خاص خبر

آر ٹی آئی میں انکشاف – وزارت داخلہ کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں

وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی رہنما اسمبلی انتخابات سے قبل ’دراندازوں‘ کو نکالنے کے دعوے کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں آسام میں امت شاہ نے’64 لاکھ دراندازوں‘ کے قبضے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ اس بارے میں وزارت داخلہ کا جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت نے کہا ہے کہ اس کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

وزارت داخلہ کے پاس کوئی ڈیٹا نہ ہونے کا جواب ایسے وقت میں آیا ہے، جب وزیر داخلہ نہ صرف آسام بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بار بار ’دراندازوں‘ کی بڑی تعداد کا تذکرہ کرتے آ رہے ہیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی / السٹریشن :پری پلب چکرورتی / دی وائر)

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ لگاتارانتخابی جلسوں میں ملک میں ’دراندازوں‘ کی تعداد کے بارے میں بڑے دعوے کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں آسام میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے سات اضلاع— دھبری، بارپیٹا، درانگ، موریگاؤں، بونگائی گاؤں،نگاؤں اور گوآلپاڑا— ’64 لاکھ دراندازوں کے قبضے میں‘ ہیں۔ شاہ نے اس کے لیے کانگریس کے 20 سالہ دوراقتدار کو ذمہ دار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا کہ صرف بی جے پی ہی اس مبینہ دراندازی کو روک سکتی ہے۔

تاہم، وزارت داخلہ سے آرٹی آئی کے تحت مانگی گئی جانکاری اس دعوے پر گمبھیر سوال کھڑے کرتی ہے۔

آر ٹی آئی ایکٹوسٹ کنہیا کمار کی جانب سے دی وائرکو دستیاب کرائی گئی آر ٹی آئی درخواست اور اس کے جواب کے مطابق، وزارت داخلہ سے گزشتہ دس برسوں (یا دستیاب قدیم ترین مدت) کے دوران ملک بھر میں شناخت کیے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر/واپس بھیجے گئے دراندازوں کی جانکاری مانگی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ،دراندازوں کی قومیت کی بنیاد پر بھی تفصیلات  مانگی گئی تھیں۔

آرٹی آئی درخواست۔

گزشتہ23جنوری 2026 کو دیے گئے اپنے جواب میں وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ اس کے پاس ملک میں دراندازوں کی شناخت، گرفتاری یا ملک بدری سے متعلق کوئی ڈیٹا مرکزی سطح پر دستیاب نہیں ہے۔

وزارت نے  جواب دیتے ہوئے لکھا؛

غیر قانونی غیر ملکی شہریوں/غیر قانونی مہاجرین کا پتہ لگانے، ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنے اور انہیں ملک سے باہربھیجنے کے اختیارات ’امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ، 2025‘ کی دفعات 7، 13 اور 29 کی ذیلی دفعہ (2)  کے تحت تمام ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو سونپ دیے گئے ہیں۔

یعنی وزارت نے تسلیم کیا کہ اس طرح کا کوئی ڈیٹا مرکز کے پاس نہیں ہےاور وہ یہ بتانے سے قاصر رہی کہ ہندوستان میں کتنے درانداز گرفتار کیے گئے، کتنے کو ملک سے باہر بھیجا گیا اور وہ کس ملک کے شہری تھے۔

آرٹی آئی کا جواب۔

یہ جواب ایسے وقت میں آیا ہے، جب امت شاہ نہ صرف آسام، بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بار بار ’دراندازوں‘ کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ 10 اکتوبر 2025 کو دینک جاگرن کے زیر اہتمام منعقد ’نریندر موہن اسمرتی ویاکھیان‘ میں ’دراندازی،آبادیاتی تبدیلی اور جمہوریت‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ نے کہا تھا کہ، ’ہندوستان میں مسلم آبادی میں اضافہ شرح پیدائش کی وجہ سے نہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر دراندازی کے باعث ہوا ہے۔‘

اس سے قبل بھی وہ کئی موقع پر کہہ چکے ہیں کہ غیر قانونی دراندازی ملک کی سلامتی اور آبادیاتی توازن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

