہ کرنے کے لیےکیا گیا تھا۔

محمد زبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

محمد زبیر کی ضمانت عرضی خارج ، دہلی پولیس نے نئے الزامات جوڑے

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو پولیس نے پانچ دنوں تک حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنے کی مدت پوری کرنے کے بعد سنیچر کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا اور انہیں عدالتی حراست میں بھیجنے کی گزارش کی۔ پولیس نےکہا کہ آگےبھی پوچھ گچھ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

222

ادے پور میں کنہیا لال کا قتل، کیا ہے  پوری کہانی

ویڈیو: پچھلے چند دنوں میں دو واقعات رونما ہوئے۔گزشتہ 28 جون کو راجستھان کے ادے پورمیں دو افراد نے تیز دھار دار ہتھیارسےکنہیا لال نامی ایک درزی کو قتل کر دیا اور اس واقعے کاویڈیویہ کہتے ہوئے جاری کیا کہ وہ ‘اسلام کی توہین’ کا بدلہ لے رہے ہیں۔ وہیں، آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان واقعات کی پڑتال کرتی دی وائر کی رپورٹ۔

Zubair-Twitter-Account

صحافی محمد زبیر کے 2018  کے ٹوئٹ کی شکایت کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہوا ڈیلیٹ

دہلی پولیس نے آلٹ نیوز کے شریک بانی اور صحافی محمد زبیر کے 2018 میں کیے گئے جس ٹوئٹ کو ان کی گرفتاری کی وجہ بتایا ہے ، اس کے خلاف @balajikijaiin نامی ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے شکایت کی گئی تھی، پولیس نے عدالت میں کہا تھا کہ یہ کوئی گمنام اکاؤنٹ نہیں بلکہ ‘مخبر’ ہے۔

محمد زبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

دہلی کی عدالت نے صحافی زبیر کی حراست چار دن کے لیے بڑھائی

دہلی کی ایک عدالت نے 2018 کے ایک ٹوئٹ کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیرسے پوچھ گچھ کے لیے حراست کی مدت میں چار دن کی توسیع کر تے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیقات میں ‘تعاون’ نہیں کیا اور ان کے پاس سے ڈیوائس بر آمدکرنے کے لیے انہیں بنگلورو لے جایا جانا ہے۔

زبیر کا2018 میں کیا گیا  ٹوئٹ اور فلم 'کسی سے نہ کہنا' کا پوسٹر۔ (بہ شکریہ:  ٹوئٹر/وی کی پیڈیا)

جس ٹوئٹ کو زبیر کی گرفتاری کی وجہ بتایا گیا ہے، وہ 1983 کی ایک ہندی فلم کا سین ہے

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے جس ٹوئٹ کو ‘مذہبی جذبات کو بھڑکانے والا بتانے کا دعویٰ کرتے ہوئےان کوگرفتار کیاگیا ہے، وہ معروف ہدایت کار رشی کیش مکھرجی کی کامیڈی فلم ‘کسی سے نہ کہنا’ کا ایک سین ہے، جس میں ‘ہنی مون ہوٹل’ کے حرفوں میں پھیر بدل کرتے ہوئے ‘ہنومان ہوٹل’ لکھا گیا تھا’۔

اکشے کمار فلم سمراٹ پرتھوی راج میں۔ (بہ شکریہ: یوٹیوب/یش راج فلم)

’سمراٹ پرتھوی راج‘ ہندوتوا کے ایجنڈہ میں وہاں تک پہنچی ہے، جہاں اب تک کوئی فلم نہیں گئی تھی

ہندی فلمیں اپنی کامیابی کے لیے آبادی کے ہر حصے اور ہر مذہب کے ناظرین پر منحصر کرتی ہیں۔ لیکن اس بار یہاں ہمارے سامنےایک ایسی فلم آئی ہے، جس کو صرف (کٹر/شدت پسند) ہندو ناظرین ہی درکار ہیں۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

سنگا پور میں بین ہوگی کشمیر فائلز، کہا – فلم میں مسلمانوں کی یک طرفہ اور اشتعال انگیز عکاسی

سنگاپور کی انفو کام میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ثقافت، کمیونٹی اور نوجوانوں کی وزارت اور وزارت داخلہ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ فلم سنگاپور کی فلم کی درجہ بندی کے رہنما خطوط کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے والے بی جے وائی ایم کے ممبران بی جے پی دفتر میں ۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/ آدیش گپتا)

