سپریم کورٹ نے نوئیڈا واقع دوا ساز کمنی میرین بایوٹیک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر دائرہ اختیار کی پابندی نہ ہوتی تو کمپنی پر اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات عائد کیے جا سکتے تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ 2022 میں ازبیکستان میں 18 بچوں کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار پائے جانے پر کمپنی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی چلایا جانا چاہیے تھا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: Cottonbro/Pexels)
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات (19 فروری) کونوئیڈا واقع دوا ساز کمپنی میرین بایوٹیک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کف سیرپ 2022 میں ازبیکستان میں 18 بچوں کی موت کے لیے ذمہ دار پائےگئے تھے اورکمپنی پر اگر دائرہ اختیار / جورسڈکشن کی پابندی نہ ہوتی تو اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات عائد کیے جا سکتے تھے۔’
عدالت نے یہ بھی کہا کہ کے کمپنی نے ملک کی امیج کو نقصان پہنچایا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی کی بنچ نے کمپنی اور اس کے پانچ عہدیداروں (جن میں ڈائریکٹر بھی شامل ہیں) کی جانب سے دوا سازی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں جاری سمن کو چیلنج دینے والی عرضی کو خارج کر دیا ۔
شنوائی کے دوران بنچ نے کمپنی کے وکیل سے کہا،’آپ کے سیرپ کو بچوں کی موت کے لیے ذمہ دار پایا گیا ہے۔ آپ پر قتل کا مقدمہ بھی چلنا چاہیے تھا… لیکن دائرہ اختیار کی حد نافذ ہے… جائیے، متعلقہ حکام کے سامنے پیش ہوں۔ آپ کو سمن کیا گیا ہے، آپ کو حاضر ہو کر جواب دینا ہوگا۔ آپ کسی بھی طرح کی راحت کے مستحق نہیں ہیں۔’
عدالت نے یہ بھی کہاکہ استغاثہ میں مناسب دفعات شامل نہیں کی گئی ہیں۔
بنچ نے کہا،’ہمیں لگتا ہے کہ مناسب دفعات شامل نہیں کی گئی ہیں۔ آپ کو ان دفعات کے تحت بھی سمن کیا جانا چاہیے تھا… اتنے بچے مر گئے… ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ آپ پر مزید سخت دفعات کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ اگر آپ اس عرضی پر زیادہ زور دیں گے تو ہم یہاں بھی وہ دفعات شامل کر سکتے ہیں۔’
سپریم کورٹ کی مداخلت سے انکار کے بعد اب کمپنی اور اس کے عہدیداروں کو گوتم بدھ نگر کی ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ اشارہ بھی دیا ہےکہ الزامات کہیں زیادہ سنگین فوجداری تحقیقات کا تقاضہ کرتے ہیں۔
یہ عرضی 14 جنوری کو الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، جس میں کمپنی کے افسران اور ڈائریکٹروں کی مجرمانہ نظرِ ثانی کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ یہ درخواستیں گوتم بدھ نگر کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ سمن کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
اخبار کے مطابق، ہائی کورٹ نے اپنے 14 جنوری کے فیصلے میں کہا تھا کہ مجسٹریٹ کی جانب سے جاری سمن میں کوئی غیر قانونی پہلو نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق کمپنی کے امور کے لیے ذمہ دار ڈائریکٹر اور سینئر افسران ایکٹ کی دفعہ 34 کے دائرے میں آتے ہیں اور وہ کمپنی کے کاروباری امور کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ڈائریکٹروں کا روزمرہ کے کام کاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سمن ایک ڈرگ انسپکٹر کی شکایت پر جاری کیے گئے تھے، جس میں ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیاتھا کہ کمپنی نے ‘معیاری سطح سے کم’ ادویات تیار اور فروخت کیں، جن میں ملاوٹ شدہ اور نقلی ادویات سے متعلق جرائم، طریقہ کار کی خلاف ورزیاں اور دفعہ 34 کے تحت کمپنی عہدیداروں کی ذمہ داری شامل ہے۔ تحقیقات میں کمپنی کی تیار کردہ کچھ ادویات کے نمونے معیار سے کم پائے گئے تھے۔
نوئیڈا کی یہ کمپنی اس وقت عالمی تحقیقات کے دائرے میں آئی جب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے میڈیکل الرٹ جاری کر کے ازبیکستان میں 18 بچوں کی اموات کو میرین بایوٹیک کے ڈاک-1 میکس اور ایمبرونول کف سیرپ سے جوڑا تھا۔ تاہم ازبیکستان کی عدالت میں استغاثہ نے متعلقہ کف سیرپ سے جڑی اموات کی تعداد 65 بتائی تھی۔
رپورٹ میں دواؤں میں ایتھیلین گلائیکول — ایک زہریلے صنعتی کیمیکل — کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ڈائی ایتھیلین گلائیکول بھی ایک صنعتی کیمیکل ہے جو انتہائی زہریلا ہوتا ہے اور ادویات میں اس کا استعمال ممنوع ہے۔ دوا سازی میں پروپلین گلائیکول (پی جی) کو بطور سالوینٹ استعمال کیا جانا ہوتا ہے۔
بچوں کی اموات کے بعد ہندوستان کی وزارت صحت نے کمپنی کی مینوفیکچرنگ کومعطل کر دیا تھا، اور بعد میں اتر پردیش انتظامیہ نے اس کا مینوفیکچرنگ لائسنس مستقل طور پر رد کر دیا تھا۔ ہندوستانی حکام نے کمپنی سے وابستہ تین افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔
یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ کمپنی کے ڈسٹری بیوٹرز نے لازمی جانچ سے بچنے کے لیے مقامی حکام کو 33,000 ڈالر کی رشوت دی تھی۔ ریاستی پراسیکیوٹر سید کریم اکیلوف نے الزام لگایا تھا کہ کیورامیکس کے سی ای او سنگھ راگھویندر پرتار کو طبی مصنوعات کے ایکسپرٹائز اور اسٹینڈرڈائزیشن کے لیے ازبیکستان کے حکام کو 33,000 ڈالر ادا کیے تاکہ وہ کمپنی کی مصنوعات کے لازمی معائنہ کو نظر انداز کر دیں۔
