قومی دارالحکومت دہلی کے ایک وکیل نے جنوب-مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو بھیجی گئی شکایت میں الزام لگایاہے کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جب وہ جنتر منتر جانے کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کی مدد کے لیے نظام الدین تھانے پہنچے، تو پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ پولیس نے یہ کہتے ہوئے کہ انہیں حراست میں لینا غیر قانونی نہیں تھا، مار پیٹ کے الزام سے انکار کیا ہے۔
کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں تین مسلم خواتین کو ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے شبہ میں ان کی رسوئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، جس گوشت کو’گائے کا گوشت‘ بتاتے ہوئے پولیس نے کارروائی کی، اس کے بارے میں تصدیق نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والا گوشت کس جانور کا تھا۔ خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش کی وجہ سے انہیں سازش کے تحت پھنسایا ہے۔
نوئیڈا مزدور تحریک کے معاملے میں ایک نابالغ کو دو مہینے تک بالغ قیدیوں کے ساتھ جیل میں رکھے جانے پر دی وائر کی رپورٹ کا این ایچ آر سی نے نوٹس لیا ہے۔ اس کے بعد گوتم بدھ نگر پولیس نے مذکورہ لڑکے کو ’دنیش‘ کہتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بالغ ہے۔ دنیش نابالغ کے بڑے بھائی ہیں اور ان کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں ایک ویڈیو میں اپنے بھائی کے ذریعے ان کا آدھار کارڈ چوری کرکے نوکری کرنے کی بات قبول کرنے کوکہا ہے۔
نوئیڈا مزدور تحریک معاملےمیں 14 اپریل کو حراست میں لیے جانے کے بعد ایک نابالغ لڑکے کو تقریباً دو مہینے تک بالغ ملزمین کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔ میڈیکل جانچ میں نابالغ ثابت ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد اسے جووینائل ہوم بھیجا گیا۔ 29 مئی کو ضمانت مل جانے کے بعد بھی وہ اب تک باہر نہیں نکل سکا ہے کیونکہ اہل خانہ کے پاس ضمانت بھرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
نوئیڈا مزدور تحریک سے متعلق معاملے میں کئی افراد کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارروائی پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ اہل خانہ اور وکیل الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں مناسب قانونی عمل کے بغیر حراست میں لیا گیا۔ پولیس اسے سازش قرار دے رہی ہے۔ یہ معاملہ اب مزدوروں کے حقوق سے آگے بڑھ کر شہری آزادیوں کی بحث بن گیا ہے۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی میں گزشتہ ہفتے 30 سے زائد طلبہ بیمار ہو گئے۔ طلبہ کے مطابق، میس کا کھانا کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ انتظامیہ اسے ہیٹ اسٹروک قرار دے رہی ہے۔ اس دوران، کیمپس کے ہیلتھ سینٹر میں ایک طالبہ کو علاج کے دوران ایکسپائرڈ ڈرپ چڑھائے جانے کے بعد لاپرواہی کے الزامات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی نے ایک نوٹس میں گیس سپلائی کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے میس کا نظام متاثر ہوا ہے اور مینو میں کمی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال مرکزی حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے، جس میں ملک میں ایل پی جی کی وافر دستیابی کی بات کہی گئی تھی۔
انڈیا ہیٹ لیب کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2025 میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے 13فیصد اور 2023 کے مقابلے 97 فیصد زیادہ ہیں۔ مجموعی طور پر ریکارڈ شدہ تقاریر میں سے 98 فیصد مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی ہیں۔ وہیں، بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں سب سے زیادہ ہیٹ اسپیچ کا مشاہدہ کیا گیا۔
سنبھل تشدد کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چندوسی کی عدالت نے اس وقت کے سی او انج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، سنبھل پولیس نے اس حکم نامے کو’ غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
طالبان مقتدرہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی ہندوستان کے آٹھ روزہ دورے پر ہیں۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ طالبان کا ہندوستان کا اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری اور سلامتی کے مفادات کو آگے بڑھانے کا صحیح وقت ہے۔
ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔
’وقت کے ساتھ میں نے اپنی شناخت کو چھپانا شروع کر دیا ہے۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں، تو میں کہتی ہوں – یہیں دلی سے۔‘
