خبریں

جب بینک قرض بانٹ رہے تھے اور وہ این پی اے ہو رہا تھا تو آر بی آئی کیا کر رہا تھا: سی اے جی

بینکوں کے 31 مارچ، 2018 کےحالات  کے مطابق 9.61 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے این پی اے میں صرف 85344 کروڑ روپے زراعت اور متعلقہ شعبے کا ہے جبکہ 7.03 لاکھ کروڑ روپے کی موٹی رقم صنعتی شعبے کو دیے گئے قرض سے جڑا ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا۔ (فوٹو : رائٹرس)

ریزرو بینک آف انڈیا۔ (فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) راجیو مہرشی نے بینکوں کے موجودہ این پی اے (پھنسے ہوئے قرض) بحران میں ریزرو بینک کے رول  کو لےکر سوال اٹھایا ہے۔ مہرشی نے پوچھا کہ جب بینک بڑی  مقدار میں قرض دے رہے تھے جس سے جائیداد اور دین داریوں میں عدم توازن پیدا ہوا اور قرض پھنس گئے (این پی اے ہو گئے) تو بینکنگ سیکٹر  کا ریگولیٹری ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کیا کر رہا تھا؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بینکنگ سیکٹر  کے این پی اے یعنی پھنسا ہوا قرض18-2017 کے خاتمے پر 9.61 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔

مہرشی نے نئی دہلی میں گزشتہ  23 اکتوبر کو ایک پروگرام میں کہا، ‘ بینکنگ سیکٹر  کے موجودہ بحران میں ہم سبھی یہ چرچہ کر رہے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ بینکوں میں نیا سرمایہ ڈالنا، اس کا حل بتایا گیا ہے لیکن یہ سبسیڈی (ریاستی امداد) کے لئے استعمال کیا جانے والا ایک عجیب لفظ ہے۔ لیکن کوئی یہ اصل سوال نہیں پوچھ رہا ہے کہ  ریگولیٹر (ریزرو بینک) کیا کر رہا تھا۔ اس کا رول  کیا ہے، اس کی جوابدہی کیا ہے؟ ‘

مہرشی، آئی ایس ایس پی کے پروگرام میں بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بینکنگ بحران کی سب سے بڑی وجہ بڑی مقدار میں جائیداد (بینکوں کے ذریعے دئے گئے قرض یا بینکوں کی لین داری) اور بینکوں کی دین داری کے درمیان عدم توازن ہونا ہے۔ لیکن اس بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا، اس معاملے میں عام  طور پر گفتگو نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایک ہرے-بھرے بانڈ بازار کی کمی ہے۔ اسی وجہ سے بینکوں کو لمبی مدت والی اسٹرکچرل پروجیکٹس کے لئے قرض دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ جب یہ پروجیکٹ کسی رکاوٹ میں پھنس جاتے ہیں تو ان کے مسئلہ کا اثر بینکوں پر بھی پڑتا ہے۔

سی اے جی  نے یہ بھی کہا کہ بینکنگ بحران کی اصل وجہ کو لےکر عوامی طور پر بحث کی بھی کمی دکھائی دیتی ہے۔ اس میں ریگولیٹر کے رول  کو لےکر کوئی بھی نہ تو بات کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی لکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں میں خود کی سطح پر بدانتظامی اور عوام کی رقم کی چوری آج بینکنگ سیکٹر  کے موجودہ حالات کے پیچھے بڑی وجہ بتائے جا رہے ہیں لیکن اس میں اس سے بھی آگے بہت کچھ ہے جس کو سمجھنا کافی پیچیدہ ہے۔

بینکوں کے 31 مارچ، 2018 کےحالات  کے مطابق 9.61 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے این پی اے میں صرف 85344 کروڑ روپے زراعت اور متعلقہ شعبے کا ہے جبکہ 7.03 لاکھ کروڑ روپے کی موٹی رقم صنعتی شعبے کو دیے گئے قرض سے جڑی ہے۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ شیو پرتاپ شکلا نے یہ جانکاری اس سال 31 جولائی کو دی تھی۔

اس موقع پر 15 ویں  فنانس  کمیشن کے چیئر مین اور سابق ریونیو سکریٹری این کے سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت اکیلے اپنے بل بوتے پر اقتصادی شعبے میں چیزوں کو درست نہیں کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ اقتصادی اصلاح اکیلے مرکزی حکومت کے ذریعے نہیں کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مزدوری میں  اصلاح اور زمین سدھار‌کے معاملوں کو ریاستی حکومت کی صلاحیت پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ اقتصادی اصلاح کے لیے ان کو کون سی تبدیلی ٹھیک لگتی ہے اور قانون کیا بننا چاہیے۔’

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)