آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر بنائے جانے کی ساتویں برسی کے موقع پر ہوئے احتجاج کے دوران مبینہ ہاتھا پائی کے معاملے میں پولیس نے پی ڈی پی رہنما التجا مفتی کو جانچ میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ پولیس ان پر ڈیوٹی پر تعینات ایک افسر پر حملہ کرنے کا الزام لگا رہی ہے،وہیں پی ڈی پی پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگا رہی ہے۔

پی ڈی پی رہنما التجا مفتی سری نگر کے ایک نجی اسپتال میں۔ (تصویر بہ شکریہ: پی ڈی پی)
سری نگر:جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر بنائے جانے کی ساتویں برسی کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ، جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے کارکنوں اور جموں و کشمیر پولیس کے درمیان تصادم میں تبدیل ہو گیا تھا، اس کے دو دن بعد پی ڈی پی رہنما التجا مفتی کو پولیس نے جانچ میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایس کے پارک میں احتجاج کے دوران ایک پولیس افسر پر حملہ کیا تھا۔
یہ سمن ایسے وقت جاری کیا گیا ہے، جب 4 اگست کے واقعہ پردونوں فریقوں کے الگ الگ دعوے سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ التجا مفتی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں پر حملہ کیا، جبکہ پی ڈی پی کاکہنا ہے کہ پولیس نے ہی التجا مفتی کے ساتھ مارپیٹ کی۔
پارٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایک خاتون کے خلاف مرد پولیس اہلکاروں نے جسمانی طاقت کیوں استعمال کی۔
پولیس کے مطابق، یہ احتجاج پی ڈی پی نے منعقد کیا تھا، جس کی قیادت سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور ان کی بیٹی التجا مفتی کر رہی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب مظاہرین لال چوک کی طرف مارچ کرنے لگے تو علاقے میں نافذ پابندیوں کی خلاف ورزی روکنے کے لیے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔
کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ التجا مفتی نے سرکاری ڈیوٹی کر رہے ایک پولیس افسر کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ امن برقرار رکھنے کی بار بار اپیل کے باوجود کچھ مظاہرین نے ریزیڈنسی روڈ بند کرنے اور لال چوک کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔
ایک پولیس افسر نے کہا،’معاملے کی جاری جانچ کے تحت التجا مفتی کو قانون کے مطابق کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں پیش ہو کر تفتیش میں شامل ہونے کا سمن جاری کیا گیا ہے۔‘
’لال چوک تک پُرامن مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے گھسیٹا‘
پی ڈی پی نے پولیس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران التجا مفتی کے خلاف بہت زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔
احتجاج کے بعد انہیں سری نگر کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔
پارٹی کی جانب سے جاری تصویروں میں ان کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشان دکھائی دیے۔ علاج کے بعد انہیں جمعرات (6 اگست) کی رات اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔

پی ڈی پی کی طرف سے شیئر کی گئی تصویروں میں التجا مفتی کے پیروں پر چوٹ کے نشان نظر آئے۔ جمعرات کی رات دیر گئے (6 اگست) کو علاج کے بعد انہیں چھٹی دے دی گئی۔ (فوٹوبہ شکریہ: پی ڈی پی)
واقعہ کے ایک عینی شاہد ہونے کا دعویٰ کرنے والے پی ڈی پی کے ایک کارکن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ التجا مفتی پُرامن طریقے سے لال چوک جانے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن پولیس نے انہیں زبردستی گھسیٹنا شروع کر دیا۔
انہوں نے لکھا،’انہیں تقریباً آدھے گھنٹے تک گھسیٹا گیا جبکہ ہمیں ان سے 30 میٹر سے زیادہ دور رکھا گیا۔ جب بھی ہم ان کے قریب جانے کی کوشش کی، پولیس نے ہمیں دھکا دیا،پیٹا اور ہمارے فون چھین لیے۔ ان کے جسم پر آئے نشان بذات خود پوری کہانی بیان کر رہے ہیں۔‘
پارٹی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ تصادم کے دوران مبینہ طور پر مرد پولیس اہلکاروں نے التجا مفتی کو کیوں پکڑا۔
احتجاج میں شامل پی ڈی پی کے ایک کارکن نے سوشل میڈیا پر لکھا،’اگر ایف آئی آر کے الزامات کو درست بھی مان لیا جائے، تب بھی یہ اہم سوال ہے کہ کیا کسی خاتون کو قابو کرنے کے لیے مرد پولیس اہلکاروں کا جسمانی طاقت استعمال کرنا قانون کے مطابق تھا؟ اگر ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ التجا مفتی نے ایک پولیس اہلکار پر حملہ کیا تو وہ اہلکار ان کے اتنے قریب جسمانی رابطے میں آیا کیسے؟‘
پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عام شہریوں کے ساتھ رویے پر بھی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
کارکن نے کہا،’اگر خواتین کی موجودگی میں اور ایک سابق وزیر اعلیٰ کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو ایک عام شہری اپنے وقار اور قانونی تحفظ کی کیا امید رکھ سکتا ہے؟‘
پولیس کی ایف آئی آر میں محبوبہ مفتی اور التجا مفتی دونوں نامزد
کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 63/2026 بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس)کی دفعہ 132(سرکاری ملازم کو اس کے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال)، دفعہ 121(سرکاری ملازم کو اس کے فرائض سے روکنے کی غرض سے جان بوجھ کر چوٹ یا شدید چوٹ پہنچانا) اور دفعہ 191(2) (فساد) کے تحت درج کی گئی ہے۔
یہ معاملہ گشتی دستے کی قیادت کرنے والے پولیس افسر کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔
شکایت کے مطابق، 4 اگست کی رات تقریباً 9:10 بجے ریزیڈنسی روڈ کے قریب گشت کے دوران پولیس نے دیکھا کہ محبوبہ مفتی اور التجا مفتی کی قیادت میں پی ڈی پی کارکن مرکزی سڑک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین سے درخواست کی گئی کہ وہ سڑک پر جمع نہ ہوں تاکہ ٹریفک متاثر نہ ہو۔ ایف آئی آر میں محبوبہ مفتی اور التجا مفتی کو ملزم بنایاگیا ہے۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس کی اپیل کے بعد مظاہرین مشتعل ہو گئے، انہوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکا مکی کی، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی اور کئی اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔

التجا مفتی سری نگر کے ایک نجی اسپتال میں۔ (تصویر بہ شکریہ: پی ڈی پی)
دی وائر کے پاس موجود ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق، پی ڈی پی کارکنوں کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زخمی اہلکاروں کے انجری فارم تیار کیے گئے اور انہیں طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے اہلکار زخمی ہوئے اور ان کی چوٹوں کی نوعیت کیا تھی۔
’اگر ان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا‘
پی ڈی پی ایم ایل اے وحید الرحمٰن پرا نے دی وائر سے بات چیت میں تصدیق کی کہ التجا مفتی کو جمعہ (7 اگست) دوپہر 2 بجے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔
انہوں نے کہا،’اگر ایک سابق مرکزی وزیر داخلہ کی نواسی کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی کی جا سکتی ہے—ان کے نانا مفتی محمد سعید ملک کے سابق مرکزی وزیر داخلہ اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں—تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہوگا۔‘
