نریند رمودی

freedom-expression

بی جے پی سے پہلے اظہار رائے کی آزادی پر کانگریس نےحملہ کیا

وزیراعظم نریندر مودی 44 سال پہلے یعنی اسی ماہ جون میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے لیے نہرو، اندرا گاندھی اور کانگریس کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اب مودی اور امت شاہ کی قیادت والی بی جےپی کو ایسے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جن کے مطابق ایمرجنسی جیسے حالات بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے انہیں بنگال میں ممتا کو کنارے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

fake 4

گجرات کانگریس، مغربی بنگال  بی جے پی اور مودی کے دعووں کا سچ

آدی واسیوں کے تئیں مودی کے دعوے کی حقیقت کیا ہے اس کا انکشاف دی وائر نے کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مودی حکومت پچھلے پانچ برسوں میں آدی واسیوں کے حقوق کو ضبط کرنے میں کس طرح آئین ہند کے خلاف جاکر قانون سازی میں ملوث رہی لیکن عوامی احتجاج اور غصے کے باعث حکومت کے یہ منصوبے کامیاب نہ ہو سکے۔

فوٹو بہ شکریہ: سوریہ  سماچار / فیس بک

کیوں پنیہ پرسون باجپئی جیسے لوگوں کو عوام کی نگاہ سے الگ کرنا ضروری ہے؟

آخر کیا بات ہے کہ زراعتی معاملہ ہو، اقتصادیا ت کے دوسرے پہلوہوں، یونیورسٹی ہوں یا اسکول، ہندی اخباروں یا چینلوں سے ہمیں نہ تو صحیح جانکاری ملتی ہے، نہ تنقیدی تجزیہ؟ کیوں ساری ہندی میڈیا حکومت کی جئے جئے کار میں مصروف ہے؟

ChiragPatel_PPB

رویش کا بلاگ: چراغ پٹیل کا جلنا، پنیہ پرسون باجپئی کا نکال دیا جانا اور آپ کا خاموش رہنا…

پنیہ پرسون باجپئی کو نکالنے والوں نے آپ کو پیغام بھیجا ہے۔ اب آپ پر ہے کہ آپ خاموش ہو جائیں، ہندوستان کو بزدل انڈیا بن جانے دیں یا آواز اٹھائیں۔ کیا واقعی بولنا اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ بولنے پر سب کچھ ہی داؤ پر لگ جائے۔

Narendra-Modi-Amit-Shah-Media1-1200x600

نریندر مودی اور امت شاہ کیسے اور کیوں کر رہے ہیں میڈیا کی نگرانی

مانیٹرنگ کےطریقوں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مانیٹرنگ کا چہرہ مودی حکومت کی ہی دین ہے ایسا نہیں ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں مانیٹرنگ کے معنی اور مانیٹرنگ کے ذریعہ میڈیا پر نکیل کسنے کا انداز ہی سب سے اہم ہو گیا ہے۔

ماسٹراسٹروک پروگرام

اے بی پی نیوز سے استعفیٰ کی کہانی، پنیہ پرسون باجپئی کی زبانی

اپنے اس مضمون میں ماسٹراسٹروک پروگرام کے اینکررہے پنیہ پرسون باجپئی ان واقعات کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں جن کی وجہ سےاے بی پی نیوز چینل کے منیجمنٹ نے مودی حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دئے اور ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