Television Rating Point

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر

ٹی آر پی معاملہ: سپریم کورٹ پہنچے ری پبلک کے ذمہ دار، پولیس کے سامنے نہیں ہو ئے پیش

ٹی آر پی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے گروہ کاپردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے چیف فنانشل آفیسر کے علاوہ دو اور چینلوں کے نمائندوں کوسنیچر کو پوچھ تاچھ کے لیے بلایا تھا۔

(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ممبئی پولیس کا دعویٰ، ری پبلک سمیت دو مراٹھی چینلوں نے کی ٹی آر پی سے چھیڑ چھاڑ

ممبئی پولیس نے ٹی آر پی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرضی ٹی آر پی کا معاملہ ہے، جہاں ٹی آر پی ریٹنگس خریدی جا رہی تھیں اور اس چھیڑ چھاڑ کی اہم وجہ اشتہارات سے ملنے والا پیسہ ہے۔ ری پبلک نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

anupamkher

رویش کا بلاگ: انوپم کھیر کو صحیح غلط کم ہندو اور مسلمان زیادہ دکھتا ہے

انوپم کھیر جیسے کچھ فنکار تختی لےکر میڈیا کو مدعا دیتے ہیں۔ ان کی تصویر اسکرین پر دکھاکر گھر بیٹھے لوگوں کے ذہن میں زہر بھرا جاتا ہے۔ اس عمل میں مسلمان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے جن کے ذہن میں یہ کچرا بھرا جاتا ہے ان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جا چکا ہوتا ہے۔ اس لئے وسیع ہندو مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تمام نیوز چینل دیکھنا بند کر دیں۔ کیونکہ چینلوں میں مذہب کے نام پر ہندوؤں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوزچینل صرف مودی کے لیے راستہ بنا رہے ہیں،ڈھائی مہینے کے لیے چینل دیکھنا بند کر دیجیے

کیا آپ پبلک کے طور پر ان چینلوں میں پبلک کو دیکھ پاتے ہیں؟ ان چینلوں نے آپ پبلک کو ہٹا دیا ہے۔ کچل دیا ہے۔ پبلک کے سوال نہیں ہیں۔ چینلوں کے سوال پبلک کے سوال بنائے جا رہے ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اقتدار کے سامنے ہندوستانی میڈیا رینگنے لگا ہے؟

مدیران کا کام اقتدار کے لحاظ سےمواد کو بنائے رکھنے کا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ اقتدار کے موافق تشہیر کی ایک ہوڑ مچی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ حالات یہ بھی ہو چلے ہیں کہ اشتہار سے زیادہ تعریف نیوز رپورٹ میں دکھائی دے جاتی ہے۔

Don`t copy text!