خبریں

یوپی سرکار کا فرمان – ایودھیا تقریب سے پہلے تمام اضلاع میں رام کتھا، رامائن پاٹھ اور بھجن کیرتن کا اہتمام کریں

اتر پردیش کے چیف سکریٹری نے ڈی ایم اور کمشنروں کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ ریاست میں رام، ہنومان اور والمیکی مندروں میں رام کتھا، رامائن پاٹھ  اور بھجن کیرتن کا اہتمام کریں۔ یہ ثقافتی پروگرام 22 جنوری کو رام مندر کی پران پرتشٹھا سے ہفتہ بھر پہلے مکر سنکرانتی کے موقع پر شروع ہوں گے۔

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

لکھنؤ: 22 جنوری 2024 کو ایودھیا کے رام مندر میں پران پرتشٹھا کی تقریب سے پہلے اتر پردیش سرکار نے ضلعی حکام کو پوری ریاست میں رام، ہنومان اور والمیکی مندروں میں رام کتھا، رامائن پاٹھ اور بھجن کیرتن کا اہتمام کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ آئندہ سال 14 سے 22 جنوری تک منعقد ہونے والی ان تقریبات کی ادائیگی کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ ٹورازم اینڈ کلچر کونسل پر ہوگی۔

ریاست کے ضلع مجسٹریٹس اور کمشنروں کو لکھے اپنے خط میں یوپی کے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا نے والمیکی مندروں میں مہارشی والمیکی کے مہاکاویہ کے پاٹھ (پڑھنے) پر زور دیا۔ ان مندروں میں زیادہ تر دلت کمیونٹی کے لوگ آتے ہیں۔

چیف سکریٹری کے دفتر سے جاری خط کے مطابق یہ ثقافتی پروگرام مکر سنکرانتی کے موقع پر پران پرتشٹھا سے ایک ہفتہ قبل شروع ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھگوان رام کی زندگی پر مبنی ان پروگراموں کے انعقاد کا مقصد لوگوں میں رام کی اخلاقی، سماجی اور انسانی اقدار کے  خیال کو فروغ دینا ہے۔

مشرا نے اپنے دو صفحات کے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ ریاست کے لوگوں کو رام کی جائے پیدائش ایودھیا میں واقع اس مندر سے گہرا لگاؤ ہے۔ لہذا، ضلع مجسٹریٹ دیپ جلانے اور دیپ دان (عطیہ) کرنے کے علاوہ رام کتھا، رامائن، رام چرت مانس، سندرکانڈ وغیرہ کے مسلسل پاٹھ کو یقینی بنائیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یوپی کے پاور کوریڈورز سے ایک فرمان جاری کیا گیا تھا، جس میں ضلعی حکام سے نو روزہ پروگراموں کی ایک سیریز کا اہتمام کرنے کو کہا گیا۔ مزید کہا گیا کہ شہری اداروں میں مقامی بھجن کیرتن گروپوں کو شامل کرکے کیرتن پروگرام منعقد کیے جائیں اور شہروں میں رام مندر رتھ اور کلش یاترا نکالی جائے۔

حکومت ان فنکاروں اور بھجن کیرتن ٹولیوں کو ترجیح دے گی جو محکمہ ثقافت میں رجسٹرڈ ہیں۔

ضلع، تحصیل اور بلاک سطح پر پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ حکومت کی منظوری کے بعد مہیلا منگل دل، یوا منگل دل اور آشا بہوؤں سے مدد لیں گے۔

حکام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مندروں کا انتخاب کریں اور ان کی فہرست کے ساتھ نام، پتہ، موبائل نمبر اور نوڈل آفیسر کا نام کلچر ڈپارٹمنٹ کے پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔ ہر ضلع میں منتخب مندروں کا مکمل پتہ، تصویر، جی پی ایس لوکیشن اور مندر انتظامیہ  کافون نمبر مذکورہ پورٹل پر فراہم کرنا بھی ان کی ڈیوٹی کا حصہ ہے۔

تقریب کے لیے مندروں کے انتخاب کا کام مقامی انتظامیہ کو سونپا گیا ہے اور نامزد نوڈل افسران تقریبات کی نگرانی کریں گے۔ اس اجتماعی تقریب کی تشہیر کی ذمہ داری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ اور ضلعی سطح پر ضلعی اطلاعات افسران پر ہے۔

پروگرام کی جگہوں پر صفائی، پینے کے پانی، سیکورٹی، قالین بچھانے، ساؤنڈ، لائٹ (ضرورت کے مطابق)، ناشتہ پانی وغیرہ کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔

چیف سکریٹری کے خط کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف کلچر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (جنرل/پرفارمنگ آرٹس) راجیش اہیروار کو نوڈل آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

سیاسی ماہرین مذہبی تقریبات کے لیے سرکاری فنڈز کے استعمال کو ایک سیکولر جمہوری ملک میں ‘ہندو راشٹر’ کی دستک کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سینئر صحافی شیتل پی سنگھ نے کہا، ‘یہ ہندو راشٹر کا غیر اعلانیہ یا غیر سرکاری اعلان ہے۔ اس طرح کا فیصلہ مسلمانوں کے لیے ایک منفی صورتحال پیدا کرے گا، حالانکہ وہ قانونی جنگ ہارنے کے بعد اس معاملے پر خاموش ہیں۔’

سینئر سیاسی مبصر شرت پردھان، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں ایودھیا تحریک کو کور کیا تھا، نے کہا کہ یوپی حکومت کا سرکلر ہندوستانی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے بھی اسے سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا سیاسی منصوبہ قرار دیا۔

دریں اثنا، دلت مفکرین کا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت دلت برادری کو ایودھیا کی عظیم الشان تقریب اور اس کے ہندوتوا ایجنڈے سے جوڑنے کے لیے والمیکی مندروں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بی جے پی حکومت آنے والے عام انتخابات میں دلت ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان تقریبات میں کمیونٹی کو شامل کرکے انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ اتر پردیش میں دلتوں کی ایک بڑی آبادی ہے جو کہ تقریباً 22 فیصد ہے اور وہ 80 ممبران پارلیامنٹ کو لوک سبھا میں بھیجنے والےاس صوبے  کی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روایتی طور پر، وہ مایاوتی کی قیادت والی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ووٹر ہیں، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے قومی سیاست میں آنے کے بعد سے دلتوں، خاص طور پر غیر جاٹوں کا ایک بڑا طبقہ بی جے پی کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی دلت سماج کے دیگر طبقات میں اپنی رسائی کو بڑھانا چاہتی ہے۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )