Freedom Of Press

جموں و کشمیر پولیس نے سرینگر میں ایک اور مؤقر قومی اخبار کے صحافی کو طلب کیا

جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

 جموں و کشمیر: پولیس نے قومی اخبار کے صحافیوں کو ’سمن‘ کیا، ایک سے بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا

جموں و کشمیر پولیس نے انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو ان کی خبروں کے سلسلے میں ‘طلب’ کیا۔ مسعود کو ان کی مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں  نے انکار کر دیا۔

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ، مدیران نے کہا – آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے)  نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری  کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے  کی کوشش قرار دیا ہے۔

ایمرجنسی  نے آئین کا قتل کیا تھا یا پچھلے 11 سال نے؟

پچیس جون کو ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر ‘سمودھان ہتیا دِیوَس’ مناتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 1975 میں جمہوریت کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تاہم، مودی حکومت کے گزشتہ گیارہ سال کے بارے میں بھی یہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے حوالے سےسینئر صحافی ونود شرما اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ میناکشی تیواری کا تبادلہ خیال۔

کلکتہ کا کولاژ بنانے والے رضوان اللہ ہمارے درمیان نہیں رہے…

رضوان اللہ کے اوراق مصور میں کلکتہ بھی ہے اور دلی بھی— اس سے ہمیں کلکتہ کے کل، آج اور کل کے بارے میں بہت سی معلومات ملتی ہیں اور دلی کے دل کا حال معلوم ہوتا ہے۔’اوراق مصور‘ کلکتہ کا کولاژ ہے اور اس میں شبدوں سے جو چترکاری کی گئی ہے، وہ تصویریں انتہائی حسین ہیں … اس میں فکر، معانی اور لفظیات کا حسن سمٹ آیا ہے۔

پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37 ممالک کے سربراہوں کی فہرست میں نریندر مودی کا نام شامل: رپورٹ

رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس نے پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37ممالک کے سربراہوں یاقائدکی فہرست جاری کی ہے، جس میں شمالی کوریا کے کم جونگ ان اور پاکستان کے عمران خان کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کا نام شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سب وہ ہیں جو ‘سینسرشپ کا میکانزم بناکر پریس کی آزادی کو روندتے ہیں،صحافیوں کو من مانے ڈھنگ سے جیل میں ڈالتے ہیں یا ان کے خلاف تشددکو ہوا دیتے ہیں۔

ایمرجنسی کے سیاہ دن بنام اچھے دن …

جمہوریت کو اپنےٹھینگے پر رکھے گھوم رہے لٹھیتوں کے اس دور میں46 سال پہلے کی ایمرجنسی کے 633 دنوں پر خوب ہائےتوبہ مچائیے،مگر پچھلے 2555 دنوں سے بھارت ماتا کی چھاتی پر چلائی جا رہی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی چکی کے پاٹوں کونظرانداز مت کریے۔

سرکار کی ڈیجیٹل میڈیا کے لیے نئی ایف ڈی آئی پالیسی کے بعد ہف پوسٹ نے ہندوستان میں کام بند کیا

امریکہ واقع ڈیجیٹل میڈیا کمپنی ہف پوسٹ کے ہندوستانی ڈیجیٹل ایڈیشن ہف پوسٹ انڈیا نے چھ سال کے بعد منگل کو ہندوستان میں اپنا کام بند کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان میں کام کر رہے 12صحافیوں کی نوکری بھی چلی گئی۔

اداریہ: دی وائر کے پانچ سال

پانچ سال پہلے ہم نے کہا تھا کہ ہم نئے طریقے سے ایسے میڈیا کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں جو صحافیوں، قارئین اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کوشش ہو۔ ہم اپنے اس اصول پرقائم ہیں اور یہی آگے بڑھنے میں ہماری مدد کرےگا۔

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

چھتیس گڑھ: سپریم کورٹ نے سیکس سی ڈی معاملے میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے خلاف شنوائی پر روک لگائی

چھتیس گڑھ کےپبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کےسابق وزیر راجیش مونت کے خلاف مبینہ طور پر ایک فرضی سیکس سی ڈی وائرل کرنے کے معاملے میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، سابق صحافی ونود ورما اور تین دوسرے ملزم ہیں۔

جب صحافی سسٹم کی زبان بولنے لگے…

حکومت کی مداخلت یا انتظامیہ کے دباؤ کا الزام لگانا ایک کمزور بہانہ ہے-میڈیا پیشہ وروں نے خود ہی خود کو اپنے اصولوں سے دور کر لیا ہے۔ وہ بےآواز کو آواز دینے یا حکمراں طبقے سے جوابدہی کی مانگ کرنے والے کے طور پر اپنے کردارکو نہیں دیکھتے ہیں۔ اگر وہ خود سسٹم کا حصہ بن جائیں‌گے، تو وہ ان سے سوال کیسے پوچھیں‌گے؟

رویش کا بلاگ: انوپم کھیر کو صحیح غلط کم ہندو اور مسلمان زیادہ دکھتا ہے

انوپم کھیر جیسے کچھ فنکار تختی لےکر میڈیا کو مدعا دیتے ہیں۔ ان کی تصویر اسکرین پر دکھاکر گھر بیٹھے لوگوں کے ذہن میں زہر بھرا جاتا ہے۔ اس عمل میں مسلمان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے جن کے ذہن میں یہ کچرا بھرا جاتا ہے ان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جا چکا ہوتا ہے۔ اس لئے وسیع ہندو مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تمام نیوز چینل دیکھنا بند کر دیں۔ کیونکہ چینلوں میں مذہب کے نام پر ہندوؤں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

