آندھرا پردیش کے سرکاری انٹرپرائز وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ میں سوموار کی شام اسٹیل میلٹنگ یونٹ میں دھماکہ ہوا، پگھلا ہوا اسٹیل نیچے فرش پر کام کررہے مزدوروں پر گر گیا، جس میں آٹھ لوگوں کی جان چلی گئی جبکہ چھ دیگر شدید طور پرجھلس گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ جان لیوا دھماکہ پگھلے ہوئے اسٹیل میں پھنسی ہوئی گیسوں کی وجہ سے ہوا۔
ایران پر امریکہ–اسرائیل حملوں کے 31 ویں دن تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ خلیجی ممالک تک حملے پھیلنے کے درمیان کویت میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کے تیل پر قبضے والے بیان سے تنازعہ بڑھ گیا ہے، جبکہ جنگ کا اثر ہندوستان میں ایندھن کے بحران کی صورت میں واضح طور پرنظر آنے لگا ہے، جہاں گھریلو ضروریات کے لیے مٹی کے تیل کی عارضی واپسی ہوئی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا 29واں دن جاری ہے۔ جوہری ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ایران نے’بھاری قیمت‘چکانے کی وارننگ دی ہے۔ وہیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک پروگرام میں نیٹو کو’کاغذی شیر‘قرار دیتے ہوئے اس کے رخ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 28واں دن بھی بمباری کے ساتھ جاری ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن مؤخر کرنے کی بات کہی ہے، جبکہ امن مذاکرات کے دعوے جاری ہیں۔ ایران نے امریکی ’امن تجویز‘ کو ’یکطرفہ اور غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 27ویں دن بھی تشدد کے ساتھ جاری ہے، اصفہان میں شدید حملوں کی خبرہے۔ اس دوران ہندوستان کی حکومت نے پی این جی کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جہاں پائپڈ گیس دستیاب ہے، وہاں صارفین کو ایل پی جی سے پی این جی میں شفٹ ہونا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایل پی جی کی سپلائی بند کی جا سکتی ہے۔
ایل پی جی بحران کے درمیان سورت کی ٹیکسٹائل صنعت میں کام کرنے والے مزدور گیس سلنڈر بھروا نہیں پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور مزدوروں کی کمی کے باعث کئی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک یا دو دن بند رہنے لگی ہیں۔
حکومت کی معیشت اور ترقیاتی فریم ورک میں اجتماعی معاشرہ تو ہے ہی نہیں۔ وہ اپنے حصوں کو علیحدہ علیحدہ اٹھاتی ہے اور ترقی کے اپنے خاکوں میں اس طرح فٹ کرتی ہے کہ اس کے اپنے اور کارپوریٹ ورلڈ کے سیاسی اور اقتصادی مفادات پورے ہوتے رہیں۔
اتراکھنڈ کے سلکیارا میں 12 نومبر کو زیر تعمیر سُرنگ کا ایک حصہ منہدم ہونے کے باعث پھنسے 41 مزدوروں کو بالآخر سترہ دنوں کی سخت جدوجہد کے بعد نکال لیا گیا۔ لیکن وہ کون سی غلطیاں تھیں، جن کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی؟
اتر پردیش بی جے پی کے ترجمان اور وکیل پرشانت پٹیل امراؤ نے 23 فروری کو ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ تمل ناڈو میں 15 مہاجر مزدوروں کو ہندی بولنے کی وجہ سے مارا پیٹا گیا، جن میں سے 12 کی موت ہو گئی۔ اس دعوے کو فرضی قرار دیتے ہوئے تمل ناڈو پولیس نے ان کے خلاف غلط جانکاری پھیلانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔
تبلیغی جماعت کے امیر مولاناسعد نے کو روناانفیکشن سے ٹھیک ہو چکے مسلمان اور جماعت کے لوگوں سے اپنا بلڈ پلازما ڈونیٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ظفرالاسلام خان نے ایل جی انل بیجل اوروزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کوخط لکھ کر کہا کہ کورنٹائن سینٹر میں وقت پرکھانے کی عدم فراہمی کی وجہ سے دو لوگوں کی موت ہوئی ہے۔
ویڈیو: کو رونا وائرس کی وجہ سےنافذ لاک ڈاؤن کے بیچ دہلی کے بھلسوا ڈیری علاقے میں پھنسے مہاجر مزدوروں کو کھانے کے لیے بنی لمبی قطاروں میں گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