دہلی: بی جے پی نے وزیر اعلیٰ  کیجریوال کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے والے ملزمان کی عزت افزائی کی

دہلی اسمبلی میں فلم کشمیر فائلز پر وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے بیان کے خلاف بی جے وائی ایم نے تیجسوی سوریہ کی قیادت میں 30 مارچ کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ اس دوران بی جے وائی ایم کے ارکان نے بیریکیڈ توڑ کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے مین گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

' (1)

’دی کشمیر فائلز‘ ایجنڈہ کے تحت بنائی گئی فلم ہے: اشوک کمار پانڈے

ویڈیو: ‘کشمیر اور کشمیری پنڈت’ کتاب کے مصنف اشوک کمار پانڈے نے فلم ‘دی کشمیر فائلز’ کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے اس بات چیت میں سمجھایا کہ 1990 میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی ٹریجڈی میں سےایک تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح فلم کو اقلیتوں میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

محبوبہ مفتی(فوٹو: رائٹرس)

 بی جے پی مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو اکسانے کے لیے ’کشمیر فائلز‘ کی تشہیر کر رہی ہے: محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی وادی کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کے انخلاء کا باعث بننےوالے حالات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے تئیں نفرت کا جذبہ نہ رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہلی فسادات اور گجرات 2002 کے فرقہ وارانہ تشدد کے لیے ذمہ دار حالات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

(تصویر: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

آئینی اداروں سے مسلم مخالف تشدد روکنے کی اپیل، صحافیوں نے کہا – خاموشی کوئی آپشن نہیں

ملک کے 28 سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسن نے صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ججوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر قانونی اداروں سے ملک کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہورہےحملوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

مدھیہ پردیش: فلم دی کشمیر فائلز پر متنازعہ تبصرہ کرنے والے آئی اے ایس افسر کو نوٹس جاری کرے گی سرکار

واضح ہو کہ آئی اے ایس افسر نیاز خان نے ‘دی کشمیر فائلز’ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہوئےمسلمانوں کے قتل عام کو دکھانے کے لیے ایک فلم بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کیڑے مکوڑے نہیں بلکہ انسان ہیں اور ملک کے شہری ہیں۔

فوٹو : رائٹرس

کہانی کشمیری پنڈتوں کی

جس طرح سے وزیراعظم مودی کے کٹر حامی انوپم کھیر اور متھن چکرورتی کو لے کر وویک اگنی ہوتری نے 1990 میں وادی کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کے ہجرت کی کہانی بیان کی ہے، وہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ اس سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ان کا جینا دوبھر کرایا جا رہا ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/وویک رنجن اگنی ہوتری)

کشمیری پنڈت کارکن کا الزام؛ کشمیر فائلز پر تبصرہ کرنے پر بی جے پی کارکنوں نے حملہ کیا

کپواڑہ ضلع سے نقل مکانی کرنے والے ایک ممتاز کشمیری پنڈت کارکن سنیل پنڈتا نے فلم ‘دی کشمیر فائلز’ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 20 مارچ کو فلم کی حمایت میں نکالی گئی ریلی کے دوران بی جے پی کارکنوں نے انہیں ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔

(فوٹو بہ شکریہ فیس بک/نکھل گنگاونے)

ہندوستان ہندو اور مسلمان دونوں کا ملک ہے، امتیازی سلوک ٹھیک نہیں: نانا پاٹیکر

معروف ایکٹر نانا پاٹیکر نے یہ بات فلم ’دی کشمیر فائلز‘ سے متعلق صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ حالاں کہ، پاٹیکر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ابھی فلم نہیں دیکھی ہے اور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر پائیں گے، لیکن کسی فلم کے سلسلے میں تنازعہ پیدا ہونا اچھی بات نہیں ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

لتا منگیشکر …

قارئین کی نذر لتا جی کو معنون شیراز راج کی نظم ، شیراز نے یہ نظم کچھ برس پہلے کہی تھی اور لتا جی کی وفات پر اس نوٹ کے ساتھ شیئر کیا کہ، آج کا دن ہے لتا جی کی شکر گزاری کا، انہیں سیس نوانے کا۔

شاہ رخ خان نے گلوکارہ لتا منگیشکر کو ان کی آخری رسومات میں خراج تحسین پیش کیا۔(فوٹو: پی ٹی آئی)

لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شاہ رخ کے ’تھوکنے‘ کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر بی جے پی لیڈروں کی مذمت

