خاص خبر

بہار: آدرش سینٹرل جیل میں قید صحافی روپیش نے جیل انتظامیہ کی بدعنوانی کے خلاف ڈی ایم کو خط لکھا

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھیجی گئی درخواست میں صحافی روپیش کمار سنگھ نے آدرش سینٹرل جیل، بیور، پٹنہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور قیدیوں کے استحصال اور بدسلوکی کے لیے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قیدیوں کی روزمرہ کی جدوجہد کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

روپیش کمار سنگھ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

جھارکھنڈ کے فری لانس صحافی روپیش کمار سنگھ کو 17 جولائی 2022 کو ماؤنوازوں سے مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔تقریباً چار سال سے جیل میں بند روپیش اس وقت بہار میں آدرش سینٹرل جیل میں زیر سماعت قیدی  ہیں۔ انہوں نے جیل سے متعلق مسائل، من مرضی اور بدعنوانی کو اجاگر کرتے ہوئے ایک درخواست پٹنہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دسمبر میں  ہی بھیجی تھی، جس پر جیل انتظامیہ نے ابھی تک کوئی قدم  نہیں اٹھایا ہے۔

روپیش اس وقت صحت کے متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ٹرائی گلیسرائیڈز، ہائی کولیسٹرول، سائینس اور سلپ ڈسک  کے مسائل شامل ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود جیل انتظامیہ نے انہیں علاج کے لیے پٹنہ کے کسی اسپتال میں نہیں دکھایا ہے اور نہ ہی جیل کے اندر یا باہر ان کا  کوئی ٹیسٹ کروایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ضلع مجسٹریٹ کو ایک درخواست بھیجی ہے، جس میں انہوں نے آدرش سینٹرل جیل، بیور، پٹنہ میں بڑے پیمانے پر پھیلی بدعنوانی اور قیدیوں کے استحصال اور ہراساں کرنے کے لیے قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے۔

اس خط میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلی بار 17 اپریل 2023 کو آدرش سینٹرل جیل بیور میں آئے تھے، تاہم نو ماہ بعد قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے ان پر جھوٹے الزامات عائد کیے گئے اور انہیں 22 جنوری ، 2024 کو شہید جبہ ساہنی سینٹرل جیل بھاگلپور چھ ماہ  کے لیےبھیج دیا گیا، وہاں انہیں 6 مہینے کے بجائے 20 مہینے رکھا گیا اور 23 ستمبر 2025 کوواپس لایا گیا، وہ بھی  عدالت کے دباؤ کے بعد۔

روپیش کا مزید کہنا ہے کہ واپس آنے کے دوسرے دن بنا کسی غلطی کے انہیں اور بھاگلپور سے ان کے ساتھ آنے والے تمام قیدیوں کو سیل (گول گھر-2) میں ڈال دیا گیا اور تب سے وہ وہیں  پرہیں۔

روپیش مزید بتاتے ہیں کہ وہ اب تک بہار اور جھارکھنڈ کی چھ جیلوں میں رہ چکے ہیں اور جیل کے تجربات پر مبنی ان کی جیل ڈائری ’قید خانے کا آئینہ‘ بھی شائع ہوچکی ہے۔ لیکن اب تک انہوں نے آدرش سینٹرل جیل بیور سے زیادہ کرپشن کہیں نہیں دیکھی۔ اس کرپشن کی وجہ سے یہ جیل امیر قیدیوں اور طاقتور لوگوں کے لیے جنت  جیسی ہے، لیکن عام قیدیوں کے لیے جہنم سے بھی بدتر ہے۔

روپیش نے اپنے خط میں کچھ اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے

اس جیل میں جیل کے دستورالعمل کے ڈائٹ چارٹ پر بالکل بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر ہر سوموار، بدھ اور جمعرات کو صبح کے ناشتے میں 10 روپے  کا موسمی پھل فراہم کیا جانا چاہیے، جو کہ کبھی کبھی (مہینے میں 2-3 دن) ہی ملتا ہے۔

ہر سوموار کو رات کے کھانے میں 200 گرام دودھ بھی ملنا چاہیے، لیکن یہ کبھی نہیں ملتا۔ ہر جمعرات کو رات کے کھانے میں کھیر بھی ملنی چاہیے، جو کبھی نہیں ملتا۔ ہر اتوارکو سیوئی اور بھجیا ملنی چاہیے، جو کبھی نہیں  ملتاہے۔ ہر سنیچر کو رات کے کھانے میں انڈے کا سالن ملنا چاہیے، لیکن یہ بھی مہینے میں صرف 2-3 بار ہی ملتاہے۔ 70 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کو 500 گرام دودھ اور 10 روپے کا پھل یومیہ ملنا چاہیے لیکن پھل کسی کو نہیں ملتا۔

جیل مینوئل کے مطابق نہانے کا صابن، کپڑے دھونے کا صابن، تیل، ٹوتھ پیسٹ، برش وغیرہ بھی ملنا چاہیے، لیکن یہاں کچھ بھی نہیں ملتا ہے۔

جیل کے اسپتال میں صحت کا نظام کافی خراب ہے۔ جن قیدیوں کا یہاں علاج نہیں ہو سکتا انہیں باہر کے ہسپتال میں علاج کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ یہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ عدالتی حکم لے کر آئیں گے تو وہ انہیں باہر کے اسپتال بھیجیں گے، لیکن وہ خود سے مریض کا منٹس تیار کرکےعدالت کو نہیں بھیجتے ہیں کہ فلاں قیدی کو باہر کے اسپتال میں علاج کی ضرورت ہے۔ نتیجتاً قیدیوں کی بیماریاں لاعلاج ہو جاتی ہیں۔

