خبریں

مودی حکومت این آر آئی ناقدین پر جبر کر رہی ہے: ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بولنے والے ہندوستانی نژاد غیر ملکی شہریوں کے ویزا/او سی آئی سہولیات منسوخ کی جا رہی ہیں۔ تنظیم کے ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت کا یہ قدم تنقید کے حوالے سے اس کے رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔

صحافی انگد سنگھ، اشوک سوین اور نتاشا کول۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر/یوٹیوب)

صحافی انگد سنگھ، اشوک سوین اور نتاشا کول۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر/یوٹیوب)

نیویارک: ہیومن رائٹس واچ نے سوموار (18 مارچ) کو کہا کہ ہندوستانی حکام بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولنے والے ہندوستانی نژاد غیر ملکی ناقدین کے ویزے منسوخ کر رہے  ہیں  ۔

وزیر اعظم نریندر مودی اکثر ہندوستانی جمہوریت کا جشن منانے امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور دوسری جگہوں پر پارٹی کی حمایت کرنے والے تارکین وطن کی اجتماعی میٹنگوں میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ ان کی حکومت نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں ان کا  دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی ‘شبیہ کو داغدار‘ کر رہے ہیں۔

اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (اوسی آئی) کا درجہ ہندوستانی نژاد غیر ملکی شہریوں یا ہندوستانی شہریوں سے شادی شدہ غیر ملکیوں کو دیا جاتا ہے، تاکہ  انہیں یہاں  رہنے کے وسیع رہائشی حقوق مل سکیں اور ویزا کی ضروریات کو در کنار کیا جا سکے۔ تاہم، یہ شہریت کے حقوق کے برابر نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جن لوگوں کا اوسی آئی ویزا اسٹیٹس رد کر دیا گیا ہے، ان میں سے کئی ہندوستانی نژاد ماہرین تعلیم ، کارکن اور صحافی ہیں جو بی جے پی کے ہندو اکثریتی نظریے کی کھلے عام تنقید کرتے رہے ہیں۔

کچھ لوگوں نے اظہار رائے کی آزادی اور معاش کے اپنے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے آئینی بنیادوں پر ہندوستانی عدالتوں میں اس کارروائی کو چیلنج کیا ہے ۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا، ‘بی جے پی کی توہین آمیز اور امتیازی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے تارکین وطن ہندوستانیوں کے خلاف ہندوستانی حکومت کی کارروائی تنقید اور بات چیت  کے بارے میں اس کے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکام ہندوستانی کارکنوں اور ماہرین تعلیم سے لے کر بیرون ملک مقیم ہندوستانی نژاد غیر ملکی شہریوں تک ہر ایک کے خلاف سیاسی طور پر جبر کرنے کو آمادہ ہیں۔’

حکومت این آر آئی کے لیے ویزا اسٹیٹس کے بارے میں زیادہ محتاط

بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت حالیہ برسوں میں این آر آئی کے لیے ویزا کی حیثیت کو لے کر زیادہ محتاط ہو گئی ہے۔ 2021 میں حکومت نے 4.5 ملین او سی آئی  کارڈ ہولڈرز کو ‘غیر ملکی شہریوں’ کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کرکے ان کی سہولیات کو  کم کر دیا اور اب انہیں تحقیق اور صحافت کرنے یا ‘محفوظ’ کے طور پر درج ہندوستان کے کسی بھی علاقے کا دورہ کرنے کے لیے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

پچھلی دہائی میں حکومت نے مبینہ طور پر ‘آئین کے تئیں  عدم اطمینان‘ کا اظہار کرنے کے لیے  ایک سو سے زیادہ پرمٹ رد کر دیے ہیں اور کچھ این آر آئی کو ملک بدر بھی کیا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس سے اوسی آئی کارڈ ہولڈرز کے لیے تشویش بڑھ گئی ہے، چاہے وہ ہندوستان میں رہ رہے ہوں یا بیرون ملک۔ ان میں سے کئی کے والدین بزرگ ہیں اور کچھ کے ہندوستان سے مضبوط ذاتی تعلقات ہیں۔

ہندوستانی نژاد سویڈش ماہر تعلیم اشوک سوین کا 2022 میں اوسی آئی اسٹیٹس منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی، جس میں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے اپنی کارروائی کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

اس کے بعد جولائی 2023 میں سویڈن میں ہندوستانی قونصل خانے نے سوین کو ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کو ‘مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے’ اور ‘ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش’ کرنے کی وجہ سے ضروری ثبوت فراہم کیے بغیر ان کا او سی آئی اسٹیٹس رد کرنے  کاایک نیا آرڈر بھیجا تھا ۔

جب سوین نے ستمبر 2023 میں اس حکم کو چیلنج کیا تو حکام نے دعویٰ کیا کہ انہیں سکیورٹی ایجنسیوں سے ‘خفیہ’ ان پٹ  موصول ہوئے تھے۔ فروری 2024 میں، سوین کاایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا تھا اور بعد میں ہیک کر لیا گیا تھا ۔

