خبریں

ڈی یو کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا رہا، بولے – یہ محض اتفاق ہے کہ میں جیل سے زندہ باہر آیا ہوں

دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کو بامبے ہائی کورٹ کے ذریعے بری کیے جانے کے بعد جمعرات کو ناگپور سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا۔ 2014 سے قید میں رہے سائی بابا  نے حکومت سے معاوضے کے مطالبے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ انہوں نے اس بارے میں سوچا نہیں ہے۔

رہائی کے دوران جی این سائی بابا۔ (تصویر بہ شکریہ: X@Nihalsingrathod)

رہائی کے دوران جی این سائی بابا۔ (تصویر بہ شکریہ: X@Nihalsingrathod)

ناگپور: دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کو جمعرات (7 مارچ) کو ناگپور سینٹرل جیل سے رہا کر دیاگیا۔ رہائی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں 56 سالہ سائی بابا نے کہا کہ ‘یہ محض اتفاق ہے کہ میں جیل سے زندہ باہر آیا ہوں۔’

اس سے قبل بدھ کو ان کی اہلیہ نے کہا تھا کہ مبینہ ماؤسٹ لنک کیس میں ہائی کورٹ سے ان کے شوہر کا بالآخر بری ہونا ناگزیر تھا، لیکن اس کی وجہ سے ان کی زندگی کے دس سال ضائع ہو گئے۔

بتا دیں کہ 5 مارچ کو بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے انہیں اور پانچ دیگر کو ‘دہشت گردی’ کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔

پریس کانفرنس میں سائی بابا، جو وہیل چیئر پر ہیں اور 90 فیصد سے زیادہ جسمانی طور پرمعذور ہیں، نے کہا کہ وہ دوسروں کی مدد کے بغیر ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا، ‘میں بیت الخلا نہیں جا سکتا، میں بغیر سہارے کے غسل نہیں کر سکتا، اور میں بغیر کسی راحت کے اتنے عرصے تک جیل میں رہا۔’

سال 2017 میں گڑھ چرولی کی ایک مقامی عدالت نے انہیں اور چار دیگر – پرشانت راہی، مہیش ترکی، ہیم کیشودت مشرا اور پانڈو نروٹے کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ چھٹے ملزم وجے نان ترکی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ جیل میں شدید طور پر بیمار ہونے سے نروٹےکی  اگست 2022 میں موت ہو گئی تھی۔ نروٹے کی عمر اس وقت صرف 33 سال تھی۔

سائی بابا نے نروٹے کے بارے میں بھی بات کی، جن کی موت مناسب طبی دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ انہوں نے پوچھا، ‘ایک نوجوان، جس کا تعلق سب سے قدیم قبیلے سے تھا، کو جیل میں ہمارے ساتھ رہنا پڑا۔ ان کی ایک بیٹی تھی۔ انہیں بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔ کیا واقعی میں انصاف ہوا ہے؟’

سال 2020 میں نروٹے کی جیل میں سوائن فلو کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔ ان کے وکیل اور اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بروقت طبی امداد نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑتی  گئی۔

سائی بابا کو جیل میں رہتے ہوئے بھی کافی تکلیف اٹھانی پڑی تھی۔ ان کی اہلیہ وسنتا کماری اور ان کے وکیلوں نے کئی مواقع پر حراست ان کے ساتھ ہوئے ناروا سلوک کی شکایت کی تھی۔  وسنتا نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے حکومتوں اور ہائی کورٹس سے ان کی رہائی کے لیے کئی اپیلیں کیں۔ ایک اپیل میں انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر سائی بابا کو فوراً جیل سے رہا نہ کیا گیا تو ان کی موت ہو سکتی ہے۔

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سائی بابا نے کہا کہ جیل میں ان کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو وسنتا نے کہا تھا کہ ان کے شوہر بے قصور ہیں اور نظریہ رکھنا کوئی جرم نہیں ہے۔

این ڈی ٹی وی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالے سے بتایا کہ وسنتا کماری نے کہا، ‘ہماری زندگی کے دس سال ضائع ہو گئے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ میرے شوہر اور دیگر پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت غیر قانونی تھی۔’

انہوں نے کہا، ‘اس کا مطلب ہے کہ اسے اتنے عرصے تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا… پہلی نظر میں انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا تھا۔’

وسنتا نے کہا کہ ان کے شوہر، ان کے خاندان اور ان کی لیگل ٹیم کو معلوم تھا کہ ان کا کیس مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا، ‘یہ تو ہونا ہی تھا۔’ میرے شوہر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کوئی بھی نظریہ رکھنا جرم نہیں ہے اور ہائی کورٹ نے بھی سائی بابا اور دیگر کو بری کرتے ہوئے یہ بات کہی بھی ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے اسی وقت آواز اٹھائی جب حکومت نے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

