The Wire
  • ہمارے بارے میں
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • حقوق انسانی
  • ادبستان
  • گراؤنڈ رپورٹ
  • ویڈیو
  • Support The Wire

تازہ ترین

  • ہائی وے پر نماز کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کی جھوٹی خبر چلانے کے معاملے میں زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ
  • اترپردیش: نجی احاطے میں نماز پڑھنے سے روکنے پر پولیس اور ڈی ایم کو توہین عدالت کا نوٹس
  • اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی
  • قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی
  • این آئی اے کے مقدموں کے وکیل ’اقرار جرم کی درخواستوں‘ کے کھیل کو بخوبی سمجھتے ہیں

ٹاپ اسٹوریز

  • ہائی وے پر نماز کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کی جھوٹی خبر چلانے کے معاملے میں زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ
    ہائی وے پر نماز کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کی جھوٹی خبر چلانے کے معاملے میں زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ
  • اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی
    اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی
  • اترپردیش: نجی احاطے میں نماز پڑھنے سے روکنے پر پولیس اور ڈی ایم کو توہین عدالت کا نوٹس
    اترپردیش: نجی احاطے میں نماز پڑھنے سے روکنے پر پولیس اور ڈی ایم کو توہین عدالت کا نوٹس
  • بابری مسجد مذہب کے لیے نہیں، اقتدار حاصل کر نے کے لیے مسمار کی گئی تھی: آنند پٹوردھن
    بابری مسجد مذہب کے لیے نہیں، اقتدار حاصل کر نے کے لیے مسمار کی گئی تھی: آنند پٹوردھن
  • قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی
    قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی
خبریں

سوئس بینک کے اکاؤنٹ ہولڈروں پر سختی بڑھی، تقریباً50 ہندوستانیوں کو دی جا رہی ہے نوٹس

دی وائر اسٹاف 17/06/2019

شیئر کریں

  • Tweet
  • WhatsApp
  • Print
  • More
  • Email
  • Reddit
  • Pocket

سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے مارچ سے اب تک کم سے کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کو نوٹس جاری کر کےان کی اطلاع حکومت ہند کو دینے سے پہلے ان کو اس کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

(فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں غیراعلانیہ اکاؤنٹ رکھنے والے ہندوستانیوں کے خلاف دونوں ممالک کی حکومتوں نے شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے افسر اس سلسلے میں کم سے کم 50 ہندوستانیوں کی بینک سے متعلق اطلاعات ہندوستانی افسروں کو سونپنے کی کارروائی  کر رہے  ہیں۔ایسے لوگوں میں زیادہ تر زمین-جائیداد، مالی خدمات، ٹکنالوجی، مواصلات، پینٹ، گھریلو آلات آرائش، کپڑا، انجینئرنگ کے سامان اور جواہرات و زیورات کے کاروبار سے جڑے کاروباری اور کمپنیاں شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈمی کمپنیاں بھی ہو سکتی ہیں۔یہ جانکاری دونوں ممالک کے درمیان باہمی ایڈمنسٹریٹو مددکے پروسس میں شامل افسروں نے یہ جانکاری دی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ٹیکس چوروں کی پناہ گاہ کے اپنے ملک کی امیج کو بدلنے کے لئے کچھ سالوں سے کئی اصلاحات کئے ہیں۔ وہ اس سے متعلق سمجھوتہ کے تحت مختلف ممالک کے ساتھ مشتبہ افراد کی  بینکنگ اطلاعات کو شیئر کرنے کی کارروائی  میں جڑ گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے حال میں کچھ ممالک کے ساتھ اطلاعات شیئر کرنے کے  عمل کوتیز کر دیا ہے۔پچھلے کچھ ہفتے کے دوران ہندوستان سے متعلق معاملات میں اطلاعات کے لین دین کے عمل میں زیادہ تیزی آئی ہے۔ ہندوستان میں بلیک منی کا معاملہ سیاسی طور پر حساس ہے۔سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے مارچ سے اب تک کم سے کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کو نوٹس جاری کرکے ان کی اطلاع حکومت ہند کو دینے سے پہلے ان کو اس کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ اس کے بینکوں میں اکاؤنٹ رکھنے والے گراہکوں کی پرائیویسی برقرار رکھنے کو لےکر ایک بڑے عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ لیکن محصول چوری کے معاملے میں عالمی سطح پر سمجھوتہ کے بعد پرائیویسی  کی یہ دیوار اب نہیں رہی۔ اکاؤنٹ ہولڈروں کی اطلاعات شیئر کرنے کو لےکر حکومت ہند کے ساتھ اس نے سمجھوتہ کیا ہے۔ دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے سمجھوتہ کئے گئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ حکومت نے گزٹ کے ذریعے عام کی گئی جانکاریوں میں صارفین کا پورا نام نہ بتاکر صرف نام کے شروعاتی حرف بتائے ہیں۔ اس کے علاوہ صارف کی قومیت اور تاریخ پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے۔ گزٹ کے مطابق، صرف 21 مئی کو 11 ہندوستانیوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔اس سے پہلے سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے 28 مئی کو پوتلوری راجا موہن راؤ کے نام ایک عوامی نوٹس جاری کی تھی۔ ان کو اپیل کرنے کے لئے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جن دو ہندوستانیوں کا پورا نام بتایا گیا تھا ان میں مئی 1949 میں پیدا ہوئے کرشن بھگوان رام چند اور ستمبر 1972 میں پیدا ہوئے کلپیش ہرشد کناریوالا شامل ہیں۔ حالانکہ، ان کے بارے میں دیگر معلومات کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔دیگر ناموں میں جن کے شروعاتی حرف بتائے گئے ہیں ان میں 24 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے ایس بی کے، 9 جولائی 1944 کو پیدا ہوئے اے بی کے آئی، دو نومبر 1983 کو پیدا ہوئی محترمہ پی اے ایس، 22 نومبر 1973 کو پیدا ہوئی محترمہ آر اے ایس، 27 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے پی ایس، 14 اگست 1949 کو پیدا ہوئی محترمہ اے ڈی ایس، 20 مئی 1935 کو پیدا ہوئے ایم ایل اے، 21 فروری 1968 کو پیدا ہوئے این ایم اے اور 27 جون 1973 کو پیدا ہوئے ایم ایم اے شامل ہیں۔ان نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ صارف یا ان کا کوئی مستند نمائندہ ضروری دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ 30 دنوں کے اندر اپیل کرنے کے لئے حاضر ہوں۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)

تازہ ترین

  • ہائی وے پر نماز کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کی جھوٹی خبر چلانے کے معاملے میں زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ
  • اترپردیش: نجی احاطے میں نماز پڑھنے سے روکنے پر پولیس اور ڈی ایم کو توہین عدالت کا نوٹس
  • اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی

شیئر کریں

  • Tweet
  • WhatsApp
  • Print
  • More
  • Email
  • Reddit
  • Pocket

Related

Categories: خبریں

Tagged as: DTA, Federal Court, Federal Tax Administration, FTA, HSBC, HSBC Private Bank, India, Indian account holders, Piyush Goyal, Suisse, Swiss Bank, Switzerland, The Wire Urdu, Urdu News, اردو خبر, ایچ ایس بی سی, ایف ٹی اے, پیوش گوئل, دی وائر اردو, ڈی ٹی اے, سوئٹزرلینڈ, سوئس بینک, فیڈرل بینک, فیڈرل کورٹ, ہندوستان, ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرس

Post navigation

اسرائیل: وزیر اعظم بینجامن نتنیاہو  کی بیوی سرکاری خزانہ کے غلط استعمال کی مجرم قرار
بہار: لو لگنے سے 48 لوگوں کی موت، 100 سے زائد ہاسپٹل میں داخل

Support Free & Independent Journalism

Contribute Now
  • Top categories: خبریں/فکر و نظر/ویڈیو/ادبستان/عالمی خبریں/گراؤنڈ رپورٹ/الیکشن نامہ/حقوق انسانی/خاص خبر
  • Top tags: The Wire/ اردو خبر/ News/ Urdu News/ دی وائر اردو/ The Wire Urdu/ BJP/ دی وائر/ Narendra Modi