جموں و کشمیر پولیس نے انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو ان کی خبروں کے سلسلے میں ‘طلب’ کیا۔ مسعود کو ان کی مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔

السٹریشن: کینوا/دی وائر
نئی دہلی: جموں و کشمیر پولیس نے 14 جنوری کو انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود کو سری نگر کے سائبر پولیس اسٹیشن میں طلب کیا۔ وہاں پہنچنے پر مسعود کو گھنٹوں انتظار کروایا گیا اور تقریباً سات گھنٹے تھانے میں گزارنے کے بعد انہیں اگلے دن پھر سےآنے کو کہا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں کہا گیا کہ اگلی بار اپنے ساتھ وہ کسی دوست یا شریک کار کو بھی لائیں۔
بہرحال جب اگلے دن مسعود دوبارہ تھانے پہنچے تو انہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر لے جایا گیا اور ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ اردو میں لکھے اس بانڈ میں صحافی سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی غلطی نہ دہرائیں۔
صحافی یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ انہیں کس غلطی کے لیے ایسا کرنے کو کہا جا رہا ہے، اس لیے انھوں نے حکام سے پوچھا کہ بانڈ میں کس ‘غلطی’ کا ذکر ہے۔
اس کے بعد انہیں پتہ چلا کہ یہ اس خبر سے متعلق ہے، جو حال ہی میں وادی کی مسجدوں اور ان کے منتظمین کی مفصل معلومات حاصل کرنے کے لیے کی گئی پولیس کارروائی اور اس پر سیاسی ردعمل کے بارے میں تھی ۔
معاملے کا علم ہونے کے بعد مسعود نے بانڈ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے کو لے کر پولیس کا ماننا ہے کہ مسعود کی یہ خبر امن عامہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
صحافی نے دی وائر کو کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، تاہم مسعود کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانڈ پر دستخط کرنے سے انکار پر انہیں مزید تین دن تھانے میں بلایا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ بشارت مسعود 2006 سے انڈین ایکسپریس کے سری نگر بیورو سے وابستہ ہیں اور اس وقت اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ہم اپنے صحافیوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں: انڈین ایکسپریس
اس سلسلے میں دی وائر کے ایک سوال کے جواب میں اخبار نے کہا کہ انڈین ایکسپریس اپنے صحافیوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس حوالے سے انڈین ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر راج کمل جھا نے کہا، ‘پچھلی دو دہائیوں میں ان کا کام خود ہی سب کچھ بیان کرتا ہے۔’
اس واقعہ کے بعد ذرائع نے دی وائر کو بتایا کہ وادی سے کم از کم دو اور صحافیوں کو بھی پولیس نے اسی طرح سمن کیا ہے۔
دی وائر نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور معروف قومی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نامہ نگار عاشق حسین کو بھی پولیس نے ‘طلب’ کیا تھا لیکن وہ پولیس اسٹیشن نہیں گئے۔
اخبار نے بتایاکہ ‘انہوں نے وجوہات کے ساتھ تحریری سمن مانگا تھا تاکہ وہ جواب دے سکیں۔’ اس سلسلے میں حسین کو کہا گیا تھا کہ ‘جب وہ پولیس کے سامنے پیش ہوں گے تو انہیں وجوہات بتائی جائیں گی۔’
دی وائر نے تبصرہ کے لیے ہندوستان ٹائمز سے رابطہ کیا ہے، جواب موصول ہونے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں قومی اور مقامی اشاعتوں سے وابستہ صحافیوں اور فری لانس صحافیوں نے بتایا ہے کہ انہیں پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں نے ان کی روٹین رپورٹنگ، سوشل میڈیا پوسٹ اور دیگر بات چیت کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا ۔
ان سے ذرائع اور ادارتی فیصلوں کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ کئی صحافیوں نے دی وائر کو بتایا کہ انہیں انتقامی کارروائی، قانونی داؤ پیچ یا مستقبل میں ہراساں کیے جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکام کے ساتھ ہوئی ان ملاقاتوں کے تسلسل، مقصد اور شدت کے بارے میں بتاتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی بھی گزارش کی۔
انہوں نے کہا کہ نو فلائی لسٹ میں ڈالے جانے، بلیک لسٹ کیے جانے اور نگرانی میں رکھے جانے کا ڈر ہے۔
کشمیر سے اب رپورٹنگ نہیں کرنے والےا یک فری لانس صحافی نے دی وائر کو بتایا، ‘مجھے اپنے ایڈیٹر کو کوئی بھی خبر بھیجنے سے پہلے دو بار سوچنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسے میرے نام کے بغیر شائع کریں۔ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کیونکہ وہ کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھ رہے ہیں۔’
