خاص خبر

مارک ٹلی: ملک و قوم کا نبض شناس چلا گیا …

وفاتیہ: جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔ الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جو اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مارک ٹلی کی رپورٹس آپ پر حملہ نہیں کرتی تھیں۔ وہ نتیجوں سے شروع نہیں کرتے تھے۔ وہ لوگوں سے شروع کرتے تھے۔(تصویر بہ شکریہ: وکی/چتھم ہاؤس)

بعض صحافی ایسے ہوتے ہیں جو واقعات کودرج کرتے ہیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو نسلوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ مارک ٹلی بلاشبہ مؤخرالذکر صحافی تھے۔

جب یہ  روح فرسا خبرموصول ہوئی کہ سر مارک ٹلی نوے سال کی عمر میں وفات پاگئے، تو یہ کسی فرد کے ہمارے درمیان  سے رخصت ہوجانے  کے ملال سے زیادہ ایک آواز کے خاموش ہو جانے کا احساس تھا۔سنجیدہ، ٹھہری ہوئی، آہستہ آہستہ ٹٹولتی ہوئی آواز ،جو کسی وقت بی بی سی ہندی سروس سے نشر ہوتی تھی اور بے شمارہندوستانی گھروں تک پہنچی تھی، میرے گھر تک بھی۔ جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم  و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جواپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔

ان کی موت صحافت کے ایک لہجے کا خاتمہ ہے۔ صرف برطانوی لہجے کانہیں بلکہ اخلاقی لہجے کا بھی ۔

آواز

میں نے انہیں پہلی باراخبار میں نہیں، آواز میں پایا۔ اس وقت یہ ایک رسم جیسی بات تھی۔ شام ڈھل رہی تھی۔ ریڈیو ٹھیک سے ٹیون کیا گیا۔ ایک مانوس دھن، اور پھر وہ آواز۔ پرسکون، قدرے اجنبی اور پھر بھی انتہائی مانوس۔ ان دنوں، جب بریکنگ نیوز کی دہشت نہیں تھی اور ٹی وی کےمباحثےابھی تماشا نہیں بنےتھے، خبر ایک کتھا اور کہانی کی طرح سنائی پڑتی تھی۔ مارک ٹلی کی رپورٹس آپ پر حملہ نہیں کرتی تھیں۔ وہ نتیجوں سے شروع نہیں کرتے تھے۔وہ  لوگوں سے شروع کرتے تھے۔

آج جب میڈیا فیصلے کا بھوکا ہے، تب  انہوں نے بیان اورتفصیلات پر توجہ مرکوز کی۔ واقعات کو زبان میں دھیرے دھیرے کھلنے دیا اور سننے والے پر بھروسہ کیا کہ وہ خود معنی تک رسائی حاصل کرلیں گے۔ یہ ان کا پہلا سبق تھا کہ صحافت قائل کرنے کا فن نہیں، بلکہ ارتکاز اوریکسوئی  کا تقاضہ ہے۔

سن1935میں کلکتہ میں پیدا ہوئے، ہندوستان اور پھر انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی، مارک ٹلی اپنے ساتھ نوآبادیاتی بچپن کی پیچیدہ میراث اور نوآبادیاتی تجسس کے ساتھ آئے۔ساٹھ کی دہائی میں ایک نوجوان نامہ نگار کے طور پر ہندوستان واپس آئے اور یہیں  رہ گئے۔عارضی مہمان کی طرح نہیں بلکہ ایک ایسے گواہ کی طرح جو ملک کے ساتھ چلتا ہے۔

تین دہائیوں تک دہلی میں اور بیس سال سے زیادہ عرصے تک بی بی سی کے بیورو چیف کے طور پر انہوں نے وہ کام کیا، جو بہت کم غیر ملکی صحافی کر پائے۔ انہوں نے غیر ملکی بنے رہنے سے انکار کر دیا۔ یہ انکار نظریاتی نہیں تھا، اخلاقی تھا۔

انہوں نے ہندی سیکھی۔ صرف انٹرویو لینے کے لیے نہیں، بلکہ خاموشیوں میں رہنے کے لیے۔ وہ مہانگروں سے باہر گئے۔ قصبوں، دیہاتوں، تھانوں، عدالتوں، دکھوں اور انتظار گاہوں تک۔ انہوں نے سنا۔ انہوں نے انتظار کیا۔ انہوں نے دھیرے لکھا۔ گراؤنڈ رپورٹنگ کےنعرہ بننے سے بہت پہلے، مارک ٹلی اسے اخلاقی جبلت کی طرح جیتے تھے۔

بی بی سی

بی بی سی میں ان کا  زمانہ جدید ہندوستان کی فیصلہ کن دہائیوں پر محیط  تھا۔ 1971 کی جنگ، ایمرجنسی، بھوپال، آپریشن بلیو اسٹار، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل، بابری مسجد کا انہدام اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے طویل سائے۔ تاریخ اور رپورٹنگ کے سنگم پر وہ استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔

لیکن جس چیز نے ان کی صحافت کو ممتاز کیا، وہ ان کا مزاج تھا۔ وہ سادہ اخلاقی اصولوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ وہ عظیم اصولوں کی کشش سےگریز کرتے تھے۔ جہاں دوسرے ولن اور ہیرو تلاش کرتے تھے، وہ ساخت اور اسٹرکچرتلاش کرتے تھے، عادتیں، تاریخ، اقتدار کا عام زندگی پر دھیمااثر۔

