اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری قتل کیس کے سلسلے میں پولیس نے ایک ٹی وی اداکارہ کو طلب کیا ہے۔ اداکارہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ایم پی دشینت کمار گوتم ہی اس معاملے کے ‘پراسرار وی آئی پی’ ہیں، جنہیں ‘سروس’ دینے کا دباؤ انکیتا پر تھا۔

ٹی وی اداکارہ ارمیلا سناور نے بی جے پی لیڈر دشینت کمار گوتم پر انکیتا بھنڈاری کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کئی ویڈیو جاری کیے ہیں۔ تصویر: ایکس
نئی دہلی: اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں پولیس نے ٹی وی اداکارہ کو طلب کیا ہے۔
اداکارہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ایم پی دشینت کمار گوتم ہی اس معاملے کے ‘پراسرار وی آئی پی’ ہیں، جنہیں ‘سروس’ دینے کا دباؤ انکیتا پر تھا۔
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، سہارنپور میں اداکارہ ارمیلا سناور کے بند گھر کے دروازے پر ایک نوٹس چسپاں کیا گیا ہے، جس میں انہیں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ہری دوار کے جوالا پور پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، خیال کیا جاتا ہے کہ سناور نے کئی ویڈیوز پوسٹ کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر پناہ لے لی ہے۔ویڈیو میں انہوں نے الزام لگایا کہ 19 سالہ ریسپشنسٹ انکیتا بھنڈاری کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ انہوں نے بی جے پی لیڈر کو ‘اسپیشل سروس’دینے سے انکار کر دیا تھا۔
کیا تھا معاملہ؟
معلوم ہو کہ2022 میں ہری دوار کے قریب ونتارا ریزورٹ میں کام کرنے والی 19 سالہ ریسپشنسٹ انکیتا بھنڈاری کے ساتھ مبینہ ریپ اور قتل کے معاملے نے اتراکھنڈ میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا تھا۔ یہ پہاڑی ریاست تاریخی طور پر اپنی کم مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے مشہور رہی ہے۔
تفتیش کے دوران متاثرہ کے ایک دوست نے پولیس کو بتایا کہ بھنڈاری کو ممکنہ طور پر اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ انہوں نے ایک وی آئی پی مہمان کی ‘تفریح’ کے مطالبے سے انکار کر دیا تھا۔
تاہم، بڑے پیمانے پر سرخیوں میں آنے کے باوجود چارج شیٹ میں کیس کے ‘وی آئی پی’ پہلو کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
مئی 2025 میں ایک عدالت نے اس وقت کے بی جے پی لیڈر اور ریزورٹ کے مالک ونود آریہ کے بیٹے پلکت آریہ اور ان کے دو معاونین سوربھ بھاسکر اور انکیت گپتا کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ونود آریہ کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔
حال ہی میں یہ معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا، جب ٹیلی ویژن اداکارہ ارمیلا سناور نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ کے ذریعے اشارہ دیا کہ انکیتا بھنڈاری معاملے میں جس ‘وی آئی پی’ کے بارے میں بات کی جا رہی تھی، وہ دشینت گوتم ہیں۔
اداکارہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد اتراکھنڈ حکومت نے ‘پورے معاملے کی تحقیقات’ کے لیے سات رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔
موجودہ صورتحال
تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ گوتم کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے یا نہیں۔ خبروں کے مطابق، ان الزامات کے بعد گوتم نے ریاست کی بی جے پی حکومت کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا اور اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ، گوتم نے اتراکھنڈ حکومت سےسوشل میڈیا پر موجودکچھ آڈیو اور ویڈیو مواد کو ہٹانے کا حکم دینے کی اپیل کی، جن میں انہیں انکیتا بھنڈاری کے قتل کیس میں مبینہ طور پر پھنسایا گیا ہے۔
گزشتہ25 دسمبر کو اتراکھنڈ کے داخلہ سکریٹری شیلیش باگولی کو لکھے گئے خط میں انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے لکھا، ‘میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نیوز چینلوں کو ہدایت دیں کہ وہ ایسے مواد کو ہٹا دیں اور براہ راست یا بالواسطہ اس کے پھیلاؤ کو روکیں۔’
دریں اثنا، ارمیلا سناور کے خلاف ہری دوار کے چار تھانوں میں بلیک میل اور ہتک عزت سمیت چار مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں چاروں شکایت کنندگان کا تعلق بی جے پی سے ہے۔
سناور کے خلاف شکایت کرنے والوں میں سے ایک دھرمیندر کمار،سنت شرومنی گرو رویداس وشو مہاپیٹھ کے ریاستی صدر ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’انہوں نے مہاپیٹھ کے بین الاقوامی صدر دشینت گوتم پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں۔’
گوتم نے سناور کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی ہے، لیکن ابھی تک مقدمہ دائر نہیں کیا ہے۔
دریں اثنا، اپوزیشن پارٹی کانگریس نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور اس الزام کو بی جے پی کے سینئر لیڈر کی تحقیقات کے دوران اپنا نام دبانے کے لیے اپنےاثر و رسوخ استعمال کرنے کی مثال قرار دیا ہے۔
‘وہ مجھےقتل کرو اسکتے ہیں‘
دریں اثنا، 28 دسمبر کو پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں روتے ہوئے سناور نے الزام لگایا کہ پولیس انہیں ‘مروا سکتی ہے’ اور گوتم کو گرفتار کرنے کے بجائے ان کی ‘تلاش’ کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے پولیس ان کو سکیورٹی دینے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق، گزشتہ ماہ سناور نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی لیڈر اور جوالاپور کے سابق ایم ایل اے سریش راٹھور نے چار سال قبل ان سے ‘شادی’ کی تھی، یہ ظاہر کیے بغیر کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔
اداکارہ، جو اب راٹھور سے الگ ہو چکی ہے، نے دعویٰ کیا کہ سابق ایم ایل اے نے انہیں بتایا تھا کہ گوتم ریسپشنسٹ کے قتل سے منسلک ‘پراسرار وی آئی پی’ ہیں۔
اس حوالے سے راٹھور نے صحافیوں کو بتایا، ‘وہ میری بیوی نہیں ہے، لیکن مجھے بلیک میل کر رہی ہے… میں اسے پہلے ہی 50 لاکھ روپے دے چکا ہوں۔’
تاہم، سناور کے عوامی دعووں کے بعد انہیں گزشتہ ہفتے پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے راٹھور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوالا پور پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔
تاہم، ان کی بیوی رویندر کور نے 30 دسمبر کو پولیس حکام سے ملاقات کی اور دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں سیکورٹی فراہم کی جانی چاہیے۔
ہریدوار کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرمود سنگھ ڈوبال نے کہا کہ سات رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ گوتم کی بھی جانچ کی جارہی ہے یا نہیں۔