وادی میں صحافیوں پر دباؤ
اس سلسلے میں سینئر صحافی نروپما سبرامنیم نے جموں و کشمیر میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کونشان زد کرتے ہوئے معمول کی خبروں کی کوریج کے لیے پولیس کی طرف سے بار بار سمن بھیجے جانے کے واقعات کی جانب اشارہ کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ دہلی میں واقع قومی اخبارات کے نامہ نگاروں کو ‘جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے سمن بھیجا جا رہا ہے، معمول کی خبروں پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور ایسے بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا جا رہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی رپورٹ نہیں کریں گے۔’
انہوں نے بتایا کہ ایک رپورٹر کو تین دنوں تک بار بار طلب کیا گیا اور اخبار کی خاموشی نے حکام کو ایک دوسرے صحافی کو بھی سمن بھیجنے کا حوصلہ دیا ہوگا۔
ایک کشمیری صحافی نے مبینہ طور پر ان سے کہا، ‘اگر وہ اتنے بڑے اخبار کے رپورٹر کو سمن بھیج سکتے ہیں اور انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تو ہمارے حالات کا تصور کیجیے۔’
انہوں نے قومی میڈیا تنظیموں کی جانب سے ادارہ جاتی تعاون کی عدم موجودگی میں مقامی صحافیوں کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کو اجاگر کیا۔
سبرامنیم نے دی وائر کو بتایا،’میڈیا ہاؤس کو عوامی سطح پر اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے، کیونکہ ایک صحافی پر حملہ صرف اس پر نہیں بلکہ پورے میڈیا پر حملہ ہے۔
انہوں نےمزید کہا،’عوام کی خاموشی حکام کو دوسروں کو نشانہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کوئی بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائے گا۔’
پہلے بھی صحافیوں کو پولیس کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے
واضح ہو کہ حال ہی میں 17 دسمبر 2025 کو پولیس نے جموں و کشمیر میں دی وائر کےنمائندے جہانگیر علی کا فون بغیر کوئی وجہ بتائے ضبط کر لیا تھا۔ انہیں اپنی ڈیوائس کی ہیش ویلیو کے بارے میں بھی نہیں بتایا گیا تھااور نہ ہی اس واقعے کے سلسلے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
دی وائر کی جانب سےاس خبرکو عام کرنے اور مدیران کی جانب سے اس غیر قانونی ضبطی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بیان جاری کرنے کے بعدصحافی کو ان کا فون واپس کیا گیا۔
اسی طرح، نومبر 2025 میں، ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (جموں و کشمیر پولیس کی ایک شاخ) نے جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا اور آلات اور دستاویز کو ضبط کر لیا تھا۔
معلوم ہو کہ کشمیر ٹائمز کے دفتر پر ایس آئی اے کی جانب سے ‘ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے’، ‘بے اطمینانی پھیلانے’ اور ‘علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دینے’ کے الزامات کے تحت درج ایک مقدمے کے سلسلے میں چھاپہ مارا گیا تھا۔
تاہم اخبار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں آزاد میڈیا کو دھمکانے کی کوشش قرار دیا تھا۔
کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین نے اس وقت دی وائر کو بتایا تھا، ‘اس طرح کی چھاپے ماری ، اس طرح کی کہانیاں گھڑنا، یہ صرف ہمیں بدنام کرنے کی ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ہم بولنے کی ہمت کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر میں تمام آوازوں کو منظم طریقے سے خاموش کر دیا گیا ہے اور آپ کسی سے بھی سوال کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔’
میڈیا تنظیموں نے ایسے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ گرفتاریاں، چھاپے اور سمن خطے میں خوف اور سیلف سنسر شپ کے ماحول کو گہرا کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے کشمیر ٹائمز پر چھاپے کو ‘جموں و کشمیر میں ہندوستانی حکام کی طرف سے آزادی صحافت پر مسلسل جبر’ کا حصہ قرار دیا تھا۔
مئی 2025 میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، جموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں مقیم سینئر صحافی ہلال میر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے سلسلے میں سمن بھیج کر حراست میں لیا تھا ۔
پولیس نے ان کی آن لائن سرگرمی کوہندوستام کے خلاف بے اطمینانی اور علیحدگی پسند نظریہ کو فروغ دینے والا بتایا تھا اور ان کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی ضبط کر لیا تھا۔
اس معاملے پر7 مئی 2025 کو جموں و کشمیر پولیس کی سی آئی کے برانچ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں قائم انادولو نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کرنے والے میر کو سوشل میڈیا کے ذریعے ‘کشمیریوں کو منظم نسل کشی کے شکار کے طور پر پیش کرکے نوجوانوں میں جذبات بھڑکانے اور علیحدگی پسندانہ جذبات اکسانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
سال2019 کے بعد کشمیر میڈیا کے سخت کنٹرول کا مرکز بن گیا
تاہم، جب ایسے واقعات ہوتے ہیں، تو کشمیری صحافیوں کا 2019 کے واقعات کا یاد آنا فطری ہے۔ اگست 2019 سے، جب نریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا اور وسیع مواصلاتی پابندیاں عائد کیں، تب سے میڈیا پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
مہینوں تک وادی کے صحافی آزادانہ طور پر رپورٹنگ کرنے سے قاصر رہے کیونکہ موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند رہے، نقل و حرکت پر پابندی تھی، اور معلومات تک رسائی کو سختی سے کنٹرول کیا گیا تھا۔
آزادی صحافت کی تنظیموں نے بعد میں کہا کہ 2019 کے بعد کا دور ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس میں کشمیر نگرانی، پولیس پوچھ گچھ اور قانونی دھمکیوں کے ذریعے میڈیا پر سخت کنٹرول کا مرکز بن گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اس طرح کی تفتیش تیزی سے عام ہو گئی ہیں۔ 2019 کے بعد سے جس پیٹرن کا مشاہدہ کیا گیا ہے، وہ الگ تھلگ واقعات کے بجائے پریس پر ریاستی کنٹرول کے مسلسل سخت ہونے کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کے باعث تنقیدی صحافت کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹرز سانز فرنٹیئرز نے بھی اس پر توجہ مرکوز کی۔ 2019 سےآزادی صحافت کی نگرانی کرنے والی تنظیموں نے جموں و کشمیر کو صحافیوں کے لیے ہندوستان کے سب سے زیادہ پابندی والے ماحول میں سے ایک قرار دیا ہے۔ آرٹیکل 370 کو منسوخ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں کم از کم 20 صحافیوں کو ان کی رپورٹنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، اور کئی دیگر کو قانونی کارروائی یا طویل پولیس تحقیقات کا سامنا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بھی صحافیوں کے خلاف پولیس کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘قابل مذمت’ قرار دیا۔
صحافیوں کو معمول کی خبروں کے لیے طلب کیے جانے کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لون نے سوال کیا کہ جب صحافی’حقائق پر مبنی خبر’ کر رہے ہیں تو پولیس کو مداخلت کیوں کرنی چاہیے؟ اس اقدام کو’ایک نیو لو’ قرار دیتے ہوئے، ان کے تبصرے جموں و کشمیر میں صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے اور آزاد رپورٹنگ کے لیے محدود ہوتے دائرے کے بارے میں وادی میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔
سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور کولگام کے ایم ایل اے ایم وائی تاریگامی نے بھی اس واقعے کو ‘صحافیوں کو دھمکانے کی ایک نئی کوشش’ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ‘یہ کشمیر میں صحافیوں کے لیے ایک شیطانی دائرہ ہے، جس میں بار بار سمن، ادارہ جاتی دباؤ اور کمیونٹی سیفٹی نیٹس کا فقدان ایک ایسے نظام کا حصہ بن گیا ہے جو تنقیدی رپورٹنگ کو محدود کرتا ہے، سیلف سنسرشپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور خطے میں آزاد میڈیا کی آوازوں کو حاشیے پر دھکیلتا ہے۔’
وہیں، کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید ناصر حسین نے بھی کشمیری صحافیوں کو جاری سمن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں روٹین کی رپورٹنگ کے لیے قومی اخبارات کے صحافیوں کو طلب کیا جانا اور ان سے پوچھ گچھ کی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرہ اس وقت تک کام نہیں کر سکتا جب تک کہ سوال پوچھنے جیسے بنیادی کام کو بغاوت سمجھا جائے۔
سید ناصر حسین نے کہا کہ کشمیری صحافی برسوں سے ایسے حالات میں کام کر رہے ہیں، جو ان کی پیشہ ورانہ ایمانداری اور سلامتی دونوں کاامتحان لیتے ہیں۔ بار بار طلبی، پابندیاں اور انتظامی دباؤ اس ماحول کا حصہ بن چکے ہیں، جس میں ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا، ‘ہم جموں و کشمیر کے عوام اوراس خطے کے صحافیوں اور آزاد میڈیا کے گہرے دکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو اس ماحول کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔
