خاص خبر

مزدوروں کی کمی اور بڑھتی لاگت کے باعث ہندوستان کا مینوفیکچرنگ ایکسپورٹ سیکٹر دباؤ میں: رپورٹ

مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں آئی رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی مزدوروں کی کمی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کے سبب ہندوستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر مشکلات سے دو چار ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مزدوروں کی کمی کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔

مغربی ایشیا کے تنازعہ کے دوران 19 مارچ کو گوہاٹی میں ایل پی جی سلنڈر کے لیے قطار میں کھڑے لوگ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین میں آئی رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی مزدوروں کی کمی اور خام مال کی بڑھتی لاگت کے دباؤ کے سبب ہندوستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر مشکلات سے دو چار ہے۔ صنعت کے نمائندوں نے  یہ جانکاری دکن ہیرالڈ کو دی ۔

ہیرو ایکوٹیک لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر گورو منجال نے اخبار کو بتایا کہ مارچ کے مہینے میں ان-پٹ لاگت گزشتہ مہینے کے مقابلے میں 10-15 فیصد بڑھ گئی ہے۔ ہیرو ایکوٹیک لمیٹڈ بھارت کی بڑی سائیکل بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور امریکہ و یورپ کو ایکسپورٹ کرتی ہے۔ منجال نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے لگائے گئے اونچےٹیرف نے بھی تجارت کو متاثر کیا ہے۔

فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (ایف آئی ای او) نے کہا کہ سپلائی چین میں دقتوں کی وجہ سے مارچ میں مرچنڈائز ایکسپورٹ میں 7-10 فیصد کی گراوٹ کا اندازہ ہے۔ ایف آئی ای او کے صدر ایس سی رلہن نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں کل اشیاء کی برآمدات میں 2-3 فیصد کی گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

تاہم، اخبار کے مطابق، انہوں نے اشارہ دیا کہ خدمات کی برآمدات کے سہارے اشیاء اور خدمات کی مشترکہ برآمدات میں 5-6 فیصد اضافہ ممکن ہے۔

اخبار کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 مہینوں میں مرچنڈائز ایکسپورٹ 402.93 ارب ڈالر رہا، جبکہ کل ایکسپورٹ 790.86 ارب ڈالر تک پہنچا۔ اس کے مقابلے میں 2024-25 میں کل برآمدات 825.3 ارب ڈالر تھیں، جن میں سے 437.7 ارب ڈالر مرچنڈائز برآمدات سے حاصل ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، مرکزی وزارت تجارت اس ہفتے کے آخر میں مارچ اور پورے مالی سال 2025-26 کے تجارتی اعداد و شمار جاری کرنے والی ہے۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مزدوروں کی کمی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسٹ مین کے نائب صدر سنجو ٹنڈن نے بتایا کہ فروری کے آخر اور مارچ کے آغاز میں ہولی کی چھٹیوں پر گئے کئی مزدور اب تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔ دیگر صنعتی نمائندوں نے بھی کہا کہ مزدور مایوس ہو کر اپنےگاؤں لوٹ  رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دی وائر نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اتر پردیش میں ایکسپورٹرز اور فیکٹری مالکان کو انڈسٹریل ایل پی جی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ حکومت مستحکم سپلائی کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ اس قلت سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور لاگت بڑھ رہی ہے۔ گجرات کے موربی سے بھی ایسی خبریں آئی ہیں، جہاں فیکٹری مالکان نے مہاجر مزدوروں سے اپنے گھروں کو واپس جانے کو کہا ہے۔

دی وائر نے اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں ان صنعتوں کا بھی ذکر کیا تھا، جن پر مغربی ایشیا کی کشیدگی کا براہ راست اثر پڑا ہے۔ ان میں لکھنؤ کی چکن کاری صنعت، فیروزآباد کی شیشہ سازی کی صنعت، کشمیر کی دستکاری، چندی گڑھ کے ایم ایس ایم ای اور ہاسپیٹیلٹی سیکٹر، اور کنڈوم انڈسٹری وغیرہ شامل ہیں۔

ایکسپورٹرز نے اخبار سے لاجسٹکس سے متعلق مسائل کا بھی ذکر کیا، جن میں مال برداری کے کرایوں میں اضافہ اور شپنگ کنٹینرز کی محدود دستیابی شامل ہیں۔ ڈی آر آر کے فوڈز کے امت مارواہا نے بتایا کہ لاجسٹکس اور ادائیگی کے تصفیے سے متعلق مسائل کے باعث چاول کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مغربی ایشیا میں شروع ہونے والے تنازعہ کے سبب مارچ کے آغاز سے ہی ایران، عراق اور جی سی سی ممالک جیسے بازاروں کو باسمتی چاول کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اگرچہ حالیہ جنگ بندی اور امریکہ-ایران سفارتی بات چیت سے کچھ راحت کے آثار نظر آئے ہیں، لیکن خطے کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر برآمد کنندگان اب بھی محتاط ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، صنعت کے نمائندوں کا ماننا ہے کہ حالات معمول پر آنے میں ابھی کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