وسنتا کماری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2014 میں گرفتاری کے وقت سائی بابا صرف ہائی بلڈ پریشر (ہائپر ٹینشن) میں مبتلا تھے، لیکن اب وہ دیگر کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘وہ فالج زدہ ہیں اور وہیل چیئر پر ہیں۔ ان کی رہائی کے بعد ہم علاج کے حوالے سے آگے فیصلہ کریں گے۔

نچلی عدالت میں سائی بابا کا مقدمہ ناگپور کے انسانی حقوق کے وکیل سریندر گاڈلنگ نے سنبھالا۔ گڑھ چرولی سیشن کورٹ میں مقدمہ مکمل ہونے کے فوراً بعد گاڈلنگ کو ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سائی بابا نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے وکیل گاڈلنگ کو صرف ان کا کیس کو ہینڈل کرنے کے لیے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا، ‘ایک وکیل جس نے ہمیشہ انصاف کے لیے جدوجہد کی ہے، جس نے عدالت میں سینکڑوں اور ہزاروں دلتوں اور قبائلیوں کی نمائندگی کی ہے، اور ایسا شخص جیل میں ہے۔ اگر میرے کیس میں مکمل انصاف ہونا ہے تو گاڈلنگ کو رہا کیا جانا چاہیے۔ ‘

سائی بابا کو پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل ہی رہا کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ اس لیے انہیں اپنے کیس میں فیصلہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ قانونی طور پر حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کریں گے، سائی بابا نے کہا، ‘میری صحت اچھی نہیں ہے۔ میں نے اس کے بارے میں سوچا نہیں ہے۔’

بتا دیں کہ سائی بابا کے معاملے میں عدالت نے گزشتہ سال ستمبر میں سماعت مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ دو سالوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب ناگپور بنچ نے سائی بابا اور دیگر کو بری کیا ہے۔

بتادیں کہ 14 اکتوبر 2022 کو جسٹس روہت بی دیو اور انل پنسارے کی اسی عدالت نے گڑھ چرولی سیشن کورٹ کے اس فیصلے کو پلٹ دیا تھا، جس میں ٹکری کے علاوہ (جنہیں 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی تھی) باقی تمام کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سال 2022 میں تمام پانچوں ملزمین کو بری کرتے ہوئے جسٹس دیو نے کہا تھا کہ ‘قومی سلامتی کے لیے مبینہ خطرے’ کے نام پر قانونی ضابطے کو طاق پر نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر عرضی گزار کسی اور مقدمے میں ملزم نہیں ہے تو انہیں فوراً جیل سے رہا کیا جائے۔

سائی بابا اور دیگر کی طرف سے پیش ہونے والے دفاعی وکیلوں نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی سخت دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے جاری کردہ منظوری کے حکم کے جواز کو چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے یو اے پی اے کی دفعہ 41(اے) پر بھروسہ کیا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ‘کوئی بھی عدالت مرکزی حکومت یا مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں مجاز کسی افسر کے پیشگی منظوری کے بغیر کسی بھی جرم کا نوٹس نہیں لے گی۔’

سال 2022 میں ہائی کورٹ نے جائز منظوری کی عدم موجودگی کو ‘قانون کے نظریے سے خراب اور ناقابل قبول’ قرار دیا تھا۔

کیا تھا معاملہ

مارچ 2017 میں مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کی ایک سیشن عدالت نے مبینہ طور پر ماؤ نواز روابط اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے سائی بابا اور دیگر، جن میں  ایک صحافی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالبعلم شامل تھے ،کو مجرم قرار دیا تھا۔

یہ معاملہ مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کے اہیری پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سائی بابا ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کی ایک مبینہ فرنٹ تنظیم ریولوشنری ڈیموکریٹک فرنٹ (آر ڈی ایف ) کے سکریٹری تھے۔ اڑیسہ اور آندھرا پردیش میں آر ڈی ایف پر پابندی ہے۔

سائی بابا کو اس معاملے میں کلیدی ملزم بنایا گیا تھا۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ 2013 میں ان کے گھر سے ضبط کیے گئے الکٹرانک آلات میں کم از کم 247 صفحات ‘مجرمانہ’ پائے گئے تھے۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ہیم مشرا کے پاس سے ضبط کیے گئے میموری کارڈ میں کچھ دستاویز تھے جن سے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں میں سائی بابا کے ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

ٹرائل کورٹ کی سزا 22 گواہوں کے بیانات پر مبنی تھی، جن میں سے صرف ایک آزاد گواہ تھا؛ باقی سب پولیس گواہ تھے۔

عدالت نے سائی بابا اور دیگر کو سخت یو اے پی اے اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔

سائی بابا، جو جسمانی طور پر 90 فیصد سے زیادہ معذور ہیں اور وہیل چیئر پر رہتے  ہیں، نے قید کے دوران کئی بار طبی غفلت کا الزام لگایا ہے۔ سائی بابا کو پچھلی ایک دہائی میں صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