ان کا تعلق اس نسل سے تھا، جن کا عقیدہ تھا کہ صحافی کا بنیادی فرض دلچسپ ہونا نہیں، بلکہ درست ہونا ہے۔ اس نیوز روم میں تیزی اور عجلت  لاپرواہی کا بہانہ نہیں تھی اور اقتدار سے قربت جی حضوری کا لائسنس نہیں ۔

شکوک و شبہات کا درس دینے والے معلم

نوجوانی میں انہیں سنتے ہوئے میں نے وہ سیکھا جو کوئی درسی کتاب نہیں سکھا سکتی تھی۔ وہ آواز بلند نہیں کرتے تھے۔ سادہ بیانی سے گریز کرتے تھے۔ تضاد کو رہنے دیتے تھے۔ رائے بنا لینے کی لت کے اس دور میں انہوں  نے بیان کرنے کے فن  کو اہمیت دی۔

ان کے اندر پرانے وقتوں کی کشادہ ظرفی تھی۔ اقتدار پر شکوک و شبہات ۔ نعروں سے ہوشیار۔ جنون اور پاگل پن سے الرجک۔ اور اس کے ساتھ ہی بے پناہ ہمدردی۔ شایداس شخص کی جو دو ثقافتوں کے درمیان رہتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حاشیے کی جانب رخ کرتے تھے۔ قرض اوروقار کے درمیان پھنسے کسان۔ خوف اور عقیدے کے درمیان پھنسی اقلیت۔ عمل اور تدبر کے درمیان پھنسے افسران ۔ وہ مبلغ نہیں تھے۔  وہ نتیجوں کی فکر کرنے والے صحافی تھے۔

ہندوستان جیسا انہوں نے دیکھا

مارک ٹلی کے لیے ہندوستان صرف ایک پوسٹنگ نہیں تھا۔ یہ ان کا اپنایا ہوا گھر تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ دہلی میں ہی رہے۔ ملک  کی دھڑکنوں میں بسے رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان کی طاقت اس کے عظیم نظریات میں نہیں بلکہ اس کی سخت جاں تنوع میں ہے۔ اختلاف رائے کو ساتھ رکھنے کی قوت میں ہے۔

وہ ہندوستانی جمہوریت کو اس کی کارکردگی یا استعداد کارکے لیے نہیں بلکہ اس کی رواداری کے لیے پسند کرتے تھے۔ اور رفتہ رفتہ اس کے کمزور ہونے سے وہ فکرمند تھے کیونکہ انہوں نے دیکھا تھا کہ جب زبان سخت ہو جاتی ہے اور اقتدار  بے لگام ، تو ادارے کتنے نازک ہو جاتے ہیں۔

انڈیا ان سلو موشن میں انہوں نے سب سے موزوں استعارہ دیا۔ ایک ایسا ملک جو ٹیڑھامیڑھا چلتاہے۔کبھی پیچھے۔ کبھی اِدھر کبھی اُدھر۔ لیکن اندر سے آگے بڑھتا ہوا۔ ترقی، جیسےسچائی ، اکثر ڈرامائی نہیں ہوتی۔ وہ جمع ہوتی  ہے۔

ایک خاموش وراثت

آج کے قارئین کے لیےسمجھنا دشوار ہے کہ اس قسم کی صحافت کیسی لگتی تھی۔ آج، رفتار  خوبی ہے، اور پیچیدگی پریشانی ۔ ٹلی کے زمانے میں صبر و تحمل ایک پیشہ ورانہ قدر تھا۔ اور اسی لیے وہ دلچسپ تھے۔ کیونکہ وہ دلچسپ ہونے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔

ان کی کتابیں،نو فل اسٹاپ ان انڈیا،انڈیا ان سلوموشن اوردی ہرٹ آف انڈیا ان کی آواز کی توسیع تھیں۔ نائٹ ہڈ اور پدم بھوشن جیسے اعزازات کے باوجود وہ اقتدار سے خوش نہیں رہے۔

اختتام نہیں،  ایک معیار

میرے لیے ان کی سب سے بڑی وراثت کوئی رپورٹ نہیں، ایک  عادت ہے۔ توجہ کی عادت۔ بولنے سے پہلے سننا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے مشاہدہ کرنا۔ نتیجہ سے پہلے توقف۔ ایک ایسے وقت میں جب صحافت ایک ڈرامہ بنتی جا رہی ہے، مارک ٹلی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ کبھی عوامی خدمت تھی۔ ان کی آواز کی یاد میں ایک خاموشی ہے جو اب نایاب ہے۔

ان کی موت ہندوستانی صحافت کے ایک باب کا خاتمہ ہے، جب غیر ملکی نامہ نگار اپنے زمانے کا گواہ ہوتا تھا۔ ہم لکھتے رہیں گے، شاید تیز، شاید بلندو بانگ، شاید کبھی تلخ۔ لیکن کبھی کبھی ٹھہر کر  یاد کرنا ضروری ہے ایک ایسے شخص کوجو دھیرے لکھتا  تھا، دھیرے  بولتا  تھا اور گہرائی سے سمجھتا  تھا۔

مارک ٹلی چلے گئے۔ لیکن جو اسلوب وہ چھوڑ گئے—صبر وتحمل، ہمدردی اور توجہ—وہ اب بھی ہم سب کے لیے ایک کسوٹی ہے۔ شاید یہی سب سےسچی خراج تحسین ہے۔ حصولیابیوں کی فہرست نہیں بلکہ سننے کی یاد۔

(آشوتوش کمار ٹھاکر مینجمنٹ پروفیشنل ہیں اور ادب اور آرٹ پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔)