Author Archives

شروتی شرما

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

کانگریس کو اڈانی-امبانی سے پیسہ ملنے کا دعویٰ: لوک پال نے مودی کے اس دعوے کو ’انتخابی پروپیگنڈہ‘ بتاتے ہوئے خارج کیا

لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ٹیمپو میں بوریاں بھر کر امبانی اور اڈانی سے پیسے لے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ اس دعوے پر لوک پال کا تبصرہ مودی کے سیاسی بڑبولے پن کو اجاگر کرتا ہے۔

مقتول لڑکی کے والد اور دادی۔ (تمام تصویریں: شروتی شرما/دی وائر)

’پولیس چوکی کے سامنے ہوا ریپ اور انہیں بھنک تک نہیں لگی، اس سے مجرموں کے حوصلے بلند ہوں گے‘

بتایا جا رہا ہے کہ 27 جون کو دہلی کے نریلا میں ایک 9 سالہ بچی کے ساتھ گینگ ریپ کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، جس جگہ سے بچی کی لاش ملی اس کے بالکل سامنے پولیس چوکی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

نریندر مودی کی نئی حکومت میں مسلمانوں پر حملے کا نیا سلسلہ

یہ خیال کرنا غلط ہوگا کہ انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات کم ہوگئے تھے۔ دراصل زبانی طور پر اور اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعے تشدد کے واقعات رونما ہوئے، جنہیں وزیر اعظم اور بی جے پی کے دوسرے بڑے لیڈران انجام دے رہے تھے۔

شمال-مشرقی دہلی کی ایک گلی۔ (تمام تصویریں: شروتی شرما)

لوک سبھا انتخابات: 2020 کے فسادات کے بعد پہلے الیکشن میں کس کو منتخب کریں گے شمال-مشرقی دہلی کے رائے دہندگان؟

گراؤنڈ رپورٹ: 2020 میں فسادات کی زد میں آنے والے پارلیامانی حلقہ شمال-مشرقی دہلی کے رائے دہندگان منقسم ہیں۔ جہاں ایک طبقہ بی جے پی کا روایتی ووٹر ہے، وہیں کئی لوگ فرقہ وارانہ سیاست سے قطع نظر مقامی ایشوز پر بات کر رہے ہیں۔ یہاں بی جے پی کے منوج تیواری اور ‘انڈیا’ الائنس کے کنہیا کمار کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔

اروند کیجریوال چاندنی چوک لوک سبھا سیٹ سے کانگریس امیدوار جے پی اگروال کے لیے مہم چلاتے ہوئے۔ (تصویر بہ شکریہ: AAP/Facebook)

دہلی لوک سبھا انتخابات: کیا ’انڈیا‘ الائنس بی جے پی کی جیت کی مہم کو روک پائے گا؟

اگرچہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی قومی راجدھانی میں ایک ساتھ ہیں، لیکن کئی پارلیامانی حلقوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لوگ اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کو ہی بی جے پی کے لیے اہم چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دہلی میں 25 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔

مبینہ انکاؤنٹر کے اگلے دن بیجاپور ضلع ہیڈکوارٹر پر احتجاج کرنے پہنچے لوگ۔ (تصویر: پشپا روکڑے)

’بیجاپور انکاؤنٹر فرضی، مہلوکین کا ماؤنوازوں سے کوئی تعلق نہیں‘

چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع میں سیکورٹی فورسز نے 10 مئی کو ایک انکاؤنٹر میں 12 مبینہ ماؤنوازوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 12 میں سے 10 پیڈیا اور ایتوار گاؤں کے رہنے والے تھے اور کھیتی-باڑی کیا کرتے تھے۔