کشمیری طلبا

کیا جموں و کشمیر کا نام بدل کر جموں پردیش رکھا جائے گا؟

کئی افواہوں کے درمیان جس افواہ نے واقعی خوف و ہراس پھیلایا ہے وہ یہ ہے کہ وادی کشمیر کے کل رقبہ 15520مربع کلومیٹر میں سے 8600مربع کلومیٹر پر جموں اور دہلی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کو بسا کر ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ تشکیل دیے جانے کی تجویز ہے۔ اس کا نام پنن کشمیرہوگا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کشمیری طلبا نے یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنے سے کیا انکار

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آرٹیکل 370 کا فائدہ بتانے کے لیے جموں و کشمیر کے تقریباً 70 کےطلبا و طالبات سے ملاقات کی۔ اس دوران میڈیا کوریج پر مکمل پابندی عائد تھی۔ یہ پروگرام ایک ٹی وی چینل پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا ، لیکن کشمیری طلبا و طالبات کے سوال جواب کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ نشریات روک دی گئی۔

کشمیری طالب علموں کا پڑھائی چھوڑ کر عسکریت پسندی اختیار کرنا، ذمہ دار کون؟

ہندی کے صحافی عام طور پر نیم خواندہ اور غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھیے یا ان سے گفتگو کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ ان کی معلومات اور دلچسپی کا دائرہ ہندی پٹی سے آکے بڑھتا ہی نہیں۔ ان کی نظر میں اسلام، مسلمان، پاکستان، علی گڑھ، اردو، عربی اور اب کشمیر سب ایک ہی ہیں۔ یہ لوگ کشمیر کے مسئلے کو صرف اور صرف دیش بھکتی کے نظریہ سے دیکھتے ہیں اور کشمیریوں کو ایک الگ مخلوق بنا کر پیش کرتے ہیں۔