ویڈیو: دہلی کے نظام الدین علاقے میں رہنے والی ایک حاملہ خاتون کوصفدرجنگ ہاسپٹل نے مبینہ طور یہ کہتے ہوئے بھرتی کرنے سے منع کر دیا کہ وہ ریڈ زون علاقے سے آ رہی ہیں۔ خاتون کاالزام ہے کہ اسی طرح پانچ دوسرے ہاسپٹل نے بھی انہیں بھرتی کرنے سے منع کر دیا تھا۔
ویڈیو: دہلی کے سلطان پوری کورنٹائن سینٹر میں پچھلے ہفتے 59 سالہ محمد مصطفیٰ کی موت ہو گئی۔ وہ پچھلے مہینے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہوئے تھے۔الزام ہے کہ وہ ذیابطیس کے مریض تھے اور وقت پر علاج اور کھانا نہ ملنے سے ان کی موت ہوئی ہے۔
بڑھی ہوئی اجرت کے تحت ، غیر تربیت یافتہ مزدوروں کے لئے کم از کم اجرت 14842 روپے مہینے ، نیم تربیت یافتہ مزدوروں کے لئے 16341 روپے اورتربیت یافتہ مزدوروں کے لئے 17991 روپے مہینے طے کی گئی ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ: مختلف شعبے میں اقتصادی بحران کے بیچ بڑے پیمانے پر روزگار کے جانے کا اندیشہ ہے۔ دی وائر نےا پنی اس گراؤنڈ رپورٹ میں گارمنٹس انڈسٹری کے ان ملازمین سے بات کی جنہوں نے الزام لگایا کہ پروڈکشن اور ڈیمانڈ میں کمی کی وجہ سے وہ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں ۔اس کے علاوہ ان یونین رہنماؤں سے بھی بات کی گئی جن کا دعویٰ ہے کہ اس سال غیرمعمولی اقتصادی بحران کی وجہ سے لوگوں کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے اب تک کسانوں کی قرض معافی کا اعلان نہیں کیے جانے کی مخالفت میں ہڑتال کی تیاری کی جارہی ہے۔ اے آئی کے ایس کی دو دن چلنے والی سینٹرل کسان کاؤنسل کی میٹنگ میں ‘گرامین بھارت بند ‘کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
ویڈیو: راجدھانی دہلی میں ملک بھر سے اکٹھا ہوئے ہزاروں کسان پارلیامنٹ کا ایک جوائنٹ سیشن بلانے کی مانگ کر رہے ہیں، جہاں زراعتی بحران سے جڑے ان کے سوال اٹھائے جا سکیں۔ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیے کسانوں سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ملک کے مختلف حصوں سے آئے کسان اپنی مانگوں کے ساتھ دہلی میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کی اہم مانگ ہے کہ ان کا قرض معاف کیا جائے اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کو نافذ کر کے ان کو فصلوں کی لاگت کی ڈیڑھ گنا قیمت دی جائے۔
مظاہرین کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ کسانوں کے مسائل کولے کر پارلیامنٹ میں ایک اسپیشل سیشن ہونا چاہیے اور اس میں کسانوں کے حق میں ایک بل پاس ہونا چاہیے۔
کسانوں نے اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہورہا ہے لیکن حکومت رام مندر کے ذریعے لوگوں کا دھیان کسانوں کے مدعے سے بھٹکانا چاہتی ہے ۔
کسانوں کا ایک گروپ خودکشی کر چکے اپنے ساتھی کسانوں کی کھوپڑیاں لے کر دہلی پہنچا ہے۔
اس معاملہ میں برواڈیہہ کے بی ڈی او دنیش کمار کہتے ہیں کہ مزدوروں کو ادائیگی مکھیا کو کرنی ہے۔ مزدور ہمارے پاس بھی آئے تھے، ہم نے ان سے بھی یہی بات کہی۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے نئی دہلی میں ہوئی کسان ، مزدور کی احتجاجی ریلی اور گنگا کی صفائی پر ونود دوا کا تبصرہ۔
مہنگائی سے راحت ، منیمم الاؤنس ، کسانوں کی قرض معافی اور فصلوں کی واجب قیمت کی مانگ کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کے خلاف دہلی میں ہزاروں کسان اور مزدوروں نے دہلی کے رام لیلا میدان سے سنسد مارگ تک مارچ کیا ۔
ہندوستان کے میڈیا اور تاریخ دانوں نے اس واقعہ کو جابرانہ ٹیکس نظام کے خلاف محنت کشوں کی جدوجہد کے بجائے ہندو حکمران کے خلاف مسلم رعایا کی بغاوت سے تعبیر کرکے تاریخ کے ساتھ بدترین خیانت کی ہے۔ ماہ مئی کا پہلا دن کرہ ارض میں محنت […]