یہاں کے درجنوں وارڈمیں دبنگ قیدی پرائیویٹ میس چلاتے ہیں، جس میں  5,000-10,000 روپے ماہانہ لے کر قیدیوں کو کھانا فروخت کیا جاتا ہے۔ وہ وارڈ میں ہیٹر پر لذیذ کھانا بناتے ہیں۔ میس چلانے والے جیل کے گودام سے ہی آلو، دال، آٹا، انڈے، چینی، ہری سبزیاں اور پیاز خریدتے ہیں۔ میس چلانے والے کی جیل انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت ہے۔

یہاں نشہ (گانجہ، سگریٹ، کھینی) کا بہت بڑا کاروبار ہے، جو 10-20 گنا قیمت پر آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے۔

جب قیدیوں کے رشتہ دار ملاقات کے لیے آن لائن رجسٹر کرتے ہیں، تو انہیں بروقت تصدیق(او ٹی پی)نہیں بھیجی جاتی۔اس صورتحال میں بھی  جب رشتہ  دار ملاقات کے لیے پہنچ جاتے ہیں تو ملاقاتی پرچی بنانے والے کاؤنٹر پر اوٹی پی نہیں ہونے کی وجہ سے ملاقاتی پرچی کاٹنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ تاہم، جیسے ہی وہاں موجود دلالوں کو کچھ پیسہ دیا جاتا ہے، فوراً ہی او ٹی پی  بھی آ جاتا ہے اور وزٹنگ سلپ  بھی جاری کر دی جاتی ہے۔

گول گھر-02 میں اس وقت 87 قیدی ہیں، لیکن ان کے پاس نہانے کے لیے صرف ایک نل ہے۔ نتیجے کے طور پر قیدی اپنے کمرے میں لیٹرین شیٹ پر بیٹھ کر نہانے کو مجبور ہیں۔ گول گھر 02 کی تعمیر سے  ہی اس کے ہر کمرے میں ایک وینٹی لیٹر تھا، لیکن جیل انتظامیہ نے ایک ماہ قبل اسے بند کروا  دیا  ہے۔

معلوم ہو کہ گول گھر-2 کے کسی بھی کمرے میں کھڑکی نہیں ہے، صرف سامنے کا دروازہ ہے، اس لیے وینٹی لیٹربند ہونے سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جیل کے تمام وارڈوں میں ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ جیل ریڈیو  کا اسپیکر بھی لگا ہوا ہے، لیکن گول گھر-2 میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔

جیل میں تین ایس ٹی ڈی بوتھ ہیں، جن میں سے ایک مستقل طور پرخراب ہے۔ بقیہ دو میں سے بھی ایک اکثر خراب ہی  رہتا ہے، جس کی وجہ سے قیدیوں کو خاصی تکلیف ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ قیدیوں کے رشتہ داروں کے موبائل نمبروں کی تصدیق میں بھی تین سے چھ ماہ لگتے ہیں۔

قیدیوں کو اپنے خاندان کے افراد، وکلاء اور دوسرے جیل میں بندکیس پارٹنروں  سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں  دی جاتی ہے۔

یہ شرمناک ہے کہ بہار کی راجدھانی کی جیل میں واقع اگنوکے اسٹڈی سینٹر میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے سہولیات نہیں ہیں۔

اس جیل میں جیل انتظامیہ نے سزا یافتہ قیدیوں میں سے ایک لاٹھی کمان تشکیل دی ہے۔ جس کے ہر قیدی کو لاٹھی دی گئی ہے اور انہیں جیل بھر میں مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے، تاکہ قیدیوں میں خوف طاری رہے ۔ یہ لوگ قیدیوں پر افراد لاٹھی سےحملہ بھی کرتے ہیں۔

اپنے حقوق کے لیےآواز اٹھانے والے قیدیوں پر جھوٹے الزامات کے تحت انتظامی حراستی مراکز میں منتقل کیا جاتا ہےاور مذکورہ جیل پہنچتے ہی جیل کے دروازے سے جیل کی کوٹھری تک بے دردی سے قیدیوں کو مارا جاتا ہے۔ مزید برآں، چھ ماہ کی انتظامی سفارش کے بجائے، وہ برسوں تک وہاں رکھے جاتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جیل انتظامیہ  کی انتظامی حراست کی منظوری کی جانچ کیے بغیر آپ کے دفترسے بھی فوراً اجازت دی جاتی ہے۔

روپیش کا کہنا ہے کہ جیل میں جب بھی معائنہ کے لیے کوئی افسر آتے ہیں تو جیل انتظامیہ کی طرف سے بتائے گئے یا جمع کیے گئے قیدیوں سے ہی مل کر چلے جاتے ہیں اور اگر گھومتے بھی ہیں  تو صرف وہاں ، جہاں جیل حکام کہتے ہیں۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ اس دوران تمام قیدیوں کو جیل کے وارڈ میں بند کر کے تالہ لگا دیا جاتا ہے۔ 10 دسمبر 2025 کو ہیومن رائٹس ڈے کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا، تقریب میں صرف 200 قیدیوں کو ہی شامل کیا گیا، اور باقی قیدیوں کو تقریب کے اختتام تک ان کے وارڈوں میں قید رکھا گیا۔

روپیش نے ان تمام مسائل کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنے اور قصوروار جیل اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ یہ درخواست یہاں کے ہزاروں قیدیوں کی آواز ہے۔