ایمس کے جئے پرکاش نارائن اپیکس ٹراما سینٹر کی وجہ سے حکومت کو تقریباً 50 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے ایک کمپنی کی ادائیگی کو طویل عرصے تک التوا میں رکھا، جس کے نتیجے میں ایک لمبی قانونی لڑائی چلی، لیکن ایمس کو ہر قدم پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وزارت صحت نے ایمس کو نوٹس بھیجا تو ایمس نے جواب تک نہیں دیا۔
اس الیکشن میں شکست کے باوجود عآپ نے زیادہ تر مسلم اکثریتی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ مسلم ووٹ کچھ حد تک عآپ سے الگ ہوگیا ہے، گزشتہ انتخابات میں ان 10 مسلم اکثریتی سیٹوں میں سے 9 سیٹیں عآپ کے پاس تھیں، جبکہ اس بار کے الیکشن میں عآپ صرف 7 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
سنبھل کے کھگگو سرائے میں ‘دریافت کیے گئے’ مندر کے قریب رہنے والے مسلم خاندان کے مطابق، انتظامیہ ان کے گھر کو گرانا چاہتی ہے، کیونکہ یہ مندر کی پری کرما (طواف) میں رکاوٹ ہے۔ متاثرہ خاندان کے احتجاج کرنے پر پولیس نے گھر کے مالک محمد متین کو 16 جنوری کو گرفتار کر لیا تھا۔
سنبھل کی شاہی جامع مسجدسے ملحقہ زمین خالی ہوا کرتی تھی۔ تشدد کے بعد انتظامیہ نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا اوریہاں ستیہ ورت پولیس چوکی کی تعمیر شروع کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نام سنبھل کی ‘مذہبی اور تاریخی اہمیت’ کو ظاہر کرتا ہے۔
جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کی تاریخ میں آج تک کوئی بھی پارٹی دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی، بہار سے الگ ہونے والی اس ریاست کے انتخابی نتائج پرحکومت مخالف لہر ہمیشہ حاوی رہی ہے، لیکن درج فہرست ذاتوں کے لیےمخصوص 28 اسمبلی سیٹوں میں سے 27 پرجیت حاصل کرنے جا رہے ہیمنت سورین کی قیادت والا’انڈیا’ اتحاد تاریخ رقم کرنے کی دہلیز پر ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت پر دنیا بھر کے رہنماؤں کے پیغامات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا کس سمت جا سکتی ہے۔
انتخابی میدان میں یہ فتح ونیش کی لڑائی کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ دراصل شروعات ہے۔ جن عزائم کے ساتھ انہیں ایک کھلاڑی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کو عروج پر خیرباد کہتے ہوئے سیاست کا رخ کرنا پڑا، ان کی تکمیل کی راہیں اب یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
نریندر مودی کا یوکرین دورہ اس لیے بھی تاریخی ہے کہ یہ تقریباً 30 سالوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے۔
لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ٹیمپو میں بوریاں بھر کر امبانی اور اڈانی سے پیسے لے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ اس دعوے پر لوک پال کا تبصرہ مودی کے سیاسی بڑبولے پن کو اجاگر کرتا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ 27 جون کو دہلی کے نریلا میں ایک 9 سالہ بچی کے ساتھ گینگ ریپ کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، جس جگہ سے بچی کی لاش ملی اس کے بالکل سامنے پولیس چوکی ہے۔
یہ خیال کرنا غلط ہوگا کہ انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات کم ہوگئے تھے۔ دراصل زبانی طور پر اور اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعے تشدد کے واقعات رونما ہوئے، جنہیں وزیر اعظم اور بی جے پی کے دوسرے بڑے لیڈران انجام دے رہے تھے۔
گراؤنڈ رپورٹ: 2020 میں فسادات کی زد میں آنے والے پارلیامانی حلقہ شمال-مشرقی دہلی کے رائے دہندگان منقسم ہیں۔ جہاں ایک طبقہ بی جے پی کا روایتی ووٹر ہے، وہیں کئی لوگ فرقہ وارانہ سیاست سے قطع نظر مقامی ایشوز پر بات کر رہے ہیں۔ یہاں بی جے پی کے منوج تیواری اور ‘انڈیا’ الائنس کے کنہیا کمار کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔
اگرچہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی قومی راجدھانی میں ایک ساتھ ہیں، لیکن کئی پارلیامانی حلقوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لوگ اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کو ہی بی جے پی کے لیے اہم چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دہلی میں 25 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔
چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع میں سیکورٹی فورسز نے 10 مئی کو ایک انکاؤنٹر میں 12 مبینہ ماؤنوازوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 12 میں سے 10 پیڈیا اور ایتوار گاؤں کے رہنے والے تھے اور کھیتی-باڑی کیا کرتے تھے۔