سوائن نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا، ‘میرےمعاملے کو ہندوستان سے باہر دیگر ماہرین تعلیم کو ڈرانے یا حکومت کی تنقید نہ کرنےکے لیے مجبور کرنے کے لیے ایک مثال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ وہ خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ لوگ ملک واپس جانے کا موقع چاہتے ہیں۔’

او سی آئی کارڈ ہولڈر ماہرین تعلیم کو بھی ملک میں داخلہ نہیں ملا

ہندوستانی حکام نے او سی آئی کارڈ ہولڈر ماہرین تعلیم کو بھی ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ اس سال 23 فروری کو حکام نے لندن کی یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کی برطانوی پروفیسر نتاشا کول کو ہندوستان میں داخل ہونے سے روک دیا۔

کول کا کہنا تھا کہ امیگریشن حکام نے انہیں اس کارروائی کی وجہ نہیں بتائی ۔ لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان نے بعد میں اس معاملے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ‘ہمارے ملک میں غیر ملکی شہریوں کا داخلہ ایک خودمختار فیصلہ ہے۔’

نامعلوم سرکاری عہدیداروں نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ کول نے ہندوستان کے خلاف ‘احتجاج‘ کیا  تھا ۔

قابل ذکر ہے کہ کول بی جے پی اور اس سے منسلک گروپوں کی بولڈ ناقد رہی ہیں اور 2019 میں انہوں نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں یونائٹیڈ اسٹیٹس ہاؤس کمیٹی آن فارن افیئرس کے سامنے بھی اپنی بات رکھی تھی۔

کول نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ انہیں ہندوستان اور بیرون ملک بی جے پی کی حمایت کرنے والے ٹرول کی طرف سے آن لائن ریپ اور جان سے مارنے کی متعدد دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا، ‘دھمکیوں کے علاوہ انھوں نے مجھے جہادی اور دہشت گرد بھی کہا ہے۔ میرے خلاف بڑے پیمانے پر جان بوجھ کر پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کیوں کہ  میرا کام ہندوستان کی حکمران جماعت کے تئیں تنقیدی   نوعیت کاہے ، جو مجھے  پاکستان کا حامی بناتا  ہے۔’

سرکار کی  پالیسیوں پر تنقید کا حوالہ

کچھ معاملوں میں عہدیداروں نے ویزا کی حیثیت کو منسوخ کرنے کے ثبوت کے طور پر کھل کر بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو حوالہ دیا ہے۔

برطانوی کارکن امرت ولسن کی عرضی ، جس میں  ان کے ویزا کی منسوخی کو چیلنج کیا گیا تھا ، اس کے جواب میں حکومت نے کشمیر کے بارے میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹ اور 2020 اور 2021 میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرنے والےمضمون کا حوالہ دیا۔

ہندوستانی حکام جنوری 2024 تک ہندوستان میں کام کرنے والے او سی آئی کا درجہ رکھنے والے تقریباً 25 غیر ملکی صحافیوں کے خلاف تیزی سے سیاسی حربے استعمال کر رہے ہیں، انہیں غیر شفاف بیوروکریسی میں الجھا رہے ہیں یا بس انہیں رپورٹنگ جاری رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

بائیس  سال تک ہندوستان میں  رہنے والے فرانسیسی صحافی وینیسا ڈوگنیک نے کہا کہ جنوری میں وزارت داخلہ کی جانب سے انہیں ‘شو کاز‘ نوٹس بھیجے جانے کے بعد انہوں نے ملک چھوڑ دیا کیونکہ اس کے پیچھے حکومت کا ارادہ ان کا او سی آئی کارڈ منسوخ کرنا تھا۔ انہیں بتایا گیا ایک صحافی کے طور پر کام کرنے کے لیے کہ ان کے پاس پرمٹ نہیں ہے اور ان کی خبروں نے ‘ہندوستان کے بارے میں متعصبانہ اورمنفی تاثر’ پیدا کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ڈوگنیک کو 2022 میں ایک صحافی کے طور پرکام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اور ان کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود وزارت نے اپنے فیصلے کی وضاحت یا نظرثانی کے لیے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

ایک ہندوستانی کمپنی کی مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ شائع کرنے کے فوراً بعد ایک امریکی صحافی کا او سی آئی اسٹیٹس 2023 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ امریکی صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ ان پر کوئی خاص الزام نہیں لگایا گیا تھا اور ان کی بار بار درخواست کے باوجود اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔’

امریکی سکھ صحافی انگد سنگھ کو بھی حکام نے سال 2022 میں ملک بدر کر دیا تھا۔ سنگھ کے ذریعے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کے بعد حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے ملک کے ترمیم شدہ شہریت قانون کے خلاف 2019-20 کے مظاہروں کے بارے میں 2020 کی ایک ڈاکیومنٹری میں ‘ہندوستان کی سیکولر اسناد کے بارے میں انتہائی منفی نظریہ پیش کیا ہے۔’