حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستان نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔
انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
اگر ہم نے پہاڑوں کے ماحولیاتی نظام کو میدانی علاقوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ کیا، تو پگھلتے ہوئے گلیشیربہت جلد ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی غرور، ان کی معیشتوں اور ان کی نام نہاد سرحدوں کو اپنے سیلابوں میں بہا کر لے جائیں گے۔
’جموں و کشمیر: آگے کا راستہ‘کے موضوع پر منعقد ایک ویبینار میں شرکاء کے درمیان ترجیحات اور حکمتِ عملی پر اختلافات تھے، لیکن اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ تصادم کے بجائے صرف اور صرف مکالمہ ہی کشمیر اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کا واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
پاکستانی زیر انتظام کشمیر اگر واقعی اپنے آپ کو کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے دروازے تنگ کرنے کے بجائے کشادہ کرنے ہوں گے۔لاکھوں مہاجر کشمیریوں کو سیاسی نظام سے باہر دھکیلنا نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی اس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل حل ہوں گے۔
ہند رجب فاؤنڈیشن نے ہندوستانی حکومت سے ہماچل پردیش میں چھٹی منا رہے اسرائیلی شہری ایتان گلبوع کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گلبوع اسرائیلی فوج میں ایک ریزرو فوجی ہے اور فلسطین میں رہائشی عمارتوں پر بمباری اور بڑے پیمانے پرانہیں گرانے کے واقعات میں براہ راست ملوث رہا ہے۔ ان کے یہ افعال جنیوا کنونشن ایکٹ 1960 کے تحت ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے ۔کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی۔ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی دفن کرسکتے ہیں، تو ہندوستان اور پاکستان بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے حل کی طرف گامزن ہوکر کیوں امن کی راہیں تلاش نہیں کرسکتے؟
یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی نے ایک نوٹس میں گیس سپلائی کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے میس کا نظام متاثر ہوا ہے اور مینو میں کمی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال مرکزی حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے، جس میں ملک میں ایل پی جی کی وافر دستیابی کی بات کہی گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنوبی ایشیا میں باہمی تجارت دنیا کے دیگر خطوں کےمقابلے انتہائی کم ہے۔ یورپی یونین اور آسیان نے جغرافیائی قربت کومعاشی طاقت میں تبدیل کیا، مگر یہاں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
انقلابی شاعر پاش کو 23 مارچ 1988 کو خالصتانی دہشت گردوں نے محض 37 سال کی عمر میں قتل کر دیا۔ عجب اتفاق ہے کہ ان کی شہادت ان کے نظریاتی ہیرو شہید بھگت سنگھ کی برسی کے دن ہوئی۔
وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا میں 92 آمریت والے ممالک اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹو کریسی بنا ہوا ہے، اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ پچھلے سال یہ 100 ویں مقام پر تھا۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔
اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔
محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔
دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔
سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستان نے جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ پر ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی۔ ہفتہ بھر پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے بورڈ میں شامل ہونے کی امریکہ کی پیشکش کو زیر غور قرار دیا تھا۔ نئی دہلی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صرف آبزرور رہے گا یا مستقبل میں بورڈ کی مکمل رکنیت بھی اختیار کرے گا۔
مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں (1964-94) کی صحافت کے دوران بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جس کی کوریج نہ کی ہو۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ بنائی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔
وفاتیہ: جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔ الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جو اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔
’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’
وشو ہندو پریشد نے ’سانسکرتک سجگتا‘ یعنی’ثقافتی بیداری‘ کے نام پر ہندوؤں سے کرسمس نہ منانے کی اپیل کی ہے۔ قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی آزادی اور آئین کی تمہید میں درج بھائی چارے کے اصولوں کے خلاف ہے۔
مشہور زمانہ مصنف سلمان رشدی نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی، مسلمانوں کی امیج کو نشانہ بنائے جانے اور صحافیوں – مصنفین پر دباؤ کے حوالے سےتشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کئی دہائیوں قبل ان خطرات کے آثار دیکھ لیے تھے، جن کی تصدیق اب ہو رہی ہے۔
مودی حکومت نے نئے موبائل فون میں سنچار ساتھی ایپ کو لازمی قرار دیا ہے، جسے صارفین ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔ ماہرین اور شہریوں نے اسے پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ سائبر سکیورٹی کی بات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ چند سالوں میں کو-ون، آئی سی ایم آر اور دیگر سرکاری ویب سائٹ یا پلیٹ فارم سے ہندوستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔
مرکزی وزیر مواصلات جیوترادتیہ سندھیا نے سنچار ساتھی ایپ کو اختیاری بتایا ہے، لیکن سرکاری ہدایات کے مطابق، یہ تمام نئے موبائل فون میں پری-انسٹال اور ان -ڈیلیٹ- ایبل ہے۔
سرکارنے تمام نئے اسمارٹ فون میں ان-انسٹال نہ کیے جا سکنے والے’سنچار ساتھی’ ایپ کولازمی طور پر پری-انسٹال کرنے کی ہدایت دی ہے، جس نےپرائیویسی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین اور اپوزیشن نے اسے شہریوں پر نظر رکھنے کا حربہ بتایا ہے اور اس کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ ‘سنچار ساتھی ایپ لازمی نہیں ہے، اسے ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔’
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔
طالبان مقتدرہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی ہندوستان کے آٹھ روزہ دورے پر ہیں۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ طالبان کا ہندوستان کا اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری اور سلامتی کے مفادات کو آگے بڑھانے کا صحیح وقت ہے۔
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کو آئین کی توہین قرار دیا اور آر ایس ایس کا موازنہ اسرائیل کے صیہونیوں سے کیا۔ سنگھ کی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں نے اسے تفرقہ انگیز، رجعت پسند اور تحریک آزادی کی مخالفت کرنے والی تنظیم قرار دیا ہے۔
افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔
اگر ماؤنوازہتھیار ڈال دیتے ہیں، تو ان کے مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ کیا وہ کسی ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہو جائیں گے، جنہیں وہ اب تک رجعت پسند اور بورژوا کہتے رہے ہیں، یا اپنی نئی پارٹی بنائیں گے؟
سشیلا کارکی کی مدت کار مختصر ہے، لیکن ان کا اثر دیرپا ہو سکتا ہے۔ اگر وہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں ،تو یہ پورے نیپال کی جیت ہوگی۔ کیا ان کا دور اقتدار یہ ثابت کر پائے گا کہ ادھورے انقلابات کے اس طویل سفر میں امید کی لو اب بھی جل رہی ہے؟