خاص خبر

’میں سچ سب کے سامنے لا دیتی پر …‘ کیسے انگریزی نے اناؤ ریپ متاثرہ کی عدالتی لڑائی کو مشکل بنا دیا ہے

گزشتہ دنوں اناؤ ریپ کیس میں سپریم کورٹ نے سروائیور کو بڑی راحت دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت دینے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ دریں اثنا، متاثرہ کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی ہندی میں ہو، تو وہ اپنا مقدمہ خود لڑتے ہوئے دنیا کے سامنے ساری سچائی لا دیں گی۔

سپریم کورٹ نے متاثرہ کو راحت دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ (تمام تصویریں: سونیا یادو/دی وائر)

نئی دہلی:’ مجھے جب تک انصاف نہیں مل جاتا،میری لڑائی جاری رہے گی ۔ کیونکہ اس لڑائی میں میں نے بہت کچھ کھودیا ہے۔ اب میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی،  پھر چاہے میری ہمت کتنی ہی  بار کیوں نہ ٹوٹے۔’

یہ باتیں اناؤ ریپ سروائیور نے اتوار (28 دسمبر) کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران دی وائر سے بات چیت میں کہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح پچھلے آٹھ سال درد اور دہشت سے عبارت رہے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے نہ صرف اپنے والد اور خاندان کے دیگر افراد کو کھویا بلکہ اپنی شادی شدہ زندگی کی خوشیاں اور بچوں کا بچپن کو بھی گنوا دیا۔

غور طلب ہے کہ اناؤ ریپ کیس میں ٹرائل کورٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو 20 دسمبر 2019 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کو چھ سال بعد دہلی ہائی کورٹ کی ایک بنچ نے 23 دسمبر 2025 کو معطل کر دیا ۔ اس فیصلے کے خلاف سروائیور، ان کی ماں اور سول سوسائٹی کے لوگ مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔

سوموار  (29 دسمبر) کو سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا کہ کلدیپ سنگھ سینگر کو کیس کے مخصوص حالات کے پیش نظر رہا نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے ایم پی/ایم ایل اے کو پبلک سرونٹ کی تعریف سے خارج کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کلدیپ سنگھ سینگر کو نوٹس جاری کیا۔

‘پورا سسٹم سینگر کو بچانے میں لگاہے’

اس فیصلے سے پہلے اتوار کوسروائیور نے دی وائر سے بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ‘اس جرم کے وقت وہ 17 سال کی تھی، لیکن آج جب وہ  25 سال کی ہو گئی ہیں، تب بھی انہیں انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر بھٹکنا پڑ رہا ہے، کیونکہ باہوبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو بچانے میں پورا سسٹم لگا ہوا ہے۔ پورے گاؤں میں ڈر کا ماحول ہے۔’

وہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ کیا پاور اور سیاسی اثر و رسوخ جرم کی سنگینی کو کم کر دیتے ہیں۔

سروائیوراپنی ایک پریشانی کا بھی ذکر کرتی ہیں،’مجھے انگریزی کی بہت زیادہ سمجھ نہیں ہے، لیکن جیسے ہی ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا، مجھے یہ سمجھ آ گیا کہ اب میں اور میرا خاندان محفوظ نہیں  ہیں، کیونکہ پانچ کلومیٹر کیا کلدیپ سینگر ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی اپنے لوگوں کے ذریعے مجھ پر حملہ کروا سکتا ہے۔ اور اگر وہ ایک معاملے میں باہر آ سکتا ہے، تو دوسرے معاملے میں بھی اسے باہر بیل پانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔اس لیے میراحتجاج ضروری ہے۔’

حالاں کہ انہیں نظام انصاف پر بھروسہ ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے پہلے نچلی عدالت نے ان کے ساتھ انصاف کیا تھا، لیکن وہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے سے ناراض تھیں۔

سکیورٹی خدشات

سروائیور بتاتی ہیں کہ کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل ہونے کے بعد  ان کی زندگی میں طوفان آگیا ہے۔ انہیں کئی طرح کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کے تحفظ کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ بارباروزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی درخواست کر رہی ہیں، تاکہ وہ ان کو اپنا دکھ  دردبتاسکیں۔

وہ کہتی ہیں،’یہ فیصلہ نہ صرف میرے لیے بلکہ اس ملک کی ہر بیٹی کے لیے، ہر عورت کے لیے خوف پیدا کرنے والاہے۔ کیونکہ جب ایک عورت کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو اسے پہلے سماج، تھانے اور پھر عدالت میں جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اور اتنا سب کرنےکے بعد بھی اس کے مجرم کو اس طرح چھوڑ دیا جائے تو اس کا حوصلہ ایک دم ٹوٹ جاتا ہے۔ آج مجھے ایک بار پھر اپنے لیے، انصاف کے لیے دوبارہ لڑنا پڑ رہا ہے۔’

عدالتی کارروائی اور اس کی زبان

سروائیور کہتی ہیں کہ اگر عدالتی کارروائی ہندی میں ہو تو وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں گی اور دنیا کے سامنے ساری سچائی لا کر رکھ دیں گی۔ کیوں کہ ریپ، گینگ ریپ اور والدکے ساتھ ہی خاندان کے دیگر افراد کو کھونا اور پھر خودموت کے منھ سے لڑکرواپس آنے کا ناقابل برداشت درد انہوں نے جھیلا ہے، وہ شاید ہی کوئی اور سمجھ سکے۔

غورطلب ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ 53 صفحات کے فیصلے میں پہلی نظر میں مانا تھا کہ سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگرجنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پاکسو) کے قانون کے تحت پبلک سرونٹ کی تعریف میں نہیں آتے ہیں ۔ اس لیے ان پراس کے تحت الزام نہیں لگائےجا سکتے۔

لائیو لاء کے مطابق، اگر کسی پبلک سرونٹ کو ریپ کا قصوروار پایا جاتا ہے تو اسے کسی عام شہری سے زیادہ سخت سزا دی جاتی ہے۔ اس کے لیے اس وقت یعنی 2019 میں آئی پی سی کی دفعہ 376(2)(بی)اورپاکسوکی دفعہ 5(سی) کے تحت سزا دی  جاتی تھی۔ کلدیپ سنگھ سینگر کو بھی انہی دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔

پبلک سرونٹ کو سخت سزا

سینگر کے فیصلے کے وقت کسی پبلک سرونٹ کو ریپ کے لیے کم از کم دس سال کی سزاتھی، جوعمر قید تک بڑھائی جا سکتی تھی۔ اس کے برعکس کسی عام شہری کے لیے ریپ کی کم از کم سزا سات سال تھی۔ تاہم، ہائی کورٹ نے پبلک سرونٹ نہ ماننے والی دلیل کو پہلی نظر کا تبصرہ بتاتے ہوئے کیا تھا کہ اگرکلدیپ سینگر کو پبلک سرونٹ نہ مانا جائے تو ریپ کے معاملے میں انہیں کتنی  سزا ملے گی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ پاکسوکے تحت ریپ کے لیےکم از کم سزا سات سال ہے اور کلدیپ سینگر سات سال پانچ ماہ سے جیل میں ہیں۔

وہیں، سروائیورکے وکیل نے دلیل دی تھی کہ اس معاملے میں ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے کا سہارا لیتے ہوئے کہا تھا کہ کلدیپ سینگر کو پبلک سرونٹ مانا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ وکیل نے یہ بھی کہا  تھاکہ اس معاملے میں تفتیش ٹھیک سے نہیں ہوئی اور کلدیپ سینگر نے اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ تاہم ،عدالت نے کہا کہ سزا کی معطلی کا فیصلہ کرتے وقت وہ ان دلائل پر ابھی غور نہیں کر سکتے۔

‘بیٹیوں کے ساتھ غلط ہونے پر پی ایم -سی ایم خاموش کیوں ہیں؟’

غور طلب ہے کہ اتوار کو جنتر منتر پر ہوئے مظاہرے میں کئی نوجوان لڑکیوں نے بھی حصہ لیا، جنہوں نے کہا کہ وہ آج بھی 2012 کے نربھیا کیس کے دوران ملک کےغم و غصے کو بھولی نہیں ہیں۔ کیسے لوگ اس وقت سڑکوں پر پوسٹر، بینر اور موم بتیاں لے کر نکلے تھے اورپولیس کی لاٹھیوں سے بھی نہیں ڈرے تھے ۔ لیکن ایسا صرف اس وقت کیوں جب کسی کی موت ہو جائےیا کوئی اس حالت میں پہنچ جائے جہاں ہم چاہتے ہوئے بھی ان کے لیے کچھ نہ کر پائیں۔

اس حوالے سے آل انڈیا پروگریسو ویمنز آرگنائزیشن سے وابستہ آکانکشا کا کہنا ہے کہ ‘ہم کسی کے مرنے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟ ہم ہر معاملے کو نربھیا کیس کی طرح سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتے؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سینگر کیس میں بڑے پیمانے پر دباؤ کے بعد پارٹی نے 2019 میں سینگر کو برخاست کیا تھا۔’

