صفائی ملازم

Sewage-Worker-Photo-By-Atul-Howale-The-Wire

آپ کے لیے امرت کال ہے، صفائی ملازمین اور ان کے گھر والوں کے لیے نہیں: بیزواڑا ولسن

ویڈیو: گزشتہ سال سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں میں غلاظت صاف کرنے میں ایک بھی موت نہیں ہوئی۔ تاہم، صفائی کرمچاری آندولن کے کنوینر بیزواڑا ولسن کے مطابق، اسی کام کو کرتے ہوئے گزشتہ پانچ سالوں میں535 افراد کی جان گئی۔ ملک بھر میں صفائی ملازم سیور صاف کرنےکے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس بارے میں بیزواڑا ولسن سے بات چیت۔

)علامتی فوٹو : رائٹرس(

سوچھ بھارت مشن کے دعووں پر  این ایس او کی رپورٹ نے کھڑے کیے سوال

یہ سروے جولائی 2018 سے دسمبر 2018 کے بیچ میں کرایا گیا تھا۔ سوچھ بھارت مشن ڈیٹا بیس کے مطابق اس وقت تک ہندوستان کے 95 فیصد گھر کھلے میں قضائےحاجت سے آزاد ہو چکے تھے۔ حالانکہ این ایس او سروے میں پایا گیا کہ صرف 71 فیصد گھر ہی کھلے میں قضائےحاجت سے آزاد ہو پائے تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سیور میں موت: تقریباً 50 فیصد متاثرین کو ہی ملا 10 لاکھ کا معاوضہ

خصوصی رپورٹ : دی وائر کے ذریعے آر ٹی آئی کے تحت حاصل دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ 1993 سے سال 2019 تک مہاراشٹر میں سیور صفائی کے دوران ہوئی 25 لوگوں کی موت کے معاملے میں کسی بھی متاثرہ فیملی کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔ وہیں، گجرات میں سیور میں 156 لوگوں کی موت کے معاملے میں صرف 53 اور اتر پردیش میں 78 موت کے معاملوں میں صرف 23 میں ہی 10 لاکھ کا معاوضہ دیا گیا۔

علامتی تصویر (فوٹو : رائٹرس)

دہلی  میں 1993 کے بعد سے سیور کی صفائی کے دوران 64 لوگوں کی موت: صفائی کرمچاری کمیشن

سیور کی صفائی کرتے ہوئے مارے گئے ان 64 لوگوں میں ریاستی حکومت نے 46 کی فیملی کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا ہے۔ کمیشن نے دہلی انتظامیہ سے باقی فیملی کو ایک ہفتے کے اندر معاوضہ دینے کو کہا ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ کی مرکز کو پھٹکار، کوئی بھی ملک اپنے لوگوں کو مرنے کے لئے گیس چیمبر میں نہیں بھیجتا

سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک کی آزادی کو 70سال سے زیادہ گزر چکے ہیں لیکن آج بھی ذات پات کو لے کر امتیازی سلوک برقرار ہے۔ ہر مہینے غلاظت صاف کرنےکے کام میں لگے چار سے پانچ لوگ کی موت ہو رہی ہے۔

علامتی تصویر/ فوٹو : رائٹرس

سیور صفائی اہلکاروں‎ کی اموات سے جڑے معاملوں میں کسی کو سزا نہیں ہوئی: حکومت

سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ سکریٹری نیلم ساہنی نے قبول کیا کہ سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران صفائی اہلکاروں کی موت کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود ان تمام معاملوں میں 10 لاکھ روپے کے معاوضے کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔

جاہنوی سین/ دی وائر

غلاظت ڈھونے پر روک‌ کے باوجود کم سے کم تین گنا بڑھ گئی غلاظت ڈھونے والوں کی تعداد

سال2018میں18ریاستوں کے170اضلاع میں سروے کرایا گیا تھا۔ اس دوران کل 86528 لوگوں نے خود کو غلاظت ڈھونے والا بتاتے ہوئے رجسٹریشن کرایا،لیکن ریاستی حکومتوں نے صرف 41120 لوگوں کو ہی غلاظت ڈھونے والا مانا ہے۔ بہار، ہریانہ، جموں و کشمیر اور تلنگانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے یہاں غلاظت ڈھونے والا ایک بھی آدمی نہیں ہے۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

اتر پردیش: سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران 3 ملازمین‎ کی موت، 2 کی حالت نازک

یہ معاملہ اتر پردیش کے ہاپوڑ ضلع‎ کا ہے۔ پلکھوا تھانہ حلقہ کے ٹیکسٹائل سٹی میں واقع جی ایس داس کیمیکل فیکٹری میں جمعہ کی دوپہر سیپٹک ٹینک کی صفائی کرنے کے لئے ایک ملازم اترا تھا، جبکہ باقی چار اس کو بچانے کے لئے ٹینک میں اترے تھے۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

نوئیڈا: سیور کھدائی کے دوران دو مزدوروں کی موت

حادثہ نوئیڈا کے سیکٹر 107 کے سلار پور میں ہوا۔ سیور کی کھدائی کرتے وقت پاس کے نالا کا پانی گڑھے میں بھر گیا، جس میں ڈوبنے سے مزدوروں کی موت ہو گئی۔ چھ گھنٹوں کی مشقت کے بعد این ڈی آر ایف کی غوطہ خور ٹیم نے لاشوں کو نکالا۔

TWU_BestOf2018

سال 2018: دی وائر اردو ٹیم کی پسندیدہ اسٹوریز

سال 2018گزرچکا ہے اور ہم ایک نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔گزشتہ ایک سال میں دی وائر اردو نے 2ہزار 600سے زائد اسٹوریز شائع کی ۔ان تما م اسٹوریز کو آپ کے سامنے پھر سے پیش کرنا محال ہےلیکن یہاں 12 ایسی اسٹوریز جو کہ دی وائر اردو ٹیم کو پسند آئیں وہ مع اقتباسات قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہیں ۔ہماری ٹیم کی طرف سے آپ کو نئے سال کی مبارباد۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

میلا ڈھونے والوں کے متعلق حکومتی اعداد و شمار کی حقیقت کیا ہے؟

مرکز کے تحت کام کرنے والا ادارہ نیشنل صفائی کرمچاری فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بتایا کہ 163اضلاع میں کرائے گئے سروے میں 20000 لوگوں کی پہچان میلا ڈھونے والوں کے طور پر ہوئی ہے۔ حالانکہ ادارہ نے یہ اعداد و شمار نہیں بتایا کہ کتنے لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ میلا ڈھونے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔

manual-scavenging_the_hindu

’جب تک ذات پات سے جڑے مسائل حل نہیں ہوں گے تب تک سوچھ بھارت کی بات بھی کیسے ہو سکتی ہے‘

ویڈیو: میلا ڈھونے کے کام سے جڑے مزدوروں کے موجودہ حالات اور بازآبادکاری پر صفائی کرمچاری آندولن کے کوآرڈینیٹر اور میگسیسے ایوارڈ پانے والے بیزواڑا ولسن سے سرشٹی شریواستوا کی بات چیت۔