لیکن آر ٹی آئی کے جواب سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب وزارت داخلہ کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی سرکاری ڈیٹا ہی دستیاب نہیں ہے، تو پھر انتخابی جلسوں میں لاکھوں دراندازوں کے اعداد و شمار کس بنیاد پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

یہ تضاد نہ صرف سرکاری دعوے پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ’دراندازی‘ جیسے حساس مسئلے کو سیاسی بیان بازی میں کس طرح استعمال کیا جا رہا  ہے۔

بی جے پی کا موقف جاننے کے لیے دی وائر  نے پارٹی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری سے رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ جواب موصول ہونے پر رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

یہ بہت عجیب ہے

وزارت داخلہ کی جانب سے یہ کہے جانے پر کہ اس کے پاس ’دراندازوں‘ کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں، سماجی کارکن اور مصنف ہرش مندر نے اسے ’انتہائی عجیب‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا؛


یہ کہنا کہ وزارت داخلہ اعداد و شمار نہیں رکھتی، بہت عجیب  ہے۔ مثال کے طور پر قتل جیسے جرائم کے اعداد و شمار ریاستیں جمع کرتی ہیں، لیکن انہیں یکجا کر کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو شائع کرتا ہے۔ اگر ریاستوں کے پاس جانکاری ہے تو مرکز انہیں یکجا کر سکتا ہے۔ اس لیے وزارت کی جانب سے دی گئی یہ دلیل ٹھوس نہیں لگتی۔


مندر نے’ گھس پیٹھیا‘ یعنی’درانداز ‘ لفظ کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، ہندوستانی قانون میں ’درانداز‘ کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے۔


ہندوستان نے ریفیوجی کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس لیے ہمارے یہاں قانونی طور پر دو ہی زمرے ہیں— کوئی شخص یا توہندوستانی شہری ہے، یا غیر ملکی۔ غیر ملکیوں میں بھی کوئی درست دستاویزوں کے ساتھ ہو سکتا ہے یا بغیر دستاویزوں کے۔ لیکن بغیر دستاویزں کے غیر ملکی ہونا اور ’درانداز‘ ہونا دو الگ باتیں ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ’درانداز‘ کا لفظ صرف غیر قانونی موجودگی کی نشاندہی نہیں کرتا، بلکہ اس میں بدنیتی یا سازش کے تحت داخل ہونے کا الزام بھی شامل ہو جاتا ہے۔ ’کوئی شخص غربت، تشدد، ظلم یا بھٹک کر بھی سرحد پار آ سکتا ہے۔ لیکن جب آپ اسے ’درانداز‘ کہتے ہیں تو آپ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ وہ کسی خاص مقصد سے ملک میں داخل ہوا ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن ہے۔‘

مندر نے شہریت کے قانون میں 2008 کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام فوجداری قانون میں الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے، لیکن شہریت کے معاملات میں بوجھ فرد پر ڈال دیا گیا ہے۔ ’اب یہ مان لیا جاتا ہے کہ کوئی فردغیر قانونی ہے اور اسے دستاویزوں کی بنیاد پر ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ شہری ہے۔ جبکہ ہندوستان جیسے ملک میں دستاویز کا نظام تاریخی طور پر کمزور رہا ہے— غربت اور ناخواندگی وغیرہ اس کی وجوہات ہیں۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ اگر بغیر دستاویز والے ہر فردکو یکساں طور پر ’درانداز‘ کہا جاتا، تو بھی یہ ایک شدید آئینی بحران ہوتا، لیکن ان کا کہنا  ہے کہ عملی طور پر یہ لفظ ’چند مخصوص کمیونٹی‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


جب حکومت اعداد و شماربھی دستیاب نہیں کراتی اور خاص برادریوں کو ’درانداز‘ کہتی ہے تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ عمل انتظامی نہیں، بلکہ نظریاتی  ہے اوراس کے پس پردہ  فرقہ وارانہ نقطہ نظر کارفرما ہے۔


غور طلب ہے کہ ہرش مندر طویل عرصے سے شہریت، بے دخلی اور اقلیتی حقوق سے متعلق مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہیں آسام کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے قانونی کارروائی کی دھمکی بھی ملی ہے۔

دی وائر سے بات چیت میں مندر نے شہریت کے وسیع مفہوم اور اس کے سیاسی استعمال پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے فلسفی اور ہولوکاسٹ سروائیور  ہننا ارینڈٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا؛


’ہننا ارینڈٹ نے کہا تھا کہ شہریت دراصل ’حقوق رکھنے کا حق‘ہے۔ جب آپ کسی شخص کی شہریت کو مشکوک بنا دیتے ہیں تو آپ اس کے باقی تمام حقوق کو بھی غیر مستحکم کر دیتے ہیں۔‘


ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک خاص برادری اور مخصوص مذہب کے لوگوں کے سروں پر شہریت کے حوالے سے لگاتار ایک تلوار لٹکائی جا رہی ہے۔


’ پچھلے 12 برسوں میں ایک کمیونٹی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی وقت ان کے ’حقوق رکھنے کے حق‘ پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہی اس کا بنیادی مقصد ہے، ایک پوری کمیونٹی کو مستقل خوف کی حالت میں رکھنا۔‘


پھر ملک سے باہر کس کوکیا جا رہا ہے؟

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کئی بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ مبینہ دراندازوں کو واپس بنگلہ دیش بھیجا جا رہا ہے۔ 8 ستمبر 2025 کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ 18 بنگلہ دیشی دراندازوں کو واپس بھیجا گیا ہے اور یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ ریاست میں داخل نہ ہو سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوری کارروائی ’پروٹوکول کے تحت‘ کی جا رہی ہے۔ اس سے چند دن قبل، 3 ستمبر کو 13 مبینہ دراندازوں کو ملک سے باہر کرنے کی بات بھی کہی تھی۔

ان کارروائیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش مندر نے کہا کہ حکومت بغیر ٹھوس قانونی عمل کے لوگوں کو ’درانداز‘ قرار دے کر سرحد پار دھکیل رہی ہے۔

مندر کے مطابق؛


آپ کسی شخص پر یہ الزام لگا دیتے ہیں کہ وہ اس ملک کا شہری نہیں ہے، کہ اس کے کوئی حقوق نہیں ہیں، اور پھر مختصر سی پوچھ گچھ کے بعد اسے بندوق کی نوک پر سرحد پار دھکیل دیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہم آخر کر کیا رہے ہیں؟


انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے بنگلہ دیشی شہری ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہوں، تو بین الاقوامی ضابطہ کے تحت ایک قانونی واپسی (لیگل ریپیٹری ایشن) کا عمل ہوتا ہے، جس میں متعلقہ ملک کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی ہے، پتہ اور اہل خانہ کی تصدیق کی جاتی ہے اور پھر قانونی طریقے سے واپسی عمل میں لائی جاتی ہے۔


لیکن یہاں ایسا نہیں ہو رہا، کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ جن لوگوں کو دھکیلا جا رہا ہے وہ بنگلہ دیشی ہیں ہی نہیں۔


مندر نے اس کا موازنہ امریکہ سے ہندوستان بھیجے جا رہے ہندوستانی شہریوں سے کیا اور کہا کہ وہاں واپسی کا عمل بھلے متنازعہ ہو، مگر وہ ایک تسلیم شدہ قانونی ضابطہ ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں ہو رہی  یہ کارروائی، ان کے الفاظ میں،


یہ ایک طرح کا ماورائے عدالتی عمل ہے—  یعنی عدالتی کارروائی کے بغیر لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دینا۔


انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ کارروائی بغیر دستاویز والے تمام افراد کے ساتھ یکساں طور پر ہو رہی ہوتی، تو بھی یہ ایک شدیدآئینی بحران ہوتا، لیکن اگر اسے کسی خاص کمیونٹی کے خلاف نشانہ بنا کر عمل میں لایا جا رہا ہے تو یہ ’فرقہ وارانہ سیاست‘ کی انتہاہے، ’جسے ہم فاشزم کہہ سکتے ہیں۔‘