دِشا تنظیم سے وابستہ حبیبہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’ کا نعرہ صرف نام کادیاہے۔ حقیقت میں پارٹی خود اپنے لیڈروں سے بیٹیوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے۔ پی ایم مودی اور بلڈوزر چلانے والے سی ایم یوگی اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟

اے آئی ایس اے کی سواتی کا کہنا تھا، ‘یہ صرف ایک معاملہ نہیں ہے، کٹھوعہ سے لے کر منی پور، انکیتا بھنڈاری، سندیپ سنگھ، برج بھوشن شرن سنگھ جیسےمتعدد معاملے ہیں، جنہیں اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنی سہولت کے حساب سے آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔’

بتادیں کہ سی بی آئی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم، سروائیور کا الزام ہے کہ سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے سامنے کیس کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا اور فیصلے کے بعد اپیل کرنے میں کافی وقت لگا یا، جس سے ایجنسی کی منشا پر سوال اٹھتے ہیں۔

اس طرح کے فیصلے سے سماج میں غلط پیغام جائے گا: یوگیتا بھیانا

سروائیور کے ساتھ اس فیصلے کے خلاف شروع سے ہی وابستہ رہیں اورخواتین کے حقوق کے آواز بلند کرنے والی کارکن یوگیتا بھیانانے دی وائر سے کہا کہ ایک ریپسٹ صرف ریپسٹ ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت، عہدہ، اثر و رسوخ یا کوئی اور چیز معنی نہیں رکھتی۔ اس لیے کلدیپ سنگھ سینگر کو جو تحفظ دیا جا رہا ہے، وہ سراسر ناانصافی ہے، صرف اناؤ سروائیور کے لیے نہیں بلکہ ملک کی ہر عورت کے لیے۔

یوگیتا مزید بتاتی ہیں کہ قانون کے جس لوپ ہول کا فائدہ سینگر کے وکیلوں نے اٹھانا چاہا، جس میں ان کے پبلک سرونٹ کی تعریف میں شامل نہ  ہونے کا حوالہ دیا گیا ہے، اس پر پہلے ہی ٹرائل کورٹ مشاہدہ موجود ہے۔ ایسے میں ریپ جیسےسنگین معاملے میں اس طرح کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے۔ اس سے معاشرے میں غلط پیغام جائے گا۔

کیا تھا معاملہ؟

قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ 4 جون 2017 کا ہے، جب سروائیور کے ساتھ بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر نے ریپ کیا تھا ۔ اس وقت سروائیور کی عمر 17 سال تھی۔ تاہم، اس جرم کو سامنے آنے میں تقریباً 10 مہینے لگے، اورمعاملے نے اس وقت طول پکڑا جب 8 اپریل 2018 کوسروائیور نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر خودکشی کی کوشش کی۔

دریں اثنا، سروائیور کو اغوا کر کے ان کے ساتھ مبینہ طور پرگینگ ریپ بھی کیا گیا، یہ مقدمہ فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اس پورے معاملے کے دوران سروائیور کے والد کی جیل میں موت، سڑک حادثے میں رشتہ داروں کی موت اور خود سروائیور کا شدید زخمی ہونا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے۔

نواگست، 2019 – دہلی کی ایک سیشن عدالت نے کلدیپ سینگر کے خلاف ریپ اور مجرمانہ سازش سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے ساتھ ہی پاکسو ایکٹ کے تحت بھی الزامات طے کیے ۔

چودہ اگست 2019 کو سروائیور کے والد کی موت کے معاملے میں بھی سینگر سمیت نو لوگوں کے خلاف عدالت نے الزامات  طے کیے ۔

سات ستمبر 2019 کو سپریم کورٹ نے ایمس، دہلی میں عارضی طور پرعدالت قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ سروائیور کا بیان درج کیا جاسکے ۔

گیارہ اکتوبر 2019 کوسروائیور کی کار پر حملے کے معاملے میں سی بی آئی نے کلدیپ سینگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔

سولہ دسمبر 2019 کو عدالت نے کلدیپ سینگر کو مجرم قرار دیا اور 20 دسمبر 2019 کو سینگر کو عمر قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

چار مارچ، 2020 کو سینگر، ان کے بھائی، اور پانچ دیگر کوریپ سروائیورکے والد کی حراست میں موت کے معاملے میں بھی مجرم ٹھہرایا  اور انہیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ کلدیپ سنگھ سینگر نے اس کیس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کی ہے جو ابھی زیر التوا ہے۔