اردو صحافت: بندگلی سےآگے …

اخبارات کے کالم نگاروں کا موازنہ آپ نیوز چینلوں کے اینکرز سے کر سکتے ہیں کہ چینلوں کی تعداد جس رفتار سے بڑھی ہے، اچھے اینکرز کی اہمیت و مقبولیت بڑھتی گئی ہے لیکن جس طرح چینلوں پربہت سے بھانڈ اورمسخرے میڈیا کی رسوائی کا سامان کرتے ہیں، ہمارے درمیان بھی قلم کی روشنائی سے اپنی روسیاہی کاسامان کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔

رویش کا بلاگ: نیوزچینل صرف مودی کے لیے راستہ بنا رہے ہیں،ڈھائی مہینے کے لیے چینل دیکھنا بند کر دیجیے

کیا آپ پبلک کے طور پر ان چینلوں میں پبلک کو دیکھ پاتے ہیں؟ ان چینلوں نے آپ پبلک کو ہٹا دیا ہے۔ کچل دیا ہے۔ پبلک کے سوال نہیں ہیں۔ چینلوں کے سوال پبلک کے سوال بنائے جا رہے ہیں۔

ویڈیو: اس اُردو اخبار کی کہانی ،جس میں جلیبی لپیٹ کر بھگت سنگھ کو پیغام دیا گیا تھا

ویڈیو: جنگ آزادی میں روزنامہ ملاپ کی خدمات ،فکر تونسوی کا کالم پیاز کے چھلکے،اردو رسم الخط میں ہندی کا استعمال اور اردو صحافت کے مستقبل پر ملاپ کے مدیر نوین سوری سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

میں نے ایمرجنسی تو نہیں دیکھی ،لیکن …

ایک بات جو موجودہ حالات کو ایمرجنسی سے بھی زیادہ سنگین بناتی ہے وہ یہ کہ آج ملک کو تانا شاہی کے ساتھ ساتھ فسطائیت کا بھی سامنا ہے۔ فرقہ پرستی اپنے عروج پر ہے۔ مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد عام ہو گیا ہے۔ اس کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہے۔ مظلوم کو انصاف کی جگہ ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کیا اقتدار کے سامنے ہندوستانی میڈیا رینگنے لگا ہے؟

مدیران کا کام اقتدار کے لحاظ سےمواد کو بنائے رکھنے کا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ اقتدار کے موافق تشہیر کی ایک ہوڑ مچی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ حالات یہ بھی ہو چلے ہیں کہ اشتہار سے زیادہ تعریف نیوز رپورٹ میں دکھائی دے جاتی ہے۔

کیا ایمرجنسی کو دوہرانے کا خطرہ اب بھی بنا ہوا ہے؟

ایمرجنسی کوئی ناگہانی واقعہ نہیں بلکہ اقتدار کی بےانتہا مرکزیت، جابرانہ رویہ ، شخصیت پرستی اور چاپلوسی کے بڑھتے رجحان کا ہی نتیجہ تھا۔ آج پھر ویسا ہی نظارہ دکھ رہا ہے۔ سارے اہم فیصلے پارلیامانی کمیٹی تو کیا، مرکزی کابینہ کاؤنسل کی بھی عام رائے سے نہیں کئے جاتے، صرف اور صرف پی ایم او اور وزیر اعظم کی چلتی ہے۔

کوبرا پوسٹ کا انکشاف،ٹائمس آف انڈیا ،انڈیا ٹو ڈے، ہندوستان ٹائمس،زی نیوز،وغیرہ پیڈ نیوز چھاپنے کے لئے تیار

کوبرا پوسٹ کے دوسرے حصے کو آج پریس کلب آف انڈیا میں جاری کیا جانا تھا۔ لیکن اس اسٹنگ آپریشن میں شامل میڈیاگروپ دینک بھاسکرنے دہلی ہائی کورٹ کی پناہ لے لی۔

میڈیا بول: ظالم ہوتی جمہوریت اور محدود ہوتی پریس کی آزادی

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے متنازعہ علاقوں میں ماؤوادیوں کا قتل اور پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان کے مقام میں آئی گراوٹ پر وکیل اور ہیومن رائٹس کارکن سدھا بھاردواج اور نیوز لانڈری کی کنسلٹنگ ایڈیٹر براج سوین کے ساتھ ارملیش کی بات چیت

عرب نامہ : پریس کی آزادی اور مصر کا صدارتی الیکشن

عرب نامہ : ٹائمز کی صحافی سینٹرل قاہر ہ میں ایک انٹرویو کرنے جارہی تھی اسی وقت پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ تقریباً 24 گھنٹے حراست میں رکھا گیا اور اس کے بعد لندن جانے والی پرواز میں انہیں بٹھادیا گیا۔ برطانوی رپورٹر کی ملک بدری کے واقعہ کو […]

پاکستان : نیوز چینلز کے بندش سے فائدہ ہوا یا نقصان؟

پاکستان میں ایک روزہ بندش کے بعد تمام نجی نیوز چینلز کی نشریات کو بحال کر دیا گیا ہے لیکن نشریات کی بحالی کے حکم نامے کے ساتھ ہی پیمرا کی طرف سے تمام نیوز چینلز کو نئی گائیڈ لائنز بھی جاری کی گئی ہیں۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا […]