حکومت نے عوام کو سمجھانے کا کمال کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اب اگر پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لیجیے کہ خارجہ پالیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈیزل اور مہنگا ہو جائے تو مان لیجیے کہ ہندوستان وشوگرو بننے کی سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھا چکا ہے۔
اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اس میں ’ساکھ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔
ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے؛ گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد کا موسم قربانی‘۔ انتخابات کے دوران شہری ’وکاس‘ کے نعرے سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل اور کفایت شعاری‘ کا سبق پڑھیں گے۔
مجسمے صرف پتھر یا دھات کے ڈھانچے نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ ایک معاشرہ کن نظریات، جدوجہد اور یادوں کو اپنی معاشرت میں جگہ دینا چاہتا ہے۔ جب سیاست حافظے اور یادداشت کے انہدام کی شکل اختیار کر لے، تو پھر کوئی بھی علامت محفوظ نہیں رہتی- نہ لینن، نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ امبیڈکر۔
لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ’ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘- سننے میں ایک سادہ سا بیان لگ سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اس سچائی سے آنکھ چرانے جیسا ہے، جسے ملک کا ایک بڑا حصہ روز جیتا ہے۔ آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بستیاں ذات کی بنیاد پرمنقسم ہیں اور یہ تفریق صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں ہے۔
مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔
راجیہ سبھا ایم پی منوج کمار جھا نے راہی معصوم رضا کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے یہ جذبات سے لبریز خط لکھا ہے۔ اس میں رضا کی ادبی وراثت، ان کی انسانی بصیرت اور آج کے زمانے میں ان کے الفاظ کی معنویت پر اپنائیت سے غور کیا گیا ہے۔
بہار میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ڈرامے کا مرکزی کردار اسٹیج پر تو موجود ہے، مگر اپنی ہی کہانی سنانے سے قاصر ہے۔ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کے عروج کے ساتھ جو سیاسی ڈراما سامنے آیا تھا، وہ اسی طرح کی سیاست کا ایک خاکہ تھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہانی کا دہراؤ کم اور ایک نئی تشریح کی طرح زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
اگر رام ناتھ گوئنکا زندہ ہوتے اور آج کی ‘غیر اعلانیہ ایمرجنسی’ کے حوالے سے اخبار کے مالکان اور مدیران کو خط لکھتے، تو شاید یہ کہتے کہ وہ پریس جو آزاد ہونے کی اجازت کا انتظار کرتی ہے، اس نے اپنی مرضی سے عمر بھر کا قیدی بننے کا انتخاب کیا ہے۔ اور وہ مدیر جو سچائی سے منہ موڑتا ہے، اس کو اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
سال 1975کی ایمرجنسی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر درج ہے۔ لیکن آج کی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ یہ جمہوریت کے لبادے میں جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ انتخابات اب صرف ووٹ ڈالنے کے عمل تک محدود ہیں اور یہ عمل بھی کئی سطحوں پر داغدار ہے۔
اگر آج مہاتما گاندھی زندہ ہوتے، تو فلسطین جیسی مظلوم قوم کے تئیں ہندوستان کی خاموشی پر کیا کہتے؟ یہاں راجیہ سبھاممبرمنوج کمار جھا گویا گاندھی کی روح کو لفظوں کا پیرہن عطا کر رہے ہیں۔
جدوجہد آزادی صرف برطانوی راج کو ختم کرنے کے لیے نہیں تھی۔ یہ اپنے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے، بے اختیار لوگوں کو بااختیار بنانے اور ایک منصفانہ اور جامع معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک تہذیبی تحریک تھی۔ ہندوستان کو دوبارہ انہی جذبات کی ضرورت ہے…
اگر اعلیٰ ذات یا اشرافیہ کو آئینی اور مساوی حقوق پر مبنی معاشرے کے مطابق اپنے عالمگیر فلسفہ کو ڈھالنا ہے، تو انہیں اپنے حق خصوصی پر سوال اٹھانے ہوں گے۔
ہندوستان جیسے ثروت مند ملک میں جہاں تمام مذاہب کے لوگ عزت ووقار سے رہتے ہیں اور آپ سے ترغیب شدہ ہمارا آئین سب کو برابری کا حق دیتا ہیں۔ یہاں مذہب کی بنیاد پر پناہ گزینوں میں فرق ہو رہا ہے اور شہریت عطا کرنے میں گھٹیا دائرے سے مذہبی بنیاد کو دیکھا جانےلگا ہے باپو!اس نئے قانون کے بعد آپ کے ہم سفرساتھیوں کے ذریعے تشکیل دی گئی آئین کی تمہیدبیگانی سی لگ رہی ہے۔