Culture

3103. NSC.00_39_52_14.Still027

’آدی واسیوں کو جتنا انگریزوں نے نہیں مارا، آزادی کے بعد اس سسٹم نے مارا ہے‘

ویڈیو: مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کے ایٹاپلی تعلقہ کے سورج گڑھ میں لوہے کی کان کنی کے منصوبے کو رد کرنے کے مطالبے کو لے کر آدی واسی کئی سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آدی واسیوں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکن اور وکیل لالسو نگوٹی کا کہنا ہے کہ اس ضلع میں اس طرح کے کئی اور کان کنی کے منصوبے مجوزہ ہیں، جوپانی ، جنگلات اور زمین کو تباہ کرنے کے باعث ہوں گے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

بیرون ملک ہندوستان سے متعلق موضوعات کی تعلیم کے لیے اب اسکالرشپ نہیں دے گی مرکزی حکومت

سماجی انصاف اور محکمہ تفویض اختیارات کے سکریٹری آر سبرامنیم نے کہا کہ وزارتی سطح پر غور وخوض کرنےکے بعدمحسوس کیا گیا کہ بیرون ملک ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور وراثت کا مطالعہ کرنے کے لیے اسکالرشپ کی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر پی ایل پونیا نے اسے دلتوں کو اعلیٰ تعلیمی نظام سے راندہ درگاہ کرنے والا قدم بتایا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: وکی پیڈیا

کیا لکھنؤ کی وہ تہذیب آخری ہچکیاں لے رہی ہے، جس نے ہندو-مسلمان کو ایک تار سے جوڑا

کیا معلوم کہ انتخابات کے بعدلکھنؤ برقرار رہتا ہے یانہیں؟ اس کی تہذیب کوفرقہ پرستوں سے شدیدخطرہ لاحق ہے۔اس شہر میں جہاں ہندو اور مسلمان ساتھ ساتھ رہتے تھے، اب اپنے مخصوص علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں۔ دیواریں کھنچ رہی ہیں۔ ہندو اب ہندو علاقے میں ہی رہنا پسند کرتا ہے۔ جن مسلمانوں کے مکان ہندو اکثریتی علاقوں میں ہیں، وہ ان کو بیچ کر مسلم محلوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

لیہہ (فوٹوبہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

لداخ: محکمہ ریونیو کی نوکریوں سے اردو جاننے کی لازمی اہلیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر تنازعہ

لداخ کے محکمہ ریونیو میں نوکریوں کے لیے اردو زبان کی اہلیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ضلع لیہہ اور مسلم اکثریتی کارگل کے بیچ نظریاتی اختلافات پیدا کرنے کے مقصد سےاٹھایاگیافرقہ وارانہ قدم ہے، لیکن اس سے سیاسی فائدہ نہیں ہوگا، بس ایڈمنسٹریشن کی سطح پرمسائل پیدا ہوں گے۔

آغا اشرف علی، فوٹو بہ شکریہ:Rafiq Kathwari

استادوں کے استاد آغا اشرف علی، جنہوں نے کشمیری مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا

جنوبی ایشیاکے جید ماہرین تعلیم سروپلی رادھا کرشنن، ذاکر حسین، خواجہ غلام السیدین یا پاکستان کے عطا الرحمان جیسی شخصیات کی صف میں آغا صاحب کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کشمیر ی مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کروانے اور خطے کی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

IPTA

اپٹا جو اپنے وقت میں عوام کی آواز تھی،اس کی سانسیں ابھی بھی چل رہی ہیں…

اپٹا کی بناوٹ اور آرائش و زیبائش ہی ایسی تھی کہ اس کے سوشل ڈسکورس میں سیاسی سمجھ کی تہیں ملی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس لئے اپٹا نے کئی سطحوں پر کامیابی حاصل کی لیکن اس کے 75سالہ سفر میں ایسے موڑ بھی آئے جب اس کو اپنے وجود تک کے لئے جدو جہد کرنی پڑی۔

فوٹوبشکریہ : ٹوئٹر

مدیحہ گوہر : حیوانیت کے دور میں انسانیت کی جیتی جاگتی مثال

وہ برقع کی روایت کے خلاف ‘ برقع وگینزا ‘ ڈرامہ کھیل‌کر پاکستان کے شدت پسند ملا او مولوی کے سینے پر مونگ دل رہی تھیں۔ ہائے توبہ مچی تو حکومت نے اس ڈرامے پر پابندی لگا دی لیکن وہ اس کے باوجود یہ ڈرامہ کھیلتی رہیں۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

نیشنل ازم کا نیا تصور آزادی کی لڑائی کے وقت کے  تصور سے میل نہیں کھاتا : پروفیسر مردولا مکھرجی

مؤرخ پروفیسر مردولا مکھرجی نے کہا کہ وہ نیشنلزم سب کو شامل کرنے والی اور کثیر جہتی تھی، جس میں ہر علاقہ، مذہب، فرقہ، ہر زبان کے بولنے والے اور تمام قبائلی گروہ کے لوگ شامل تھے۔

Chhat_PTI

چھٹھ :خیر سگالی کا تہوار

صبح کی اذان سے پہلے پوجا کا سامان سر پر اٹھاکر ہم مسلمانوں کے محلے سے گزرتے تھے،وہ وضو کرتے ہوئے ہماری طرف پیار سےدیکھتے تھے۔ دنیا بھر کی تہذیبیں ندیوں کے کنارےپھلی پھولی ہیں۔ کہاوت ہے بن پانی سب سون۔ مذہب بھی پانی کے بغیر مذہب نہیں […]

Don`t copy text!