خبریں

مرکز کے خلاف مہم کا آغاز کرے گا کسان مورچہ، 26 جنوری کو 500 اضلاع میں ہوگی ٹریکٹر پریڈ

سنیوکت کسان مورچہ نے کہا کہ ملک بھر کی 20 ریاستوں میں اس کی ریاستی اکائیاں 10-20 جنوری تک گھر گھر جاکر اور پرچہ تقسیم کرکے ‘جن جاگرن’ مہم چلائیں گی۔ اس کا مقصد مرکزی حکومت کی ‘کارپوریٹ حامی اقتصادی پالیسیوں کو اجاگر کرنا’ ہے۔

 (السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

نئی دہلی: سنیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ وہ ملک بھر کے تقریباً 500 اضلاع میں یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر پریڈ کا اہتمام کرے گی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ قومی دارالحکومت میں یوم جمہوریہ کی پریڈ کے اختتام کے بعد ٹریکٹر پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، بیان میں کہا گیا ہے، ‘ایس کے ایم   26 جنوری 2024 کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ضلعی سطح پر ٹریکٹر پریڈ کا اہتمام کرے گی۔ توقع ہے کہ کم از کم 500 اضلاع میں پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا۔ ایس کے ایم نے کسانوں سے پریڈ میں بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے اور دہلی میں پریڈ کے اختتام کے بعد ٹریکٹر پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا۔

ایس کے ایم کے مطابق، یہ مظاہرے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کے نفاذ، قرض معافی، بجلی کی نجکاری کو روکنے، کسانوں کے لکھیم پور کھیری قتل عام میں مبینہ کردار کے لیے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے مشرا ‘ٹینی’ کی برخاستگی اور ان کے خلاف مقدمے جیسے مطالبات کے حوالے سے ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک مرکزی حکومت تمام مطالبات کو پورا نہیں کرتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ایس کے ایم کے رہنما جمعہ ان تحریکوں میں مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے جمعہ کو دس مرکزی ٹریڈ یونینوں (سی ٹی یو) کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے، ‘پریڈ میں حصہ لینے والی کسان تنظیموں کے جھنڈوں کے ساتھ قومی پرچم بھی لہرائے جائیں گے۔ کسان آئین ہند میں درج جمہوریت، وفاقیت، سیکولرازم اور سوشلزم کے اصولوں کے  تحفظ کا عہد کریں گے۔ پریڈ میں ٹریکٹرز کے ساتھ دیگر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی شامل ہوں گی۔

قابل ذکر ہے کہ 20 ریاستوں میں ایس کے ایم  کی ریاستی اکائیاں اگلے سال 10-20 جنوری تک پورے ہندوستان میں گھر گھر جاکر اور پرچہ تقسیم  کرکے ‘جن جاگرن’ مہم چلائیں گی۔ عوامی مہم کا مقصد مرکزی حکومت کی ‘کارپوریٹ نواز اقتصادی پالیسیوں کو اجاگر کرنا’ ہے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، بیان میں کہا گیا ہےکہ ‘نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی کارپوریٹ نواز اقتصادی پالیسیاں، جو کسانوں، محنت کشوں اور بڑے پیمانے پر عوامی مفادات کے لیے نقصاندہ ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری بے تحاشہ  مہنگائی، غربت، قرض اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت ہوتی ہے۔

ایس کے ایم نے مزید کہا، ‘یہ مہم جی ڈی پی کی شرحوں پر منحصر کارپوریٹ حکمرانی پر مبنی ترقی کے مودی حکومت کے بیانیے کے خلاف ہے۔ ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی کہانی کے پیچھے فی کس آمدنی میں گراوٹ، بڑھتی ہوئی آمدنی میں عدم مساوات اور کسانوں کو کم سے کم امدادی قیمت اور مزدوروں کو کم از کم اجرت دینے سے انکار کرناہے۔’

ایس کے ایم کے سینئر کارکن پی کرشن پرساد نے اخبار کو بتایا کہ اس کا مقصد بی جے پی کے ‘فرقہ وارانہ بیانیہ’ کو چیلنج کرنے کے لیے روزی روٹی کے مسائل پر ان دس دنوں کے دوران کم از کم 12 کروڑ لوگوں تک پہنچنا ہے۔

کرشن پرساد نے کہا کہ ایس کے ایم اور سی ٹی یو کارکنان گھر گھر جائیں گے اور لوگوں کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ-بی جے پی حکمرانی کے خلاف منظم کرنے کے لیے پرچے تقسیم کریں گے۔

ایس کے ایم نے کہا، ‘ 30.40 کروڑ گھرانوں میں سے کم از کم 40 فیصد کو کور کرنے کے ہدف کے ساتھ مہم کی تیاری کے لیے ریاستی سطح کی رابطہ کمیٹیاں فوری طور پر میٹنگ کریں گی۔’

معلوم ہو کہ 26 جنوری 2021 کو کسان یونینوں کی طرف سے مرکز کے تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بلائی گئی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہزاروں کسانوں کی پولیس سے جھڑپ ہوئی تھی۔ کچھ مظاہرین لال قلعہ تک پہنچ گئے تھے اور اس کے گنبدوں اور فصیل پر مذہبی جھنڈے لہرائے گئے  تھے، جہاں وزیر اعظم یوم آزادی پر قومی پرچم لہراتے ہیں۔

اب ایس کے ایم  نے ملک بھر کے کسانوں سے ‘فرقہ وارانہ اور ذات پات کے پولرائزیشن کے ذریعے لوگوں کا استحصال اورتفرقہ پیدا کرنے والے ‘کارپوریٹ-فرقہ وارانہ گٹھ جوڑ کو ہٹانے کے لیے مہم اور پریڈ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