شہرہ آفاق گلوکارہ لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شریک ہوئے بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کو دعا کرتے ہوئے اور کچھ دیر کے لیے ماسک اتار کر پھونک مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے اس ‘پھونک’کو ‘تھوک’بتایا تھا۔ فرقہ پرستی کا الزام لگاتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے ایسے لیڈروں کی مذمت کی ہے۔

بہ شکریہ: پرائم ویڈیو

کیا ہندی فلموں کو جنوبی ہند کی علاقائی فلموں سے سیکھنے کی ضرورت ہے؟

کچھ عرصہ سے ہندو انتہاپسندوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو یہ خیال ستا رہا ہے دلیپ کمار عرف یوسف خان سے شروع ہو کر شاہ رخ خان تک اداکاروں کی ایک بڑی کھیپ، سوسائٹی کے لیے رول ماڈل کا کام کرتے ہیں۔ اسی لیے پچھلے کئی برسوں سے بالی ووڈ ان کے نشانے پر ہے۔

امول پالیکر (فوٹو : File photo / Commons)

ہندی سنیما ابھی بھی ذات پات کے مسائل پر خاص طرح کی خاموشی کو ترجیح دیتا ہے: امول پالیکر

بارہ سال کے طویل وقفے کے بعدفلموں میں واپسی کر رہےمعروف ایکٹر امول پالیکر کا ماننا ہے کہ ہندی سنیما میں ذات پات کو ایک مدعے کے طور پرشاید ہی کبھی اٹھایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کےموضوعات پریشان کن ہوتے ہیں اور روایتی طور پرتفریحی نہیں ہوتے ہیں۔فلمساز اپنے سنیمائی سفر کے دوران ایسی فلموں کو بنانے سے کتراتے ہیں۔

سریکھا سیکری۔ (فوٹوبہ شکریہ ٹوئٹر/@FilmHistoryPic)

نامور اداکارہ سریکھا سیکری کا انتقال

سریکھا سیکری نے1978 میں اپنے فلمی پردے کا سفرفلم ‘قصہ کرسی کا’سے شروع کیاتھا۔ 1986میں آئی گووندنہلانی کی فلم ‘تمس’، 1994میں آئی شیام بینیگل کی فلم ‘ممو’اور سال 2018 میں امت رویندرناتھ شرما کی ہدایت کاری میں بنی فلم‘بدھائی ہو’کے لیے انہیں بیسٹ سپورٹنگ اداکارہ کے لیےتین بار نیشنل ایوارڈملا تھا۔

دلیپ کمار۔ (فوٹوبہ شکریہ : وکی پیڈیا)

دلیپ کمار کا انتقال

ہندی فلموں میں‘ٹریجڈی کنگ’کے لقب سے مشہور دلیپ کمار 98سال کے تھے۔ پانچ دہائی کے لمبے کریئر میں انہوں نے ‘مغل اعظم’، ‘دیوداس’، ‘نیا دور’اور‘رام اور شیام’ جیسی متعدد ہٹ فلمیں دیں۔ ‘گنگا جمنا’، ‘مدھومتی’، ‘کرانتی’، ‘ودھاتا’، ‘شکتی’ اور ‘مشعل’ جیسی فلموں میں لاثانی اداکاری کے​ لیے انہیں جانا جاتا ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

سشانت معاملے میں فیک ٹوئٹس دکھانے کے لیے23 اپریل کو معافی نامہ جاری کرے آج تک: این بی ایس اے

اکتوبر 2020 میں نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی نے آج تک کو سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ان کے کچھ ٹوئٹ کو لےکر کی گئی غلط رپورٹنگ کا قصوروار مانتے ہوئے معافی نامہ اور جرمانہ دینے کو کہا تھا۔ چینل نے اس معاملے میں نظرثانی کے لیےعرضی دائر کی تھی، جس کو خارج کرتے ہوئے اتھارٹی نے اپنےفیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

بھانو اتھیا۔ (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک/@ThirdVantagePoint)

ہندوستان کی پہلی آسکر ایوارڈ جیتنے والی بھانو اتھیا کا انتقال

بھانو اتھیانےپانچ دہائی کےاپنےلمبےکریئرمیں100سےزیادہ فلموں کےلیے بطورکاسٹیوم ڈیزائنر اپنی خدمات دیں تھیں۔ انہیں گلزار کی فلم ‘لیکن’ اور آشوتوش گواریکر کی فلم ‘لگان’کے لیے نیشنل ایوارڈ بھی مل چکا تھا۔

Don`t copy text!